سر کے بالوں سے امراض معلوم کرنے کا اہم منصوبہ

31

ماہرین ایک عرصے سے کہہ رہے کہ ہمارے بالوں کا انداز اور خود ان کی ساخت، رنگ اور دیگر اشیا میں تبدیلی سے کئی امراض کا پتا لگایا جاسکتا ہے۔ اس ضمن میں جاپان کے بہت بڑے اور معتبر سائنسی ادارے رائکن انسٹی ٹیوٹ نے تحقیق کا آغاز کردیا ہے جس کی بنا پر اگلے چند برس میں قابلِ عمل ٹیکنالوجی وضع کی جائے گی۔

اس ٹیکنالوجی سے بالوں میں ہونے والی تبدیلیوں پر تحقیق کی جائے گی اور امراض کی نشاندہی ممکن ہوسکے گی۔ سائنس دانوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اگلے دو سال میں ایسی ٹیکنالوجی بنالی جائے گی۔ ماہرین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ بالوں کے انداز، ظاہری کیفیت اور دیگر تفصیلات کو پڑھ کر کئی امراض کی پیش گوئی اور شناخت بھی کی جاسکتی ہے جن میں کینسر، ڈیمنشیا اور دیگر اہم بیماریاں شامل ہیں جب کہ دنیا بھر میں بالوں کے ذریعے کسی کے منشیات کے استعمال کو بہت آسانی سے پکڑا جاسکتا ہے۔

اس تحقیق میں جاپانی وِگ ساز کمپنی ایڈرانس کارپوریشن اور یاہو انٹرنیٹ سروس نے مل کر کام شروع کیا ہے جب کہ ٹیکنالوجی کا نمونہ شیمازو کارپوریشن تیار کرے گا۔  اس ٹیم کے سربراہ تاکاشی سوجی نے کہا ہے کہ بالوں کی ساخت اور ان کے اندر موجود اجزا میں تبدیلی سے کینسر اور ذیابیطس کا بھی پتا لگایا جاسکتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی کے بال مہینے میں ایک سینٹی میٹر بڑھتے ہیں تو ایک سال میں بارہ سینٹی میٹر طویل بال کا ٹکڑا دیکھنے سے جسمانی صحت کا اندازہ بہ آسانی لگایا جاسکتا ہے۔

اس منصوبے کے دوران ابتدائی درجے ایک بھرپور ڈیٹا بیس بنایا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں پورے جاپان میں 10 ہزار سے زائد افراد سے 20 سے 30 بال فی فرد جمع کیے جائیں گے اور ان سے سوال نامے بھروائے جائیں گے جن میں ان کے کھانے پینے کے معمولات اور امراض کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

ماہرین کو امید ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے بالوں میں تبدیلی اور دیگر امراض سے تعلق سمجھنے کی راہ ہموار ہوسکے گی۔