ابدی زندگی

40

تحریر۔۔۔ زکیر احمد بھٹی
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں آج جس قدر کرپشن ،چوری، ڈکیتی، قتل و غارت ،لوٹ کھسوٹ ،مساجد و درسگاہوں میں بم دھماکے،دہشت گردی کے واقعات واقعات تسلسل کے ساتھ ہو رہے ہیں مہنگائی ہے کہ بجائے رکنے کے اور بڑھ رہی ہے مہنگائی کا جن بوتل سے پوری آب و تاب کے ساتھ نکل کر عوام کو ڈسے جا رہا ہے اوپر سے امریکی صدر ٹرمپ کے ایک ٹویٹ نے پورے ملک میں ایک ہل چل مچا رکھی ہے امریکی صدرنے پاکستان کی مخالفت میں ایک بیانہ دے کر نہ صرف اپنے پاگل ہونے کا ثبوت دیا بلکہ پاک امریکہ تعلقات میں کشیدگی کو جنم دیا پورے خطہ میں ایک نئی بحث کا آغاز کردیا گیا اس کے نقصانات کا تذکرہ ہو رہا ہے امریکی حکام بالخصوص ٹرمپ وطن عزیز کے ازلی دشمن بھارت کو خوش کرنے کی کوشش کررہا ہے، پاکستان مخالف بے بنیاد الزمات افسوس ناک ہیں پاکستان اب تک دہشت گردی کے خلاف 70ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دئے چکا ہے۔ افواج پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ملک پر جب بھی کڑا وقت آیا پاک فوج نے منہ توڑ جواب دیا ہماری حکومت کو اندرونی مسائل کا تو سامنا تھا ہی لیکن پاک امریکہ کشیدگی سے حکومت کے مسائل میں اضافہ ہوگیا ہے ہم اللہ تعالیٰ کہ پاک ذات پر بھروسہ تو کرتے نہیں آج کل جو اپنے آپ کو کالے جادو کے پیروکار کہتے ہے ان کے پیچھے اپنی محنت کہ کمائی کے علاوہ اپنی عصمت دری بھی کروا بیٹھتے ہے ہمیں پتہ بھی ہے کہ وہ دولت کیسے کمائی ہوئی ہے جو ہم ادا کر رہے ہے آج ہم ہر چیز میں ملاوٹ کرتے ہے ایک خون ہی تھا باقی جو انسان کو کچھ زندگی کے پل دیتا ہے اس میں بھی ہم نے ملاوٹ شروع کر دی ہے ایک طرف تو ہم آئے روز ہر اسلامی تہوار بڑے دھوم دھام سے مناتے ہے پھر بھی ہمارے اوپر آئے روز چھوٹی چھوٹی قیامتیں ٹوٹتی رہتی ہیں ابھی کچھ دن پہلے ہی پشاور کے ایک سکول میں جو واقعہ پیش آیا وہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا ہمارے ملک میں کس چیز کی کمی ہے پھر بھی آئے روز ہمارے حکمران دوسرے ملکوں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کہتے ہے ہمارے ملک میں بہت برے حالات ہے ہماری مدد کریں اور جو قرضے حکمران لے کر آتے ہے وہ حکومت نے نہیں ہم نے ہی ادا کرنے ہے اور آنے والی نسلوں کو قرضے کے بوجھ تلے اور زیادہ دبا دیا جاتا ہے آخر ہمارے ساتھ ایسا کب تک ہوتا رہے گا آج جو کچھ بھی ہو رہا ہے اور کے پیچھے ایک ہی وجہ ہے کہ ہم دین اسلام کے سنہری اور لازوال اصولوں کو چھوڑ کر دنیا کی رنگینیوں میں الجھ کر رہ گئے ہیں حالانکہ حضرت انسان کو اس بات کا پتا بھی ہے کہ یہ دنیا کی زندگی محض ایک سفر ہے اور اس عارضی زندگی کے لئے ہم ہر جائز و ناجائزکام کرنے میں کبھی بھی عار محسوس نہیں کرتے رب کائنات نے مسلمانوں کو دنیا میں بھلائی اور نیکی کا راستہ اختیار کرنے کا حخم دے رکھا ہے اور ساتھ ہی یہ وعدہ بھی کیا ہے اگر دنیا میں نیکی کے راستے پر چلو گے تو آخرت میں اس کا بڑا اجر دیا جائے گا اور پھر آخرت کی زندگی نی ختم ہونے والی زندگی ہے جبکہ دنیا کی دنیا کو عارضی زندگی کہا گیا ہے ہم کتنی خود فریبی میں مبتلا ہیں عارضی زندگی کے لئے سبھی کچھ کر گزرتے ہیں جو ابدی زندگی ہے اس کے لئے کچھ بھی نہیں کر پاتے دین اسلام تو ہے ہمارے پاس مگر دل میں نہیں ہے ہم نماز تو ادا کرتے ہے مگر عمل نہیں کرتے اور یہ سب کچھ ایسا تب تک ہوتا رہے گا جب تک ہم اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگیوں کو نہیں ڈھال لیتے اور اسلامی تعلیمات پر اس وقت تک عمل نہیں ہو سکتا جب تک ہم اپنے دلوں سے لالچ کو ختم نہیں کر سکتے رب کائنات سے دعا ہے ہم سب اسلام کے سنہری اور لازوال اصولوں پہ عمل پیرا ہوکر دنیاوی زندگی کے ساتھ ساتھ ابدی زندگی میں بھی کامیابی حاصل کریں آمین ثم آمین۔