امریکی افواج کا چمگادڑ ڈرون بنانے کا منصوبہ

38

امریکی افواج اور محکمہ دفاع نے ایک اہم مقابلے کا اعلان کیا ہے جس میں یونیورسٹی کے ماہرین اور ٹیکنالوجی کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ایسے ڈرون حشرات اور مشینی چمگادڑیں بنائیں جو کم سے کم انسانی مداخلت کے ساتھ فضا میں پرواز کرکے اپنے اہم امور انجام دے سکیں۔

اس مقابلے کا مقصد قومی سلامتی اور ملکی دفاع کے وہ اہداف حاصل کرنا ہےجو عام ایجادات سے ممکن نہیں۔ اس ہفتے پینٹاگون اور دیگر اداروں نے مل کر ’ڈیفنس انٹر پرائز سائنس انیشی ایٹو‘ کا آغاز کیا ہے اور اس کے تحت 60 کروڑ روپے کی ابتدائی رقم مختص کی گئی ہے۔

منصوبے کے تحت ماہرین سے کہا گیا ہے کہ وہ اڑنے والے کیڑوں اور چمگادڑوں کے ماڈل پر ایسے ڈرون بنائیں جو بہت حد تک آزاد اور انسانی مداخلت کے بغیر پیچیدہ پرواز کرسکیں اور ان کے لیے اہم مٹیریلز بھی تیار کیے جائیں۔ محکمہ دفاع نے اپنے اعلان میں یہ بھی کہا ہے کہ اس نظام سے متعلق سنسر، منی ایچر ٹیکنالوجی، فلائٹ کنٹرول اور دیگر اہم نظاموں کو تیار کیا جائے تاکہ یہ روبوٹ خود مختار انداز میں کام کرسکیں۔ جانوروں سے متاثر روبوٹ اور پرواز کرنے والے حشرات کی تیاری کا مقصد یہ ہے کہ وہ عام ڈرونز اور کواڈ کاپٹر سے مختلف انداز میں کام کریں اور ان کا مشن بھی خفیہ رہے۔

محکمہ دفاع نے جانور جیسے ڈرون میں ایک اور اہم شے کی خواہش ظاہر کی ہے اور وہ ہے انہیں ’پاور بیم‘ کے قابل بنایا جائے تاکہ وہ لیزر، مائیکرو ویو یا کوئی الیکٹرو میگنیٹک فری کوئنسی والی شعاع خارج کرکے کسی جگہ توانائی پہنچا سکیں۔

لیزر والی ڈرون چمگادڑیں عام جامد ڈرون سے کئی گنا بہتر ثابت ہوسکتی ہیں۔ ان سے ٹارگٹ کلنگ اور جاسوسی دونوں کا کام لیا جاسکتا ہے مختصراً یہ ڈرون توانائی زمین سے حاصل کریں گے اور فضا میں خود مختار انداز میں اڑ سکیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ زمین پر موجود اہداف کو لیزر سےنشانہ بناسکیں گے۔