ایرانی بندرگاہ کے ذریعے خطے پر بالادستی کا بھارتی خواب چکناچور

5

غیر ملکی کمپنیوں نے ایرانی بندرگاہ میں سرمایہ کاری سے انکار کردیا ہے جس کے نتیجے میں چابہار کے ذریعے خطے پر بالادستی قائم کرنے کے مذموم بھارتی عزائم خاک میں مل گئے ہیں۔ 

بھارت نے پاکستانی بندرگاہ گوادر کی ترقی میں رکاوٹ بننے کے جو خواب دیکھتے تھے وہ چکنا چور ہونے لگے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایران پر دوبارہ امریکی پابندیاں عائد ہونے کے امکان کی وجہ سے مغربی کمپنیوں نے چابہار بندرگاہ کے لیے بھارت کو آلات بیچنے سے انکار کردیا۔

خلیج عدن میں واقع چابہار بندرگاہ آبنائے ہرمز تک پہنچتی ہے، جس کے ذریعے بھارت نے پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے وسطی ایشیا اور افغانستان تک براہ راست رسائی کا منصوبہ بنایا ہے۔ بھارت اور ایران کے درمیان چابہار میں 50 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدہ پر دستخط ہوئے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے تاہم بندرگاہ کو تعمیر کرنے والی سرکاری بھارتی فرم تاحال آلات بشمول کرینوں اور فورک لفٹس کی فراہمی کا ایک ٹینڈر بھی منظور نہیں کرسکی ہے۔

بھارتی حکام کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران سے متعلق رویہ جارحانہ ہے جس کی وجہ سے امریکی پالیسی میں غیر یقینی پائی جاتی ہے۔

جیٹی اور کنٹینر ٹرمینل کا تعمیراتی سامان بنانے والے سوئس انجینئرنگ گروپ لائبہر اور فن لینڈ کی دو کمپنیوں کون کرینز اور کارگو ٹیک نے بھارت کی سرکاری کمپنی انڈیا پورٹس گلوبل پرائیوٹ لمیٹڈ کو آگاہ کیا کہ وہ چابہار کے ٹھیکے میں بولی دینے سے قاصر ہیں کیونکہ ان کے بینکوں نے امریکی پالیسی کی غیر یقینی کے باعث ایرانی منصوبوں میں ٹرانزیکشنز کی سہولت فراہم کرنے سے انکار کردیا۔

بھارتی حکام نے بتایا کہ نوبت یہ آچکی ہے کہ ہم ٹھیکیداروں کے پیچھے بھاگتے پھر رہے ہیں۔ بولی دہندگان کی عدم دلچسپی کی وجہ سے بعض ٹینڈرز تین تین بار جاری کیے جاچکے ہیں۔  تاہم اب تک صرف ایک چینی کمپنی زیڈ پی ایم سی نے ہی کچھ سامان فراہم کرنے کی پیش کش کی ہے۔