عمران خان کو صادق امین قرار دینے والوں کو سلیوٹ کرتا ہوں: نواز شریف

11

عوام کی خدمت کرنے پر تذلیل کر کے گھر بھیجا گیا، سزا پہلے دی گئی اور الزام اب ڈھونڈا جا رہا ہے: سابق وزیراعظم کا وکلاء سے خطاب

اسلام آباد: (فلک نیوز ) سابق وزیراعظم نواز شریف نے وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا عوام کی خدمت کرنے پر تذلیل کر کے گھر بھیجا گیا، سزا پہلے دی گئی اور الزام اب ڈھونڈا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا عمران خان کو صادق امین قرار دینے والوں کو سلیوٹ کرتا ہوں، آئیں پاکستان اور عوام کیلئے کام کریں، یہ 1999 نہیں بلکہ 2018ء ہے، پلوں کے نیچے سے بہت پانی گزر چکا ہے۔

نواز شریف کا کہنا تھا ہم نے مارشل لاؤں کو قبول کیا اور عدالتوں نے انھیں ویلکم کیا، نظریہ ضرورت پیدا کیا گیا، آمروں کے گلے میں ہار پہنائے گئے، آمروں کو آئین میں ترمیم کرنے کی اجازت دی گئی۔ انہوں نے کہا ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان برداشت نہیں کر سکتے، ہمیں وجوہات تلاش کرنی چاہئیں کہ کیوں ہمیں ایسے الفاظ سے نوازا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا ہم اپنے گریبانوں میں جھانکنے کے لیے تیار نہیں ہیں، وجوہات ہمارے سامنے دیوار پر لکھی ہوئی ہے، جو قومیں اپنا احتساب نہیں کرتیں پھر وہ قومیں ایسا دن دیکھتی ہیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کوئی ایسی عدالت معرض وجود میں ہی نہیں آئی جو آمروں کا ٹرائل کر سکے۔ انہوں نے کہا اپنی بیٹی کے ساتھ احتساب عدالت میں پیش ہوتا ہوں، احتساب عدالت میں ہونے والے مقدمات کا کوئی سر پاؤں نظر نہیں آتا، قوم کو پتا چلنا چاہیے کہ نواز شریف کا ٹرائل کیوں ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا عدالت سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ مجھ پر کیا الزام ہیں، عمران خان کو صادق اور امین قرار دینے والے ججز کو سلوٹ کرتا ہوں، مجھے فرضی اور خیالی تنخواہ پر نکال دیا گیا، 100 روپے کی کرپشن بھی ہوتی تو نظریں اٹھانے کے قابل نہیں ہوتا۔

قبل ازیں احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کسی کو ڈکیٹیٹ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، ساڑھے 4 سالوں سے تحریکوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ذاتیات پر کبھی نہیں جاتا اور نہ ہی جانا چاہیئے۔ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا عمران خان ایک خاندان کی عزت داؤ پر لگا کر خود بزدل بن کر چھپ گئے، اگر انہوں نے ایسی حرکت کی ہے تو کھل کر بتائیں، اب اس خاندان کے بچے وضاحتیں دے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا عمران خان جس تھالی میں کھاتے ہیں اسی میں چھید کرتے ہیں۔