بھارتی سنسر بورڈ نے ’’پدماوت‘‘ پر دل کھول کر قینچی چلادی

10

بھارت کی متنازعہ ترین فلم’پدماوت‘کی مشکلات ابھی ختم نہیں ہوئیں تھیں کہ بھارتی سنسر بورڈ نے قینچی چلاکر فلم کی کہانی کو مکمل طور پر تصوراتی واقعات میں ڈھال دیا۔

ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی کی 190 کروڑ کے بڑے بجٹ سے بننے والی فلم ’پدماوتی‘مکمل ہونے کے باوجود تاحال ریلیز نہیں ہوسکی ہے۔ ہندو انتہا پسندوں نے فلم کی کہانی اور رانی پدمنی کے کردار پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ فلم میں رانی پدمنی کے کردار کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے جب کہ بہت سے تاریخی واقعات کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے لہٰذا اگر فلم ریلیز کی گئی تو ہم سنجے لیلا بھنسالی کا سر اور دپیکا پڈوکون کی ناک کاٹ دیں گے۔ بھارتی سنسر بورڈ نے فلم کا نام ’پدماوتی‘سے تبدیل کرکے ’پدماوت‘ کرنے کی شرط پر فلم کو ریلیز کی اجازت دے دی تھی فلم 25 جنوری کو نمائش کے لیے پیش کی جانی تھی تاہم اب اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ سنسر بورڈ نے صرف فلم کانام ہی نہیں بلکہ فلم کے 300 سینز پر قینچی چلادی ہے، جس کے بعد فلم کی کہانی مکمل طور پر تصوراتی ہوگئی ہے، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ 300 کٹ لگانے کے بعد کہانی میں بچے گا کیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق سنسر بورڈ نےفلم سے دلی، چتوڑ اور میواڑ جیسے نام ہٹادئیے ہیں، لہٰذا 25 جنوری کو سینما گھروں میں شائقین جو فلم دیکھیں گے وہ پوری طرح ایک تصوراتی کہانی پر مبنی ہوگی کیونکہ مختلف جگہوں کے نام ہٹانے کے بعد شائقین سمجھ نہیں سکیں گے کہ یہ تاریخی واقعات آخر کس شہر اور کس مقام پر ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ دیکھنے والوں کو یہ بھی پتہ نہیں چل سکے گا کہ علاؤالدین خلجی کہاں سے آیا اور کس جگہ پر اس کی راجپوتوں کے ساتھ جنگ ہوئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھی بھی فلم کی ایڈیٹنگ کاکام چل رہا ہے۔

سنجے لیلا بھنسالی اگر 25 جنوری کو فلم ریلیز کرنے میں کامیاب ہوگئے تو بھی ان کی مشکلات ختم نہیں ہوئی، ایک طرف تمام تر اقدامات کے باوجود ہندو انتہا پسند راجپوتوں کی تنظیم کرنی سینا نے دھمکی دی ہے کہ اگر فلم ریلیز ہوئی تو سینما گھروں میں توڑ پھوڑ کی جائے گی۔ دوسری طرف اسی دن اکشے کمار کی فلم ’پیڈ مین‘ بھی ریلیز ہورہی ہے۔

بھنسالی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ’پیڈ مین‘ کی ریلیز کو آگے لے جانے کے لیے اکشے کمار سے رابطہ کیا گیاتھا لیکن انہوں نے  صاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ فلم اعلان کردہ تاریخ پر ہی ریلیز کی جائے گی۔