زرد صحافت کا شکار،محترمہ رخسانہ قدیر

12

تحریر: حافظ محمد احمدرضا

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ایک خاص اصول بیان فرمایا ہے کہ جب تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو اس کی خوب چھان پھٹک کرلیا کرو ، ایسا نہ ہو کہ تم اپنے ہی لوگوں کو اس جھوٹی خبر کی وجہ سے نقصان پہنچا لو۔دنیا بھر میں صحافت سے منسلک افراداس بات کا خاص خیال رکھتے ہیں کہ ان کے ملکی تشخص اور قومی اداروں پر کوئی حرف نہ آئے۔ اگرمعاشرے میں کسی سطح پر کوئی غلطی ہوتی ہے توذمہ دار صحافی اس خوبی سے اُس غلطی کی نشاندہی کرتے ہیں کہ غلطی کرنے والے کوخودہی احساس ندامت ہونے لگتا ہے۔مروت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ کسی کی اصلاح مقصود ہو تو علیحدگی میں کی جائے اور اگر تعریف مقصود ہو تو سب کے سامنے کی جائے تاکہ جرم کی حوصلہ شکنی اور خیر کی حوصلہ افزائی ہو۔صحافی برادری اس لحاظ سے قابل داد بھی ہے کہ ظالم کے مقابلے میں یہ مظلوم کی آواز بنتے ہیں۔مگر پاکستان کا معاملہ مختلف ہے کہ یہاں کچھ لوگ اپنی ادارتیذمہ داریوں سے کلیتاًناواقف ہیں۔یہاں معتبر صحافتی اداروں کے ساتھ کچھ ایسے افراد بھی شامل ہوگئے ہیں جن کا مطمع نظر اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ وہ گلی محلہ میں اپنی صحافتی طاقت دکھلا سکیں،قطع نظر اس کے کہ حق پر کون ہے اور کون نہیں۔ ایسی کالی بھیڑیں مجموعی طور پر صحافت کے نام پر ایک بدنما دھبہ ہیں۔اس صورت حال میں ایسے مخلص اور باشعور صحافیوں کی اشدضرورت محسوس ہوتی ہے، جو دن رات قائم ہوتے منفی پراپیگینڈے میں سے سچ نکال کر سامنے لائیں، طاغوتی طاقتوں کے خلاف اپنے قلم سے جہاد کریں،حق ا ور باطل کو واضح کریں اور غیر جانب دار رہتے ہوئے معاملہ کی تہہ تک پہنچیں۔جو افراد ایسا کرتے ہیں، وہ قابل عزت اور قابل احترام بھی ہیں مگر شومئی قسمت کہ اب ایسے مخلص اور ذمہ دار افراد کی جگہ ایسے ملمع کار پائے جاتے ہیں جن کا مقصد ہی لوگوں کی عزتوں سے کھیلنا اور اپنا زور بازو دکھانا رہ گیا ہے۔
موجودہ دور اس لحاظ سے بھی پچھلیدور سے مختلف ہے کہ اب سوشل میڈیا کی بدولت لوگ ایک دوسرے کے کاموں سے زیادہ آگاہ رہتے ہیں، ایک دوسرے سے رابطہ رکھنا، تصاویر، ویڈیوز وغیرہ شئیر کرنا سوشل میڈیا کے عام مشاغل ہیں مگر یار لوگوں نے اس سے کچھ اور مقاصد بھی حاصل کرنے شروع کردیے۔ پہلے زمانوں میں صحافت کا ایک معیار تھا، ایک وقار تھا۔ پاکستان بھر میں چند ایک معتبرصحافتی ادارے تھے اور جو افراد ان صحافتی اداروں سے منسلک ہوتے ، وہ نا صرف اہل بلکہ اپنے ادارے کی پالیسیوں پر بھی پوری طرح کاربند ہوتے۔ لیکن سوشل میڈیا کی صورت میں آج کے بزعم خویش صحافیوں کے ہاتھ ابلاغ کا ایک ایسا خطرناک ذریعہ آگیا ہے جس کی نہ تو کوئی خاص پالیسی ہے اور نہ ہی یہاں کچھ شائع کرنے سے قبل کسی کی اجازت کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔
بدقسمتی تو یہ ہے کہ اخلاق و مروت، دینی اور ملی تقاضوں کوبھی بری طرح پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔اور شرم و حیا کاخون کرتے ہوئے کسی بھی شریف شہری اور عزت دار گھرانے کی کریڈیبلٹی کا خون کردیا جاتا ہے۔ ایسی سیاہ صحافت پر پابندی ہونی چاہیے۔کیونکہ ایسے لوگ مقتدر اور ذمہ دار صحافیوں کو بدنام کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ آپ اسے کیا کہیں گے کہ ایک بزعم خویش صحافی اٹھے اور بغیر کسی ثبوت کے،بغیر کوئی قانونی راستہ اپنائے،صحافت کے پردے میں کسی بھی ذمہ دار سرکاری آفیسر کی عزت کو داغ دار کردے۔ اور سادہ لوح عوام اس سے متاثر ہوکر واویلا شروع کردیں۔
چند دن قبل فیس بک پر میری نظر سے ایسی ہی ایک ویڈیو گزری جس میں محکمہ تعلیم گجرات کے دو اعلیٰ ذمہ دار آفیسرز کے خلا ف پراپیگنڈہ کیا گیا تھا۔ ہمارے صحافی بھائی نے ویڈیو میں ایک عورت کی ریکارڈنگ کی جسے سکول ملازمہ کے طور ظاہر کیا گیا جب کہ وہ خاتون نہ تو سرکاری ملازمہ ہے نہ ہی اس کا براہ راست ان آفیسرز سے تعلق ہے بلکہ وہ اس چوکیدار کی ماں ہے جس کی ڈیوٹی کے دوران سکول سے چوری ہوئی،اور پولیس نے اس الزام میں اسے حراست میں لیا۔خاتون نے اپنے بیٹے کی جدائی اور غم میں ای ڈی او کاشف طاہر اور سکول پرنسپل رخسانہ قدیر پر انتہائی بازاری زبان استعمال کی، جسے بغیر کسی روک ٹوک کے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کردیا گیا۔سوال یہ ہے کہ ایک ایسی عورت کو جس کا بیٹا چوری کے الزام میں پابندسلاسل ہو ، اسے اس انداز میں سامنے لانا اور پھر اس ویڈیو کے کیپشن پر یہ جملہ لکھنا:’’ای ڈی او اور پرنسپل سکول میں رات کو کیا کرتے رہے، سکول ملازمہ کے انکشافات نے تہلکہ مچا دیا‘‘ کیا یہ محض اتفاق ہے یا ان آفیسرز کے خلاف ایک خاص انداز میں چلائی گئی کمپین؟ جواب کچھ بھی ہو! لیکن ویڈیو میں ہی ایک ایسا جملہ بھی شامل ہے جو اس عورت کے تمام الزامات کی قلعی کھولنے کو کافی ہے۔ اس خاتون نے اپنی بات کرتے ہوئے کہا:’’میرا بیٹا واپس آنا چاہیے، بس!‘‘ ۔ ایک ماں کی ممتا کی نظر سے تو یہ بات درست ہے ، لیکن اگر پاکستان بھر کے مجرموں کی مائیں اسی انداز میں ویڈیو میسج ریکارڈ کرانے لگیں اور سرکاری آفیسرز کو بدنام کرکے اپنے بیٹوں کی رہائی کا مطالبہ کرنے لگیں تو کیا ہمارے صحافی بھائی انہیں بھی ایسا ہی پروٹوکول دیں گے؟ یقیناًنہیں۔
رخسانہ قدیر صاحبہ کی شخصیت تعارف کی محتاج نہیں، وہ جس خاندان سے تعلق رکھتی ہیں وہ خاندان گجرات سمیت پورے پاکستان کے لیy فخر کا باعث ہے۔ میری مراد ’’دو نشان حیدر رکھنے والے خاندان‘‘ یعنی میجر عزیز بھٹی شہید علیہ الرحمہ کا خاندان ہے۔خود ان کے والد محترم عبد القدیر بھٹی 1971کی جنگ میں شہید ہوئے ، ان کی والدہ ایک معلمہ تھیں لیکن محکمہ میں ان کی عزت صرف اس وجہ سے نہیں، بلکہ آپ محکمہ تعلیم کے کسی بھی درجہ کے شخص سے معلوم کریں تو آپ کو ان کے لیے ایمان دار، فرض شناس اور ذمہ دار آفیسر جیسی گواہی ملے گی۔ان کا تعلقکھاریاں کا ایک معروف گاؤں سے ہے، جہاں ان کا بچپن ، لڑکپن اور ملازمت کے ابتدائی ایام گزرے ۔ جائیے ، وہاں کے لوگوں سے ان کے کردار کی بابت معلوم کریں، یقیناًہرسمت صاف گواہی ملے گی۔پھرجب وہ بحیثیت معلمہ تعینات رہیں تو گاؤں کی سینکڑوں بچیوں نے ان کے پاس تعلیم حاصل کی، سینکڑوں گھروں سے ان کا واسطہ رہا۔ اس کے بعدگلیانہ میں پرنسپل شپ کا عرصہ ہو یا گجرات کی ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرکا دورانیہ ، ان سے جس کسی کا بھی تعلق رہا، سب نے انہیں ایمان دار اور باکردار پایا۔اس کے باوجود قوم کی ایک بیٹی اورہزاروں بچیوں کی معلمہ کو یوں سرعام بدنام کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔
ایک صحافی کی یہ ذمہ داری ہے کہ اگر اس کے سامنے کوئی مسئلہ آئے تو فریقین کی آراء اور موقف لیا جائے نایہ کہ یک طرفہ موقف سنا، اپنی عدالت لگائی، اور کسی کی بھی کریڈیبلٹی کا خون کردیا۔ایسا کرنا قانونی، اخلاقی ، مذہبی کسی بھی اعتبار سے درست نہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق سمجھنے، حق کہنے اور حق پرعمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین