آزاد کشمیر میں الحادی عناصر کے خلاف اہم کامیابی

6

تحریر: زوہیب احمد زوبی

کس انداز سے شکر ادا کروں اس خالقِ ہر جہاں کا جس نے روز بروز اسلامی آگہی کی اس مہم میں برکت ڈالی اور ہر ابھرتے دن کے ساتھ لادینیت کی اس باد سموم کو الٹے قدموں پھرنے پر مجبور رکھا. الحمدللہ آج آپ معزز قارئین سے کامیابیوں کے اس سفر کی نئی کڑی کی خوشخبری بیان کرنے حاضر ہوا ہوں.

آزاد کشمیر پر عرصہ دراز سے لادین عناصر گدھوں کی طرح ٹوٹے ہوئے ہیں، اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ان تخریبی عناصر کی سرگرمیاں بڑھتی جا رہی تھیں. صورتِ حال اس قدر ابتر تھی کہ اگر کہا جائے کہ آزاد کشمیر ہمارے ہاتھ سے پھسلتا جا رہا ہے تو یقیناً غلط نہ ہوگا. دہریے بالعموم نجی طور پر اور کبھی کبھار سر بازار بھی اسلامی شعائر و تعلیمات کا مذاق اڑاتے ہیں اور یہ وبا اس قدر عام ہو چکی ہے کہ اب آزاد کشمیر میں ایسے نظریات رکھنے والے عام پائے جاتے ہیں. ایک اندازے کے مطابق ہر محلے میں چند افراد اس ”سرخ آندھی“ کا شکار ہیں اور خود کو سوشلسٹ سمجھتے ہیں جبکہ بعض علاقوں کو ان کا گڑھ بھی کہا جاسکتا ہے. حد یہ ہے کہ ان کے اخباروں میں ببانگ دہل پاکستان کے خلاف کالم لکھے جاتے اور نظریہ پاکستان کو تار تار کیا جانے لگا ہے..

کشمیری عوام کو لادین بنانے کا یہ عمل ”سوشل ازم“ کی چھتری تلے جاری ہے اور معاشی نظریے کے نام پر کب ایک مسلمان کو اسلام کے متوازی دین کا پیروکار بنا دیا جاتا ہے؟ اسے خبر بھی نہیں ہوتی.. یہاں اس بات کو لازماً ذہن نشین رکھیں کہ ہم کشمیر میں لادینیت براستہ سوشلزم پھیلنے کی جو بات کر رہے ہیں اس کی بنیاد سرسری طور پر سوشلزم کے حق میں نرم گوشہ رکھنے کے حوالے سے ہے کیونکہ پھر یہی نرم گوشہ بڑھتے بڑھتے انسان کو مکمل سوشلسٹ بنا دیتا ہے.. چنانچہ بڑا مسئلہ یہی ہے کہ لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ وہ خود یا ان کا فلاں رشتے دار جو باتیں کرتا ہے، وہ درحقیقت سوشلزم ہے، اور یہ کہ وہ دھیرے دھیرے دین بیزاری کی طرف بڑھ رہے ہیں کیونکہ انہیں ایسا ہی لگتا ہے کہ وہ صرف مذہبی اصلاح کے لیے مولوی پر ہی تنقید کر رہے ہیں. ایک کشمیری دوست نے جب وادی نیلم کے رہائشی اپنے فوجی چچا سے کہا کہ کشمیر میں لادینیت اور کیمونزم بڑھ رہا ہے تو انہوں نے فوراً سختی سے رد کرتے ہوئے اسے جھڑک دیا لیکن بعد میں جب میں نے ان سوشلسٹس کی نفسیات و بنیادی نظریات بتائے تو وہ سب سن کر انہوں نے کہا کہ ہاں یار ایسی باتیں کرنے والے تو بہت سے لوگ دیکھے ہیں. اور اب صورتحال یہ ہے کہ اچھے بھلے مولوی کشمیری گھرانوں میں ملحدین و سوشلسٹس کی موجودگی کا انکشاف ہو رہا ہے.

سوشلسٹ نفسیات کا میں اپنی پچھلی پوسٹ میں تھوڑا سا تذکرہ کر چکا ہوں کہ کس طرح یہ لوگ منافقت کی معراج پر جا کر بظاہر انتہائی میٹھے اور سادہ لوح بن کر عوام کو دین و معاشرے سے ورغلا کر پھنساتے ہیں. چنانچہ ان کی اس قسم کی سرگرمیاں عروج پر تھیں اور مسلمان اپنی ازلی سستی کا شکار ہو کر چپ چاپ ”سرخ ظلم“ سہہ رہے تھے کہ پھر اللہ کی خفیہ تدبیر کے تحت ان سے ایک سنگین غلطی ہوئی، انہوں نے اسلام کے خلاف ایک اعتراض نامہ پورے کشمیر میں پھیلا دیا اور مساجد میں بھی بھیجا. یہ جسارت دیکھ کر کشمیری بھائیوں کو ہوش آیا اور وہ ان تخریبی کارندوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے، مذہبی تنظیمیں سر جوڑ کر بیٹھیں اور ہمارے وہ ساتھی جو پہلے سے ہی کشمیر میں سوشلزم کے ایجنٹوں کے خلاف قانونی کارروائی کےلیے سرگرداں تھے، انھیں بھی زیادہ تن دہی کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا.

آزاد کشمیر میں سوشلسٹ دہشت گردوں (اللہ و رسول کے بارے میں کھلے عام ہذیان بکنا اور مسلمانوں کی دل آزادی کرنا بھی دہشت گردی ہے) کے ایک لیڈر کا نام رفعت عزیز ہے جبکہ اس کا سینیئر عاصم اختر ہے جو عرصہ دراز سے عملی زندگی نیز فیس بُک پر بھی، دین اسلام کی جڑیں کاٹنے میں مصروف ہے. ہر جگہ اسلام و مسلمانوں پر تنقید کرنا، مولوی کی آڑ میں شریعت کے خلاف زہر اگلنا اور کمیونزم کی تبلیغ کی آڑ میں اسلام کو ناکارہ دین ثابت کرنا ان لوگوں کا وتیرہ بن چکا تھا. سوشلسٹ مکارانہ نفسیات کے تحت یہ لوگ کھل کر گستاخانہ زبان کم استعمال کرتے تھے ہاں البتہ نجی طور پر ان کی اندرونی غلاظت سمیٹے نہ سمٹتی تھی. چنانچہ آزاد کشمیر کے قانونی اداروں کو ان لوگوں کی کچھ ایسی خفیہ گستاخیاں دکھائی گئیں جس کے سبب قانون حرکت میں آنے پر مجبور ہو گیا. پھر جب تفتیش کی گئی تو اس اعتراض نامے والے پمفلٹ کو پھیلانے والے گھناؤنے کام میں رفعت عزیز کا ہاتھ ثابت ہوا.. 18 نومبر 2016ء کو اس بدبخت نے ملک سے فرار ہونا تھا کہ کشمیری عوام کے دباؤ پر 16 نومبر کی رات سات سے آٹھ بجے کے درمیان لوگوں نے اسے گھر سے گھسیٹ کر نکالا اور پولیس کے حوالے کیا.. رفعت کی کافی ”خدمت“ ہو چکی ہے، اور آزاد کشمیر کی انتظامیہ بہت زیادہ تعاون و اخلاص کا مظاہرہ کر رہی ہے، اس کے بھائی کے علاوہ کسی اور کو رفعت سے ملنے کی قطعاً اجازت نہیں.. ان گستاخ عناصر کے خلاف درج کی گئی FIR کے مطابق چھ مزید افراد کی تلاش جاری ہے جن میں ایک مفرور عاصم اختر بھی شامل ہے..

آپریشن ارتقائے فہم و دانش گروپ کی انتظامیہ اپنے معزز ممبران سے گزارش کرتی ہے کہ ان گستاخوں کے خلاف قانون کو حرکت میں لانا ہمارے مخلص دوستوں کا کام تھا لیکن قانونی چارہ جوئی کو برقرار رکھنا اب آپ لوگوں کی دینی غیرت پر منحصر ہے.. رفعت گستاخ کو چھڑوانے کے لیے سیکولر سوشلسٹ لابی کا شدید دباؤ ہے جبکہ اس کا تعلق ایک سوشلسٹ سیاسی جماعت سے بھی ہے. آزاد کشمیر کے سوشلسٹ عناصر بھی اس گرفتاری کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں اور اس مہم میں سرگرم مسلم بھائیوں پر فیملی پریشر ڈال کر انہیں اس مشن سے ہٹنے پر مجبور کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے. چنانچہ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ اپنے اختیارات و وسائل کا کس حد تک دیانتداری سے استعمال کرتے ہیں.

آپ چاہیں تو فون کالز، ای میلز، مختلف اخباروں اور قانونی اداروں کو تحریری شکایات نیز فیس بُک سٹیٹس کی شکل میں اپنی آواز اٹھا سکتے ہیں.. ہاں البتہ اگر صرف دل میں لعنت بھیج کر ضمیر کو سلانا چاہیں تو بھی آپ کی مرضی ہے لیکن اس سے پہلے سورۃ العنکبوت کی پہلی دو آیات ضرور پڑھ لیجیے گا جس کا مفہوم ہے ”کیا لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں ایمان لانے کے زبانی دعوے پر چھوڑ دیا جائے گا اور عملی امتحان نہیں ہوگا؟“

رفعت عزیز کی گستاخیوں کے سکرین شاٹس موجود ہیں مگر حساسیت کی وجہ سے انھیں شامل اشاعت نہیں کیا جا رہا ہے. آپ کے پاس بھی اگر ان لوگوں کی اسلامی شریعت سے مخالفت اور اس پر تنقید یا گستاخی کا کوئی ثبوت ہو تو آپریشن ارتقائے فہم و دانش گروپ کی انتظامیہ کو مہیا کریں..