اعلیٰ حضرت احمد رضا خانؒ عشق رسولﷺ کے عظیم داعی

41

 

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی
فطرت کے انداز بڑئے نرالے ہیں جس مٹی کے سپوت سے جو جو کام لینا ہوتا ہے اُتنی زرخیزی اُس سرزمین کامقدربن جاتی ہے۔ہمیشہ سے ہوتا آرہا ہے کہ انسان کی قدر اُس کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد ہوتی ہے۔ شائد انسانی فطرت میں یہ بات رکھ دی گئی ہے کہ جو حاضر ہے اُس کی تکریم اُتنی نہیں ہوتی اور جو موجود نہیں ہے اُس کے لیے درد کا رشتہ مضبوط تر ہوتا ہے۔انسانی تاریخ میں نبی پاکﷺ کی ظاہری حیات کے جو لمحات ہیں اُن کانچوڑ بھی یہ ہی ہے کہ خالق کی عطا کو من و عن تسلیم کرلیا جائے۔برِ صغیر پاک وہند کے مزاج میں اللہ کے نیک بندوں سے اُنسیت کا رنگ غالب ہے۔ اِسی لیے پچھلی دو صدیوں سے مجددِ دین وملت جناب احمد رضا خانؒ کی عشقِ رسولﷺ کی فکر نے مسلمانوں کے دلوں میں عشقِ محمدﷺ کی ایسی لوح روشن کی کہ اعلیٰ حضرت احمد رضا خانؒ کی اِس فکر نے مسلمانوں کے اندر ایمان کی بنیادی شرط نبی پاکﷺ کی غلامی کے جذبے کو اِک ایسی تقویت دی گویا کہ سرزمین بُتاں ہندوستان میں کلمہ توحید اور نعرہ رسالت کی تجدید میں اہم کردار ادار کیا حضرت مجدد الف ثانی ؒ کے بعد سرزمین ہندوستان نے اتنی باکما ل علمی شخصیت کو جنم دیا کہ جس کی فکر نے نبی پا ک ﷺ کے عشق کے جذبوں کو ایسی راہوں کا مسافر بنا دیا کہ مسلیمہ بن کذاب سے لے کر مرزا غلام احمد قادیانی جیسے جہنمیوں کو پوری دنیا کے لے مثال عبرت بنا دیا۔ یوں عقیدہ توحید کی تجدید اور عشق رسولﷺ کے مشن کے لیے احمد رضا خانؒ نے عظیم علمی معرکے انجام دئیے۔راقم کی نظر میں برصغیر پاک وہند میں عشق رسولﷺ کی علمبردار سب سے بڑی طلبہ تنظیم انجمن طلبہ اسلام نے واقعی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خانؒ کی فکر کو آگے بڑھایا اور اُس مشن سے رو گردانی نہیں کی جس کے علمبردار جناب اعلیٰ حضرت ؒ تھے۔اِس حوالے سے لاکھوں دلوں کی دھڑکن انجمن طلبہء اسلام کے سابق قائدین جناب ڈاکٹر ظفر اقبال نوری، جناب غلام مرتضیٰ سعیدی،جناب احمد عبدالرزاق ساجد،جناب احمد وقار مدنی، جناب حمزہ مصطفائی، جناب حنیف طیب جیسے اعلیٰ پائے کے رہنماؤں کو قوم کبھی فراموش نہیں کرسکے گی۔جب بھی مورخ پاکستان کی تاریخ لکھے گا تو انجمن طلبہ اسلام کے معاشرئے پر اثرات اُس کو اتنے گہئرے نظر آئیں گے کہ جہاں نبی پاک ﷺ کی حرمت مقام عزت و ناموس کی بات ہو وہاں انجمن طلبہ اسلام کے نوجوانوں کا لافانی کردار نظر آئے گا۔نبی پاکﷺ کی محبت کے حوالے سے کسی ایک اکیلی شخصیت کی جانب سے علمی وعملی جہاد شائد ہی کسی اور کا خاصہ ہو جو کام جناب اعلیٰ حضرتؒ نے کیا ہے۔ اعلیٰ حضرت کی جانب سے نبی پاکﷺ کی عزت و ناموس کے حوالے سے موقف نے سر زمین ہندوستان میں جنم لینے والے طرح طرح کے فتنوں کی اِس طرح سرکوبی کی کہ وہ فتنے جہنم رسید ہونے کے ساتھ ساتھ قیامت تک زخم چاٹتے رہیں گے۔مسلمانوں کے دلوں میں عشق رسولﷺ کو ایمان کی بنیادی شرط کے حوالے سے جس طرح نام نہاد کانگرسی علماء اور پیٹرو اسلام کا نام لیواوں کے غلبے کو اعلیٰ حضرت نے شکستِ فاش دی اُس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا کہ اعلیٰ حضرت نے اُمتِ مسلمہ کو پھر سے عشق رسولﷺ کے نصاب کی جانب متوجہ کیا اور نبی پاکﷺ کی محبت کے ازلی نسخے کو اُمت کی ہر بیماری کا علاج قرار دیتے ہوئے ہر اُس شخص کے خلاف علم بغاوت کیا جس کی جانب سے نبی پاکﷺ کی شان اقدس میں کمی کا تصور پیش کیا گیا یہی وجہ ہے کہ متحدہ ہندوستان میں انگریزوں نے ایک ایسے دارلعلوم کی بنیاد رکھوائی جس کا مقصد توحید کے نام کا سہارا لے کر عشق رسولﷺ کی لو کم کرنا تھا اِن حالات میں اعلیٰ حضرت کے مجاہدانہ کردار نے ایسے منصوبوں کو خاک میں ملا دیا اور قوم نے دیکھا جب بھی ضرورت پڑی قوم کو غازی علم دین شھیدؒ اور غازی ممتاز قادری میسر آتے رہے۔کسی ملعون کی جسارت کو کبھی برداشت نہیں کیا گیا۔ اور نام نہاد عقلی تقاضوں چونکہ چنانچہ، اگر مگر کی بجائے صرف اور صرف غلامی رسولﷺ میں موت بھی قبول ہے کو فضلیت حاصل رہی ہے۔علم وحکمت کے بے تاج بادشاہ، مجدددین وملت،پروانہ شمع رسالت مآب،عظیم المرتبت محدث،امام اہلسنت، مفکر اسلام،حسان الہند، اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمدرضاخان بریلوی ؒ 10شوال المکرم 1272ہجری ہفتہ کے دن ہندوستان کے مشہورشہربریلی شریف کے محلہ جسولی میں رئیس المتکلمین مولانانقی علی خانؒ ے گھرمیں پیداہوئے۔ایک دن جمعہ المبارک کی نمازکے بعداعلیٰ حضرت امام احمدرضاخانؒ تشریف فرماتھے حاضرین کامجمع تھا۔لوگ مسائل پوچھتے جارہے تھے اوراعلیٰ حضرت جواب دیتے جارہے تھے۔ اس وقت خلیفہ اعلیٰ حضرت،مولاناسیدحافظ محمودجان صاحب نے عرض کیاحضورمیں دیکھتاہوں کہ ہرمسئلے کا جواب آپکی نوکِ زبان پرہے کبھی کسی مسئلے کے متعلق آپؒ کویہ فرماتے نہیں سناکہ کتاب دیکھ کرجواب دیاجائے گاجب اعلیٰ حضرت نے یہ بات سنی توآپؒ کی آنکھوں سے آنسوجاری ہوگئے اورفرمایا،سیدصاحب!جب قبرمیں مجھ سے سوال ہوگاتووہاں کتابیں کہاں سے لا?ں گا۔جب آپؒ کی وفات کاوقت قریب آیاتوآپؒ نے مریدین کوبلاکرفرمایاجب میراانتقال ہوجائے تویادرکھومیری قبراتنی گہری کھودناکہ جس میں میں کھڑا ہو سکوں غلاموں نے عرض کیاحضورحسب معمول توقبراتنی گہری کھودی جاتی ہے کہ جس میں آدمی بیٹھ سکے آپؒ نے فرمایاکہ سرکاردوعالم نور مجسمﷺکی حدیث پاک ہے کہ جب آدمی فوت ہوجاتاہے تواس کی قبرمیں خودکملی والے ﷺتشریف لاتے ہیں لہذامیں چاہتاہوں کہ میری قبر اتنی گہری ہوکہ جب امام الانبیائمحمدمصطفیﷺ!میری قبرمیں جلوہ گرہوں تومیں کھڑاہوکرآپﷺکااستقبال کروں اورآپﷺکی خدمت اقدس میں صلوٰ ۃوسلام کانذارانہ پیش کروں تقدیس خداوندی اورناموس رسالت اورعظمت مصطفیﷺکی جوتحریک آپؒ نے1878ئسے 1921ئتک جاری رکھی اورمحفل میلادکی جو آپؒ نے مشعلیں روشن رکھیں وہ آج چمکتے ہوئے ستاروں میں تبدیل ہوکرچہاردانگ عالم میں روشنیاں بکھیررہی ہیں۔اعلیٰ حضرت عظیم المرتبت امام احمدرضاخان بریلویؒ نے ایک طویل مدت تک تشنگان علم ومعرفت کواپنے کمالات ظاہری وباطنی سے مستفیدکرکے عالمِ اسلام میں روحانیت،تقریب الٰہی علم وحکمت اورعشق رسولﷺکاذوق پیداکرکے 25صفرالمظفر1340ہجری بروزجمعہ المبارک ہندوستان کے وقت کے مطابق2بج کر38منٹ پر آپؒ نے داعی اجل کولبیک کہا۔