قانون اپ ڈیٹ کر دیں، ججز کوتاہی کریں تو ذمہ داری لوں گا: چیف جسٹس

12

کراچی: (فلک نیوز) پارلیمنٹ سپریم ہے، قانون سازی اس کی ذمہ داری ہے، قانون اپ ڈیٹ کر دیں، ججز کوتاہی کریں گے تو ذمہ داری لوں گا، قانون کے مطابق انصاف فراہم کرنا ہے، من مرضی کا نہیں، چیف جسٹس سپریم کورٹ کا جوڈیشل کانفرنس سے خطاب۔

کراچی: چیف جسٹس ثاقب نثار نے جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے تحت انصاف ہر شہری کا بنیادی حق ہے، لوگوں کو شکایات ہیں کہ انہیں وقت پر انصاف نہیں ملتا، آج کل جو فیصلے آ رہے ہیں، ان میں من مرضی زیادہ شامل ہے، جو آرڈر آ رہے ہیں ان میں قانونی پہلو کم نظر آ رہا ہے، قانون کے مطابق انصاف فراہم کرنا ہے، فیصلوں میں تاخیر کے ذمہ دار صرف ہم نہیں ہیں کیونکہ عدالتوں میں وہ سہولتیں دستیاب نہیں ہیں جو ہونی چاہیں۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ سہولتوں کی کمی کی وجہ سے جج پورا ان پٹ نہیں دے پاتے، یہ سہولتیں ہم نے نہیں دینی، آپ جانتے ہیں کس نے دینی ہیں، پارلیمنٹ سپریم ہے، قانون بنانا اسی کی ذمہ داری ہے، ہمیں قانون بنا دیں، پھر ججز کوتاہی کریں گے تو ذمہ داری لوں گا۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ نئے قوانین نہ بنے تو ہماری اصلاحات کا بھی کوئی فائدہ نہیں، انصاف بک نہیں سکتا، ججز کی دیانتداری پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے، ری ہیئرنگ میں کوئی کیس نہیں ڈالا جائے گا، ججز 3 ماہ سے پرانے کیس ایک ماہ میں نمٹائیں، کیس میں فیصلے کیلئے 90 روز بہت ہوتے ہیں، کوڈ آف کنڈکٹ میں اگر ترامیم کرنا پڑیں تو کریں گے۔

میاں چاقب نثار نے اعلان کیا کہ کسی بھی فیصلے میں تاخیر قبول نہیں، کیسز میں لوگوں کو ایک، ایک سال کی تاخیر میں مت ڈالیں، جن ججز کے پاس کیسز التواء کا شکار ہیں، انہیں جلد نمٹا دیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے ججز سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ہمیں اپنے گھر کو منظم کرنا ہے، قانون میں کوئی ترمیم نہیں کر کے دے گا، ہمیں تمام معاملات کا از سر نو جائزہ لینا ہو گا، بے اعتمادی کی فضاء ختم ہونی چاہئے، لوگ انصاف کی امید لے کر عدالتوں میں آتے ہیں، لوگوں کو انصاف فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ وکلاء ہڑتالوں کا کلچر ختم کر کے ججز کا احترام کریں، ہم نے گلستان کو بچانے اور اس کی حفاظت کی قسم کھائی ہے، امید ہے میری باتوں سے کسی کی دل آزاری نہیں ہوئی ہو گی کیونکہ جو کچھ کہا، صرف آپ کیلئے نہیں، اپنے لئے بھی ضروری سمجھتا ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ چیف جسٹس صاحبان سے اجازت لی ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو پارلیمنٹیرینز سے بات کروں گا کہ ہمیں ضروری قانون سازی کرکے دیں۔