جنسی درندے ،قاتل اور منطقی انجام

18

تحریر۔۔۔ ڈاکٹر بی اے خرم
کہتے ہیں ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو پھر مٹ جاتا ہے ظلم اور زیادتی کرنے والے کتنے ہی طاقت ور کیوں نہ ہوں ایک نہ ایک روز قانون کی گرفت میں آجاتے ہیں قاتل ہو یا پھر جنسی درندہ ،پھانسی کے پھندے اور جیل کی سلاخیں اس کی متلاشی رہتی ہیں قاتل اور جنسی درندے کتنے ہی طاقت ور یا پھر چالاک و مکار کیوں نہ ہوں ان کی چالاکیاں اور مکاریاں ساری کی ساری دھری کی دھری رہ جاتی ہیں قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکنے والے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنے منطقی انجام کو پہنچ جاتے ہیں وطن عزیز ایک کڑے وقت سے گزر رہا ہے بچوں سے جنسی تشدد کی لہر نے ہر معزز شہری کو پریشان کر رکھا ہے کم عمربچوں کو جنسی حراساں کرنے کے واقعات میں حیران کن اضافہ ہو چکا ہے اور ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے ایک سوچے سمجھے اور منظم طریقہ سے یکے بعد دیگرے جنسی تشدد کے واقعات سے ملک میں خوف کی فضا پیدا کر دی گئی ہے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں چار سالہ بچی اسما سے جنسی زیادتی اور قتل کا واقعہ ایک معمہ بنا رہا اصل جنسی درندے اور قاتل تک پہنچنے کے لئے پولیس حکام نے انتھک محنت کی انتہائی مشکلات کے باوجودسالہ چار اسما قتل کیس 25 روز بعد حل کرلیا گیا ہے چار سالہ بچی اسما سے جنسی زیادتی کی کوشش اور ان کے قتل کے مقدمے کے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا پندرہ سالہ محمد نبی مقتولہ اسما کا قریبی رشتہ دار بھی ہے اوراس کا پڑوسی بھی ، اسما کا کیس بالکل بلائنڈ کیس تھا سولہ کنال گنے کے کھیت میں میں گنے کے ایک پتے پر خون کے قطرے سے کیس ٹریس ہوا،اس قتل کیس میں کوئی سی سی ٹی وی ویڈیو تھی، نہ کوئی گواہ اور نہ کسی پر شک تھا واضح رہے کہ ملزم بچی کو ورغلا کر قریبی گنے کے کھیتوں میں لے گیاملزم نے جنسی زیادتی کی کوشش کی تو بچی نے چیخنا شروع کر دیا، ملزم ڈر گیا کہ قریبی لوگ کہیں متوجہ نہ ہو جائیں تو اس نے منہ اور ناک پر ہاتھ رکھا تاکہ اس کی سانس بند ہو جائے، اس کے چار سے پانچ منٹ بعد بچی کی موت واقع ہو گئی اور ملزم وہاں سے اپنے گھر چلا گیاملز کی دیدہ دلیری تو دیکھیں ملزم کئی روز تک پولیس کے ساتھ سرچ آپریشن میں شامل رہا اور گنے کے کھیتوں میں بھی گیا ملزم کا ڈی این اے بچی کے خون کے ایک قطرے سے میچ کیا جو ایک پتے پر تھا اور پولیس کو کھیتوں سے ملا تھاخون کا ڈی این اے میں میچ ہونے کے بعد ملزم کو گرفتار کر لیا گیا جس نے جنسی حملے اور قتل کا اعتراف کر لیا ہے پیشہ ور خیبرپختونخوا پولیس کا کام قابل تحسین ہے ملزم کو پکڑ کر خیبرپختونخوا پولیس نے اپنی جدید فرانزک صلاحیتوں کا مظاہرہ بھی کیابابا بھلے شاہ کی نگری سے تعلق رکھنے والی زینب اور مردان کی معصوم اسما کے قاتل میں مماثلت پائی جاتی ہے دونوں قاتل معصوم پریوں کی جانیں لینے والے قاتلوں کی تلاش میں گھر والوں سمیت پولیس کی آنکھوں میں مسلسل دھول جھونکتے رہے پھر بے رحم وقت نے انہیں بے نقاب کر ڈالا اور قانون کی گرفت میں آئے
ادھرانسداد دہشتگردی عدالت نے مشال خان قتل کیس میں ایک ملزم کو سزائے موت ،پانچ کو 25 ،25 سال اور 25 ملزموں کو 4۔4 سال قیدکی سزاسنادی جبکہ26 کوشک کا فائدہ دے کر رہا کردیاگیاواضح رہے کہ عبدالولی خان یونیورسٹی میں گذشتہ برس 13 اپریل کو جرنلزم کے 23 سالہ طالب علم مشال خان کو مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کا الزام لگا کر قتل کر دیا تھا۔کیس میں 61 نامزد ملزمان میں سے 58 گرفتار ہیں، جن میں فائرنگ کا اعتراف کرنے والا ملزم عمران بھی شامل ہے فرار ہونے والے ملزموں میں پی ٹی آئی کا تحصیل کونسلر عارف، طلباتنظیم کا رہنما صابر مایار اور یونیورسٹی کا ایک ملازم اسد ضیا شامل ہیں اس کیس میں ستمبر2017 سے جنوری 2018 تک 25 سماعتیں ہوئیں جن میں 68 گواہ پیش ہوئے۔ ہری پور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج فضل سبحان نے مشال خان قتل کیس کا فیصلہ گزشتہ ماہ 27 جنوری کو محفوظ کیا تھا خیبرپختونخواہ حکومت نے مشال قتل کیس میں بری ہونے والے 26 افراد کیخلاف اپیل کا فیصلہ کر لیا ہیعبدالولی خان یونیورسٹی میں توہین مذہب کے مبینہ الزام میں قتل کئے جانے والے مشال خان کے والد اقبال لالہ اس بات پہ حیران ہیں کہ واضح ویڈیوز اور دیگرٹھوس ثبوتوں کے باوجود مشال خان قتل مقدمے میں 26 ملزمان کو کیسے رہا کردیا گیا وہ سمجھتے ہیں کہ کہیں نہ کہیں گڑبڑ ضرور ہوئی ہے کیونکہ ابھی ایک مرکزی ملزم فرار ہے ۔
ملک عزیز میں جنسی تشدد کی بڑھتی ہوئی لہر کی روک تھام کے لئے حکومت وقت اپنے تمام اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے جلد سے جلد ایسی منصوبہ بندی کا عملی مظاہرہ کرے تاکہ زینب اور اسما کے قاتل عمران اور محمد نبی جیسے جنسی درندے و سفاک قاتل اورپیدا نہ ہوں ننھی کلیوں سے جنسی تشددکرنے والے وحشی جنسی درندوں کو منطقی انجام تک پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے اگر کسی سازش یا غفلت کے باعث قوم کی بچیوں کیساتھ جنسی تشدد کرنے والے قاتل صفت لوگ قانون کی گرفت سے آزاد ہوگئے تو پھر اہلیاں پاکستان کی معصوم کلیوں کی عزتیں داؤ پہ لگتی رہیں گی جنسی درندے معصوم پریوں کے ساتھ جنسی کھلواڑ کرنے میں آزاد ہونگے عصمتیں لٹتی اورزندگیاں بربادہوتی رہیں گی اور یہ سب کچھ ملک و قوم کے لئے ایک المیہ سے کم نہ ہوگا ۔