ڈنگہ، دنیا کا کوئی علم قرآن پاک سے باہر نہیں:مولانا محمدطاہررضا نقشبندی

20

ڈنگہ ( سٹی رپورٹر ) مولانا صاحبزادہ محمد طاہر رضا نقشبندی نے رمضان المبارک کے دوسرے جمعۃ المبارک کے موقع پر مرکزی جامع مسجد عید گاہ ڈنگہ میں ہزاروں روزہ داروں سے ’’ فخر نبی اکرم حضرت رسول ؐ اللہ کے علمی کمالات ‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ سورہ الرحمن قرآن مجید کی دلہن ہے ۔ اس سورہ مبارکہ میں حضور پاکؐ کے علمی درجات کا بہت حسین بیان کیا گیا ہے ۔ قرآن مجید فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول پاکؐ کو قرآن سکھایا اور ہمارا عقیدہ اور ایمان ہے کہ دنیا کا کوئی علم قرآن مجید سے باہر نہیں ہے ۔ گویا حضور سرور کائناتؐ کو رب کریم نے دنیا بھر کے ان تمام علوم کی تعلیم بھی فرمائی جو دینی ‘ دنیاوی معاملات میں مروج ہیں آپ نے دنیا کو پہلی بار تخلیق آدم اور بنی آدمؑ کے وجود میں موجود تمام خصوصیات حتیٰ کہ امراض سے آگاہ فرمایا ۔ رسول پاکؐ نے پہلی بار دنیا کو بتایا کہ انسان مٹی اور پانی سے تخلیق کیا گیا ۔ اس کے وجود میں درجنوں اقسام کا گوشت اور رطوبتیں موجود ہی ۔ آپؐ نے ان کی الگ الگ وضاحت فرمائی ۔ آج دنیا بھر کے ڈاکٹرز اور طبیب جو مریضوں کاعلاج کرتے ہیں ان کو حضور پاکؐ کے طفیل یہ علم عطاء ہوا مگر آج بھی ہزاروں امراض ایسے ہیں جن کا موجودہ معالجین کے پاس علاج نہیں لیکن کوئی مرض ایسا نہیں کہ جس کا علاج آقاء دو عالمؐ کے پاس نہیں تھا ۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ میں نے بیان سکھایا ‘ درخت اور جانور نہ تو ایک دوسرے کو درست طور پر اپنے ماضی الضمیر سے آگاہ کر سکتے ہیں ۔ انسان واحد تخلیق ہے جس کو بیان کی طاقت ملی ۔ لیکن جو بیان عام انسان کرتے ہیں اور ج بیان آقا دو عالمؐ کا تھا اس میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ عربی بے حد بلیغ زبان ہے ۔ اس میں ایک ایک شئے کے بعض اوقات ہزاروں نام ہیں ۔ عرب کے فصحاء کو اپنی زبان پر فخر تھا عربی کے مقابلے میں غیر عربی عجمی یعنی گونگا سمجھا جاتا تھا ۔ لیکن حضرت ابوکر صدیقؓ ارشاد فرماتے ہیں کہ حضور سرور کائناتؐ جو کلام فرماتے عرب کے فصاحت و بلاغت رکھنے والے عرب سردار گنگ ہ جایا کرتے تھے ۔ اہل مکہ نے کعبہ شریف میں عربی شعراء کے بلیغ قصائد لٹکا رکھے تھئے مگر جب حضور پاکؐ نے تین آیات پر مبنی مختصر ترین سورۃ کوثر لکھ کر کعبہ شریف میں آویزاں کی تو انہوں نے اس کی بلاغت سے شرمندہ ہو کر تمام خطاب اتار لئے ۔