ایل این جی معاہدہ؛ وزیراعظم کی نااہلی کیلیے درخواست خارج

44

سپریم کورٹ نے ایل این جی معاہدوں میں مبینہ کرپشن پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو نااہل قرار دینے کے لیے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی درخواست خارج کردی ہے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ نے ایل این جی معاہدے کے خلاف شیخ رشید کی درخواست کی سماعت کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ میرے خیال سے دو حکومتوں کے درمیان معاہدہ ہوا ہے اور اس میں ضروری چیزوں کا خیال رکھا گیا ہوگا۔ کس آرٹیکل کے تحت وزیراعظم کو نااہل کر دیں، ایسا کیا ہوا کہ آپ وزیراعظم کی نااہلی چاہتے ہیں۔

شیخ رشید کے وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت کے روبرو موقف اختیارکیا کہ عدالتی احکامات کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، حکومت اختیارات کا غلط استعمال کر رہی ہے، پاکستان میں قدرتی گیس کے وسیع ذخائر ہیں، ایل این جی معاہدہ 15 سال کے لئے کیا گیا۔ حکومت نے ایل این جی معاہد ہ ایک شیل کمپنی کے ساتھ کیا ہے اور اس کی ہر چیز چھپائی جارہی ہے، معاہدے کے تحت یومیہ 2 لاکھ 72 ہزار ڈالرادا کئے جارہے ہیں۔

چیف جسٹس نے درخواست خارج کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ملک میں آزاد ادارے موجود ہیں، اداروں کو قائم ہی اسی لئے کیا گیا کہ قومی خزانے کو دیکھیں، ریکوڈک اور اسٹیل مل کی طرح ان معاملات میں دوبارہ مداخلت نہیں کریں گے، پہلے ہی ان مقدمات سے بین الاقوامی طور پر نقصان ہوا، ہم ان مقدمات میں اب مداخلت نہیں کریں گے۔

واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور حکومت میں قطر سے اربوں ڈالر مالیت کی ایل این جی خریدنے کا معاہدہ کیا گیا تھا اور اس وقت وزیر پیٹرلیم موجودہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی تھے، حزب اختلاف کی جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ اس معاہدے کے ذریعے اربوں روپے کی کرپشن کی گئی ہے۔