الیکشن ایکٹ کیس: کیا کسی چور کو بھی پارٹی سربراہ بنایا جا سکتا ہے؟ چیف جسٹس

8

اسلام آباد: (فلک نیوز) سپریم کورٹ میں الیکشن ایکٹ 2017 کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کیا کسی چور کو بھی پارٹی سربراہ بنایا جا سکتا ہے؟ جس پر وکیل سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا پارٹی سربراہ بن سکتا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے استفسار کیا پارٹی سربراہ کے لیے کوئی اخلاقیات نہیں ہیں کیا ؟ پارٹی سربراہ پر بہت ذمہ داری ہوتی ہے، پارلیمانی سیاست میں پارٹی سربراہ کا کردار نہایت اہم ہے، پارٹی سربراہ براہ راست گورننس پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ وکیل سلمان کرم راجہ نے جواب دیا پارلیمانی پارٹی اپنے کام کا طریقہ کار خود اختیارکرتی ہے، آئین میں نااہل شخص کےحوالے سے قانون موجود ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کیا اگر قانون کالعدم ہو گیا تو سینیٹ امیدواروں کے ٹکٹس کا کیا ہو گا؟ کیا سینیٹ کا الیکشن دوبارہ ہو گا؟ اگر ڈیکلیئر کر دیا کہ نااہل شخص پارٹی سربراہ نہیں بن سکتا تو سینیٹ الیکشن پر کیا اثر ہو گا؟ کیا قانون کالعدم ہونے پر واک اوور ہو گا؟ جب بنیاد ختم ہو جاتی ہے تو اس پر کھڑا ڈھانچہ بھی گر جاتا ہے۔ وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 کا سیکشن 5 نرالا تھا، سیکشن 5 کے ذریعے پارٹی سربراہ کیلئے قدغن لگائی گئی، سیکشن 5 آرٹیکل 17 اور 19 کی خلاف ورزی تھا۔ وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ سیاسی جماعت کے اراکین پر اپنی مرضی کا سربراہ منتخب کرنے کی قدغن نہیں لگائی جا سکتی، آرٹیکل باسٹھ ون ایف کا اثر محدود ہے، اس کا اطلاق اراکین اسمبلی پر ہوتا ہے۔

سپریم کورٹ نے انتخابی اصلاحات ایکٹ کے خلاف درخواستوں کی سماعت کل تک کے لئے ملتوی کر دی۔