مفاداتِ اشرافیہ پر زد ۔۔۔عدلیہ پر تنقید

9

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا کہنا کہ چور ڈکیت کو پارتی کا سربراہ نہیں بنایا جاسکتا ساتھ ہی نواز شریف اور اُنکی سوشل میڈیا کی ٹیم نے چیف جسٹس کی پی سی او کے تحت حلف کی تصاویر عام کردی ہیں۔ یوں ن لیگ کی سیاست اِس وقت عدلیہ مخالف تحریک کے گرد گھوم رہی ہے۔ نہ جانے ہماری قوم کی حالت کب بدلے گی۔ اللہ کرئے حکمران اشرافیہ کو عقل آجائے۔ سوس بنکوں ، امریکہ دبئی ، برطانیہ اور پانامہ میں موجود ڈالروں کت تھیلے اِس بات کا بین ثبوت ہے کہ حکمران اشرافیہ کو اپنی عوام سے کوئی غرض نہیں ہے۔
جو حکمران خود غیر جمہوری قوتوں کے بل بوتے پر اپنے وجود برقرار رکھے ہوئے یا جنہوں نے آمریت کی کوکھ سے جنم لیا ہے ایسے حکمران قانون کی بالا دستی کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔ اُن کے نزدیک ہر شخص ہر ادارہ بکاؤ مال ہوتا ہے۔ سیاست میں اُن کے نزدیک صرف طاقت کا حصول ہوتا ہے۔ عوام کی فلاح و بہبود کے ذہن کے کسی گوشے میں پروان نہیں چڑھی ہوتی کیونکہ اُن کے خمیر میں یہ ہوتا ہے کہ ہر جائز اور ناجائز طریقہ اپناؤ اور اپنی کرسی کو مضبوط کرو۔ ایوب خان ، بھٹو، ضیا الحق، بے نظیر مشرف ، زرداری اور نواز شریف ہمای ملکی سیاست میں فعال کردار کے حامل ہیں۔ باقی چھوٹے موٹے سیاستدان یا مذہبی رہنماء صرف بطور پریشر گروپ ہی فعال رہے ہیں اور موجود دو میں بھی ایسا ہی ہے۔ ریاستی اداروں کی عزت و تکریم سے ہی ملک میں امن و سکون او ر خوشحالی کی فضاء قائم ہو پاتی ہے۔قانون معاشرے کی بہبود کے لیے ہوتے ہیں۔ مقننہ قانون بناتی ہے عدلیہ اُسکی تشریح کرتی ہے اور حکومت اِس پر عمل در آمد کرواتی ہے۔ گویا کہ قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا اختیار عدلیہ کا ہے لیکن اُس فیصلے پر اُس کی روح کے مطابق نفاذ کیے جانے کا اختیار حکومت کے پاس ہوتا ہے قانون نافذ کرنے والے ادارے عدلیہ کے فیصلوں پر من و عن عمل درآمد کرواتے ہیں۔ گویا مققنہ نے قانون بنا کر اپنا فرض ادا کردیا۔ عدلیہ نے قانون کے مطابق فیصلہ کردیا اور اُس فیصلے کو منوانا کے لیے طاقت/ نافذ کے کرنے کی قوت صرف حکومت کے پاس ہوتی ہے۔ آزاد عدلیہ کے نظریے کے مطابق انتظامیہ کے زیر تحت عدلیہ نے کام نہیں کرنا ہوتا ۔ بلکہ انتطامیہ اِس حوالے سے عدلیہ کے احکام پر عمل درآمد کروانے کی سو فی صد ذمہ دار ہوتی ہے۔ جن ملکوں میں شرح خواندگی سو فی صد ہے وہاں پر جمہوری نظام کے ثمرات نظر آتے ہیں لیکن جہاں وڈیرہ شاہی، سرمایہ دارنہ اور جاگیر دارانہ نظام ہو وہاں انسان کی عزت و توقیر نہیں بلکہ طاقت کو فوقیت حاصل ہے ایسا ہی تیسری اور چوتھی دُنیا کے ممالک کا پرابلم ہے وہ یوں کہ انسانوں کو نام نہاد جموریت جانوروں کی طرح ہانک رہی ہوتی ہے۔ یہاں نام نہاد جموریت کے طریقہ کار میں صرف وڈیرے سرمایہ دار، با اثر، لوگ ہی انتخابات جیت کر عوام پر باد شاہت کرتے ہیں۔سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ مشرف سے حلف لینے والے پی سی او جج اب ہمیں اخلاقیات کا درس دیں گے، جج صاحبان جو زبان استعمال کر رہے ہیں، میرا نہیں خیال کہ انہیں زیب دیتا ہے، یہی زبان عمران خان بھی استعمال کر رہے ہیں، اگر چیف جسٹس بھی استعمال کریں تو ان کی اور عمران خان کی زبان میں کیا فرق رہ گیا ہے، سسلیئن مافیا ہیں، گاڈ فادر ہیں، اب چور، ڈاکو جیسے الفاظ استعمال کرنا کیا ان کے اپنے منصب کی توہین نہیں؟ پھر گلہ ہم سے ہوتا ہے کہ یہ توہین کررہے ہیں، میں نے کسی قسم کی کوئی کرپشن نہیں کی، ا یسے فیصلوں کو نہیں مانتا، اب یہ لوگ مجھے پارٹی صدارت سے ہٹانا چاہتے ہیں لیکن دل اور نیت صاف ہو تو اللہ تعالیٰ کی ذات ساتھ دیتی ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ یہ لوگ ٹیڑھی بنیاد پر 10منزلہ عمارت تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ ترین منصب پر فائز جج صاحبان جو زبان استعمال کر رہے ہیں میرا نہیں خیال کہ ان کو زیب دیتی ہے بلکہ یہ ان کے اپنے منصب کی توہین ہے جس طرح کے الفاظ لوگ اخباروں میں پڑھ رہے ہیں اور ٹی وی پر سن رہے ہیں، میں کیا الفاظ کو دہراؤں، مجھے بھی عجیب لگتا ہے جیسے انہوں نے پہلے بھی کہا کہ ڈان ہے، سسلیئن مافیا ہیں،گاڈ فادر ہیں، اب چور، ڈاکو جیسے الفاظ استعمال کرنے کیا ان کے اپنے منصب کی توہین نہیں، جو وہ جملے کہتے ہیں یہ کس کی توہین ہو رہی ہے اور کیا اس کے لیے بھی کوئی قانون ہے۔ یہی زبان عمران خان بھی استعمال کرتا رہا ہے جو آج یہ کر رہے ہیں۔ مجھے بتائیں کہ عمران خان اور ایک چیف جسٹس کے اس طرح کی زبان میں فرق کیا رہ گیا؟ ہمیں یہ بھی بتایا جائے کہ سارا معاملہ یکطرفہ نہیں ہوتا ہم اس پر ضبط کرتے ہیں، صبر کرتے ہیں، برداشت کرتے ہیں اور وہ کھلے بندوں اس طرح کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ ہر انسان کا اپنا ضمیر ہوتا ہے ہر انسان کی اپنی عزت ہوتی ہے، عزت نفس پر ہم سمجھوتہ کرنے والے نہیں۔ وہ کوئی اور لوگ ہوں گے جو سمجھوتہ کرتے ہیں۔ ہم نہیں ہم سمجھتے ہیں کہ ایسی چیزوں کے آگے انسان کو اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق کھڑے ہونا چاہیے، زیادہ دور نہ جائیں۔ جن ججوں نے مشرف کے زمانے میں حلف لیا آج وہ پی سی او جج کہلواتے ہیں، مشرف کا حلف لیا وہ ہمیں اخلاقیات کا درس دیتے ہیں، اخلاقیات کا درس وہ ہمیں دیں یہ میرا خیال ہے ان کو زیب نہیں دیتا، ہم اس درس کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور کسی کو بھی قبول نہیں کرنا چاہیے۔ کسی سیاسی لیڈر اور سیاسی جماعت کو قبول نہیں کرنا چاہیے، وہ جو خود اپنے حلف کے ساتھ دغا کرتے ہیں۔ اپنے حلف کیساتھ غداری کرتے ہیں اور یہ سب کچھ غداری کے زمرے میںآتا ہے۔ نواز شریف نے عمران کی جانب سے لودھراں الیکشن میں پیسے خرچ کر کے جیتنے کے الزام کے حوالے سے کہا کہ جو کہنا تھا کہہ دیا۔ عمران کو الزامات لگاتے شرم آنی چاہیے ۔ نوازشریف نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن ہی پاکستان کی سب سے بڑی جماعت ہے، کارکن فکر نہ کریں اللہ بہتر کرے گا، آئندہ حکومت بھی مسلم لیگ ن ہی بنائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارٹی رہنماؤں کے غیر رسمی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا، عوام نے دھرنے اور پیسے کی سیاست کو مسترد کردیا۔
احتساب عدالت نے نیب ریفرنسز میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں مسترد کر دیں۔اِس ساری صورتحال میں عوام دیکھ رہی ہے کہ کون سچا ہے اور کون کس کے مفادات کی حفاظت کر رہا ہے۔اللہ پاک پاکستان پر رحم فرمائے۔