انسان کی ناکامی و کامیابی

102

تحریر۔۔۔ ڈاکٹر فیاض احمد ۔۔۔ لندن
اور میں انٹرنیٹ اور میڈیا کا رواج ہے ہماری زندگی کا زیادہ تر انحصار اسی پر ہے ہم نے اپنے آپ کو آرام و سکون کا اتنا عادی بنا لیا ہے کہ ہر کام بیٹھے بیٹھائے کرنا چاہتے ہیں اتنے سست ہو گئے ہیں کہ ہمیں اپنی زندگی کا اصل مقصد تک بھول گیا ہے اور اپنے اصل راستے سے بھٹک گئے ہیں جس کی وجہ سے ہم ناکامیوں کا شکار ہوتے جارہے ہیں لیکن اس کے باوجود ہم اپنے آپ کو دیکھنے سے ڈرتے ہیں کیونکہ حقیقت درد ناک ہوتی ہے خداوندکریم نے ہمارے سامنے دو طرح کے راستے بنائے ہیں ایک میں دنیاکی راحت اور دوسرے میں آخرت کا سکون ہے اور ہم کو عقل وشعور سے بھی نوازا ہے جس کی وجہ سے ہم اچھے اور برے میں تمیز کر سکتے ہیں لیکن ہم اس کو استعمال کرنے سے ڈرتے ہیں کیونکہ اس میں محنت کرنی پڑتی ہے لیکن ہمیں تو دنیاوی دیکھاوا چاہیے اسی وجہ سے ہم دین اور دنیا دونوں کو ملا کر چلتے ہیں ارشادباری تعالیٰ ہے کہ اعمال کا دارومدار نیت پر ہے ہم اپنے اعمال کو جلدی پورا کرنا چاہتے ہیں لیکن ہماری نیت پختہ نہیں ہوتی جس کی وجہ سے ہمیں ناکامی ہوتی ہے ہمارے سامنے کچھ حقوق ہیں جن کا ادا کرنا ہمارا فرض ہے لیکن ہم ان سے غافل ہیں ہمیں تو ہر وقت اپنے حقوق کی فکر ہوتی ہے اور ہر وقت شکوہ و شکایت کرتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے برکت ہی ختم ہوجاتی ہے کبھی ہم نے سوچا ہے کہ ہمیں خدا نے ہمیں کن کن نعمتوں سے نوازا ہے اور ہم کیا تھے اور کیا ہو گئے ہیں قرآن مجید کی سورت الرحمن کو ترجمے کے ساتھ پڑھ لیں تو ہمیں یہ احساس ہو جائے گا کہ سارے دن میں ہمیں کن کن نعمتوں سے نوازا گیا اور ہم نے کتنی دفعہ ان کا شکر ادا کیا بلکہ ہم تو اکثرگلا کرتے نظر آتے ہیں یہ ہمارے ایمان کی کمزوری ہے ہماری ناکامی کی دوسری وجہ ہم کامیاب لوگوں کو دیکھ کر حسد کرتے ہیں محنت نہیں کرتے دوسروں پر تنقید کرنی آتی ہے تعریف نہیں ہم نے کبھی سوچا ہے کہ کامیاب ہونے کیلئے وہ کن حالات سے گزریں ہیں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہوگا اور کن تکالیف کے بعد وہ اس مقام تک پہنچے ہیں ہم تو بس آسان طریقے ڈھونڈنے کی جستجو میں اپنا قیمتی وقت برباد کر دیتے ہیں اوراپنے ذہن میں منفی اثرات مرتب کرنے کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں حالانکہ اس کے برعکس ہمیں اپنی سوچ کو مثبت انداز میں ڈھال کر اپنے مقصد کی طرف گامزن رہنا چاہیے تو انشاء اللہ ایک نا ایک دن ہم اپنی منزل پر پہنچ جاتے ہیں
خودی کو کر بلند اتنا ہر تقدیر سے پہلے کہ بندے سے خود خدا پوچھے بتا تیری راضا کیا ہے
آپ نے دیکھا ہوگا اگر انسان اپنی پوری توجہ اور لگن کے ساتھ کسی کام کو بھی شروع کرنے کی کوشش کرے تو ایک دن وہ اس مقام کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں بس نیت صاف ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ ہمارا خداوندکریم پر پختہ یقین ہونا چاہیے جس طرح اولیاء اللہ دنیا کی رنگنیوں کو چھوڑ کر جنگلوں میں چلے جاتے ہیں اورعبادت میں مشغول ہوجاتے ہیں ایک دن خدا وند کریم کی خوشنودی حاصل کر لیتے ہیں اسی طرح دنیا وی زندگی میں بھی ایسا ہی ہوتاہے ہماری لگن اور خداوند کریم پر یقین کے ساتھ ساتھ محنت ہمیں ہماری منزل تک پہنچا دیتی ہے ہم کسی کو نقصان دئیے بغیر اپنی منزل کو حاصل کر سکتے ہیں لیکن ہم تو دین اور دنیا دونوں کو ساتھ ملا کر چلتے ہیں جس میں زیادہ فائدہ نظر آئے اس کو زیادہ وقت دیتے ہیں لیکن دوسرے کو بھی نہیں چھوڑتے ایک دوسرے کو دھوکہ دینا ہماری فطرت ہو گئی ہے دوسروں کو جھوٹے دلاسے دیتے ہیں کبھی ہم نے سوچا ہے کہ یہی صورت حال اگر کوئی ہمارے ساتھ کرے تو ہمیں بہت افسوس ہوتا ہے اور تکالیف ہوتی ہے اسی طرح دوسرے بھی انسان ہیں ان کو بھی درد ہوتا ہے
حضرت علیٰ ؒ کا قول ہے کہ
’’کسی کو تکلیف دینے سے پہلے یہ خیال رکھو کہ اگر اس کی جگہ تم ہو تو تمہارے اوپر کیا گزرے‘‘ہم ہر لحاظ سے اپنے آپ کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں ہمیں اپنی قابلیت پر انحصار ہونا چاہیے اگر اچھی پرورش ہوگی تو اچھی سوچ ہوگی اور اچھی سوچ کے ساتھ آپ کسی کو نقصان پہنچائے بغیر کامیاب ہو سکتے ہیں لیکن ہمیں اپنی قابلیت سے زیادہ سفارش پر فخر ہوتا ہے جو ہماری ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ہے کوئی بھی انسان سنہری مستقبل لے کر پیدا نہیں ہوتا اس کو حاصل کرنے کے لئے سخت محنت اور قربانی کی ضرورت ہوتی ہے ہمیں اپنی ناکامیوں سے کچھ سیکھنا چاہیے ذاتی اور پیشہ وارانہ کامیابی حاصل کرنے کے لئے اپنے آپ کو ڈپریشن سے آزاد رکھیں اپنی سوچ کا دائرہ وسیع کریں اپنے آپ کو خوش رکھیں اور اپنے کام کو دل سے اور خوش اسلوبی کے ساتھ کریں ارادے پختہ اور یقین کامل ہونا چاہیے
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر لوگ ملتے گئے اور کارواں بنتا گیا
اپنے پختہ نظریات اور مثبت سوچ سے ہی لوگ اپنے ارادوں کو کامیاب بناتے اور اپنا نام پیدا کرتے ہیں کامیابی حاصل کرنے کیلئے اپنے اندر مثبت سوچ پیدا کرو جو حالات کے مطابق آپ کے اندر مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت پیداکرتی ہے انسان کے اندر خوداعتمادی ہونی چاہیے کوئی بھی انسان حالات و واقعات کو کنٹرول نہیں کرسکتا لیکن کامیاب لوگ ان حالات کے ردعمل کے نتیجے میں پیدا شدہ تبدیلیوں کو کنٹرول کر کے حالات پر قابو پا سکتے ہیں کامیاب بننے کیلئے ہمارے اندر فیصلہ کرنے کی طاقت ہونی چاہیے اور اس پر عمل کرنے کی بھی، کامیابی حاصل کرنے کیلئے محنت سے کامیابی کے راستے تلاش کرنے پڑتے ہیں جس کیلئے لگن کا ہونا ضروری ہے
۔ عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی یہ خاکی اپنی قسمت میں نا نوری ہے نہ ناری ہے
کامیابی کیلئے عمل کی بھی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ جب تک عمل نہیں ہو گا تو ردعمل کیسے پیدا ہوگا اس لئے ہمیں اپنے عمل کو پائیدار کرنا ہوگا
ہمیں اپنے ایمان کو مضبوط کرنا ہے اور نیک نیت سے کسی کو نقصان پہنچائے بغیر اپنی منزل کی طرف گامزن رہنا ہے زندگی میں کسی کو کبھی اپنے سے کمتر نہیں سمجھنا اور اپنے آپ کو ایسا بنانا ہے کہ دوسرے ہمارے لئے خود دعا کریں انشاء اللہ کامیابی ہمارے قدم چومے گی جو خوشی دوسروں کو خوش کر کے ملتی ہے اس کا مزہ ہی الگ ہوتا ہے