زینب کے قاتل عمران علی کو 4 بار سزائے موت کا حکم

13

قصور میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی ننھی زینب کے کیس کا فیصلہ سنادیا گیا ہے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے قصور میں زینب سے زیادتی اور قتل کا جرم ثابت ہونے پر مجرم عمران علی کو 4 بار سزائے موت سنادی۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے ایڈمن جج سجاد احمد نے 4 روز تک مسلسل کئی کئی گھنٹے کیس کی سماعت کے بعد جمعرات کو فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج سنادیا گیا۔ کیس کا ٹرائل کوٹ لکھپت جیل میں کیا گیا اور فیصلہ بھی جیل کے اندر ہی سنایا گیا۔ فیصلہ سننے کے لیے زینب کے والد محمد امین بھی کوٹ لکھپت جیل میں موجود تھے۔

جیل کے باہر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب احتشام قادر نے بتایا کہ عمران علی نے زینب سمیت 9 بچیوں کو درندگی اور ہوس کا نشانہ بنایا، آج اس درندے کو نشان عبرت بنادیا گیا ہے۔ عدالت نے زینب کے قتل، اغوا، جنسی زیادتی اور انسداد دہشت گردی کی دفعہ نمبر 7 کے تحت مجرم عمران علی کو 4 بار سزائے موت دینے کا حکم سنایا۔

پراسیکیوٹر جنرل پنجاب احتشام قادر نے کہا کہ زینب کے ساتھ زیادتی پر عمران علی کو عمر قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی۔ لاش کو چھپانے کے لیے گندگی کے ڈھیر میں پھینکنے کے جرم میں 7 سال قید کی سزا دیتے ہوئے 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ عدلیہ نے درندے کو نشان عبرت بنانے کے لیے ایک بڑی اہم بنیاد رکھ دی ہے اور اس مقدمے میں نظام انصاف کو نئی جہت ملی ہے جس کے نتیجے میں اب پاکستان میں سائنسی شواہد پر بھی سزائے موت سنائی جاسکتی ہے۔

احتشام قادر نے بتایا کہ مجرم نے پہلی پیشی میں ہی عدالت میں زینب سمیت تمام بچیوں پر ڈھائے گئے ظلم کا اقبال جرم کیا اور تمام تفصیلات بتائیں۔ اس کے باوجود عدالت نے اسے شفاف ٹرائل کا مکمل حق دیا اور سوچنے سمجھنے کے لیے 40 منٹ دیے۔ اقبال جرم کے باوجود ہم نے منصفانہ و شفاف ٹرائل کے لیے تمام ثبوت اور شواہد جمع کرکے عدالت میں پیش کیے تاکہ دنیا کو پیغام جائے کہ کیس میں مکمل شفاف ٹرائل ہوا۔

پراسیکیوٹر جنرل نے بتایا کہ اس سیریل قاتل نے 9 بچیوں کے ساتھ زیادتی کی جن میں سے 2 زندہ ہیں لیکن 7 مرچکی ہیں، ابھی صرف زینب کیس کا ٹرائل ہوا ہے، باقی مقدمات کے ٹرائلز، گواہ اور شواہد سب الگ ہیں جن کی کارروائی ابھی چلے گی، ایک دو دن میں مزید دو مقدمات اور 10 سے 15 دن میں تمام کیسز کا فیصلہ آجائے گا، 15 دن میں سزا کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہے، لیکن عمران علی نے بقائمی ہوش و حواس اور خدا کو حاضر ناظر جان کر اپنے اس قبیح اور گھناؤنے جرم کا اعتراف کیا۔

مجرم کو سرعام سزا دینے سے متعلق سوال کے جواب میں احتشام قادر نے بتایا کہ مجرم کو کیسے سزا دی جاتی ہے یہ طے کرنا عدالت کا نہیں بلکہ حکومت کا کام ہے، عمرن علی کو انسداد دہشت گردی کے خصوصی قانون کے تحت سزا سنائی گئی ہے، اس قانون کی شق 22 کے تحت کسی بھی مجرم کی سزائے موت پر عمل درآمد کا طریقہ حکومت کی صوابدید پر منحصر ہے اور مجرم کو سرعام سزا دینے کا بھی اختیار حاصل ہے، اس سلسلے میں مشاورت جاری ہے اور انشااللہ زینب کے والد کی درخواست کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جائے گا۔

کیس میں پراسیکیوشن کے 58 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔ سپریم کورٹ نے زینب قتل کیس کا ٹرائل 7 روز میں مکمل کرنے کے احکامات دیے تھے۔ ملزم عمران نے اقبال جرم کرتے ہوئے اپنے دفاع میں کسی قسم کا ثبوت پیش کرنے سے انکار کیا تھا۔ ملزم عمران نے اعترافی بیان میں یہ بھی کہا کہ میں نے ننھی بچیوں پر بہت ظلم کیا اور میں معافی کے بھی لائق نہیں۔

پراسکیوٹر جنرل پنجاب احتشام قادر نے بتایا کہ ملزم عمران نے زینب سمیت 8 بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے تاہم آج صرف زینب قتل کیس کا فیصلہ سنایا گیا کیونکہ باقی بچیوں کے مقدمات کا ٹرائل ابھی جاری ہے اور ان کیسز میں قانونی تقاضے پورے کرنے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ قصور میں 7 سالہ بچی زینب کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔ اس گھناؤنے جرم میں ملوث ہونے پر ملزم عمران علی کو گرفتار کیا گیا جس نے زینب کے علاوہ دیگر 7 بچیوں کو بھی زیادتی اور قتل کرنے کا اعتراف کیا۔ واقعے کے خلاف عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور احتجاج کیا لیکن پولیس نے مظاہرین پر گولی چلادی جس کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہوگئے۔ زینب کیس ملکی تاریخ کے ہائی پروفائل مقدمات میں سے ایک بن چکا ہے۔