عظمتِ ماں

52

اقراء نور ۔۔۔ پتوکی
ماں ایسی شفیق ومہربان عظیم ہستی کا نام ہے جس کی عظمت،ادب و مقام کو لفظوں میں بیاں کرنا گویا سمندر کو کوزے میں بند کرنا ہے۔ ماں وہ عظیم ہستی ہے جو اپنی اولاد کے لیے ایسی سراپا رحمت ہے جو پت جھڑ میں سراپا بہار ہے زیست کے ہر رنگ میں خوشی کادلکش راگ ہے ایک ایسا ساز ہے کہ جس سے گھر کا آنگن دلفریب و روشن ہے۔ماں وہ عظیم ترین ہستی ہے جس کی دعا انسان کو دونوں جہاں میں بلند و بالا مقام دلاتی ہے۔ماں کی دعاایک قصاب کو عظیم المرتبہ پیغبر کلیم اللہ موسی علیہ السلام کا جنت میں ساتھی بنا دیتی ہے۔ماں وہ عظیم ہستی ہے جس کی محبت اپنے اولاد کے لیے ہر لالچ وحرص ریا کاری سے پاک شفاف پرخلوص ہوتی ہے خود رب کائنات نے بھی اپنی محبت بتلانے کے لیے ماں کی محبت کی مثال پیش کی حدیث قدسی میں فرمان رب باری تعالی ہے
’’میں ستر ماوں سے زیادہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہوں‘‘اولاد کتنی بھی بری و نافرمان کیوں نہ ہو مگر ماں ایسی عظیم ہستی جو کبھی اپنی اولاد کی خامیاں نہیں دیکھتی بلکہ اس کی خوبیوں کو سراہتی ہے اتنی شفیق ہستی کہ جو اپنی اولاد کی ذرا سی تکلیف پر تڑپ اٹھتی ہے. خود گیلے بستر پہ رات گزار کر بچے کو خشک بستر پر سلاتی ہے اس کائنات کا ہر جاندار غموں کی تمازت اور ہر دکھ تکلیف پریشانی و الجھن میں ماں کے دامن میں چھپ کر راحت وسکون محسوس کرتا ہے ماں وہ عظیم المرتبہ ہستی ہے جس کے ادب واحترام کا مقام یہ ہے کہ خود رب باری تعالی ہمیں حکم دیتا ہے
’’والدین کو اف تک نہ کہو اور نہ جھڑکو بلکہ نرمی سے بات کرو‘‘(سورۃ النساء )
ماں کی عظمت و مقام کا اندازا اس حدیث نبویﷺسے لگایا جا سکتا ہے ۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ’’ ایک شخص آپ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور اس شخص نے عرض کیا، یا رسول اللہﷺ یہ فرما دیجئے کہ میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ ۔نبی آخر الزماں حضرت محمد صلﷺنے فرمایا،’’ تیری ماں‘‘انہوں نے پھر عرض کیا ،پھر کون؟ ۔آپ ﷺنے فرمایا، تیری ماں ،انہوں نے پھر عرض کیا، پھر کون؟ ،آپ ﷺ نے فرمایا، تیری ماں چوتھی مرتبہ یہی سوال پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا، تیرے والدِ بزرگوار (صحیح بخاری، کتاب الادب )
رب باری فرماتا ہے’’ اگر اپنے سوا کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو بیوی کو حکم دیتا کہ شوہر کو سجدہ کریں‘‘میں قربان جاؤں ماں کی عظمت ومقام پر کہ خدا نے اس عظیم المرتبہ شوہر کو ماں کی خدمت کا حکم دیا ہے ماں کی خدمت کو جنت کا حصول قراردیتے ماں قدموں میں جنت رکھ دی ماں کی زیارت کو مقبول حج وعمرہ کا ثواب بنادیاماں کی نافرمانی کو ناکامیوں محرمیوں کا سبب بنا دیا ماں کی ناراضگی کو خدا کی ناراضگی قرار دیا۔ایک صحابی رسول آخری لمحات میں تھے صحابی ہونے کے باوجود زبان پر کلمہ جاری نہیں ہورہا تھا آپ ﷺ کو بتایا گیا تو آپ ﷺنے فرمایا اس کی ماں ناراض ہیں اس لیے کلمہ زبان پر جاری نہیں ہورہا‘‘ماں کی عظمت ومقام کو لفظوں میں بیاں کرنا ممکن نہیں بس اتنا کہوں گی کہ ماں کی اہمیت مقام یہ ہے کہ دنیا کی ہر چیز خریدی جا سکتی ہے بیوی و بچے اور مل سکتے ہیں محنت ولگن سے پیسے کی ریل پیل کی جاسکتی ہے مگر ماں ایسی انمول ہستی ہے دوبارہ نہیں مل سکتی اس لیے ابھی موقع ہے ماں کو راضی کیجئے۔ماں کی قدر جان لیں بعد میں آنسو بہانے کے سوا کچھ نہیں ملے گااللہ رب العزت ہم سب کو ماں کی خدمت کرنے کی توفیق عطافرمائیں۔ ان کا ممتا بھرا سایہ تادیر ہمیں سروں پہ قائم دائم رکھیں اور جن کی مائیں رخصت ہوچکی ہیں انکی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائیں آمین
کسی اہل دل نے خوب کہا ہے
نیند اپنی بْھلا کے سْلایا ہم کو
آنسو اپنے گِرا کے ہنسایا ہم کو
درد کبھی نہ دینا اْن ہستیوں کو
اللہ نے ماں باپ بنایا جن کو