امریکا کے پہلے صدر کی داستان حیات

11

جارج واشنگٹن 1732ء میں ورجینیا میں پیدا ہوا۔ وہ ایک امیر کاشت کار کا بیٹا تھا۔ بیس برس کی عمر میں اسے ایک بڑی جاگیر ورثہ میں ملی۔ 1753ء سے 1758ء تک وہ فوج میں رہا اور فرانسیسی اور ہندوستانی جنگ میں بھرپور حصہ لیا اور فوجی تربیت اوراعزاز حاصل کیا۔ 1758ء میں وہ ورجینیا لوٹا اورفوجی نوکری سے استعفیٰ دے دیا۔ جلد ہی اس نے لاولد بیوی مارتھاڈینڈرج کسٹس سے شادی کرلی۔ خود اس کے بھی کوئی اولاد نہ ہوئی۔ اگلے پندرہ برس وہ بڑی تندہی سے اپنی جاگیرکے کاروبار کی نگرانی کرتا رہا۔ 1774ء تک وہ پہلی براعظمی کانگریس کے لیے ورجینیا کے وفد کارکن منتخب ہوا۔ وہ ان کالونیوں کے انتہائی رئیس افراد میں شمار ہوتا تھا۔ واشنگٹن ابتداً خود مختاری کے حق میں نہیں تھا۔تاہم جون1775ء میں دوسری براعظمی کانگریس کے موقع پر اس کو متفقہ طورپر براعظمی فوجوں کاسپہ سالار منتخب کیا گیا۔ اپنے عسکری تجربے، اپنی دولت اوروقار، جسمانی تناسب (وہ چھ فٹ دوانچ کا مضبوط کا ٹھی والا مرد تھا)، مضبوط ارادے، اپنی انتظامی صلاحیتوں اورسب سے بڑھ کراپنے کردار کی پختگی کے سبب اس کا اس عہدے کے لیے انتخاب منطقی تھا۔ جنگ میں اس نے کسی تنخواہ کے بغیر اور ناقابل تقلید لگن سے حصہ لیا۔ اس نے اصل کارنامے جون1775ء سے مارچ1797ء کے درمیانی عرصہ میں سر انجام دئیے۔ اول الذکر تاریخ میں وہ براعظمی فوجوں کا سپہ سالاربنا، جبکہ موخرالذکر تاریخ کو اس کا دور صدارت دوسری مرتبہ مکمل ہوا۔ دسمبر1799ء میں وہ ورجینیا میں مائونٹ ورٹن میں اپنے گھر میں فوت ہوا۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی استواری میں اس کی نمایاں شخصیت اس کے تین اہم حیثیتوں کے سبب قائم ہوئی۔ اول وہ امریکی جنگ آزادی میں ایک کامیاب فوجی رہنما ثابت ہوا۔ یہ درست ہے کہ واشنگٹن غیرمعمولی عسکری جواہر کامالک نہیں تھا۔ وہ کسی طورپرسکندر اعظم یا جولیس سیزر جیسی شخصیات کی صف میں نہیں آتا، بلکہ اس کی تمام تر فتوحات برطانوی فوجی افسروں کی حران کن نااہلی کی مرہون منت دکھائی دیتی ہیں لیکن یہ بات بھی اہم ہے کہ اسی جنگ میں متعدد دیگر امریکی فوجی سالار ناکام ہوئے، جبکہ واشنگٹن نے چند مختصر شکستوں کے باوجود جنگ کو کامیابی کی طرف موڑ دیا۔ دوئم وہ آئینی مجلس کاصدرتھا۔ ہرچند کہ واشنگٹن کے خیالات نے امریکی آئین کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا نہیں کیا لیکن اس کی طرف داری اوراس کی ذاتی حیثیت نے اس دستاویز کی ریاستی حکومتوں کی طرف سے فوری منظوری کو ممکن بنایا۔ اس دور میں اس نئے آئین کی خاصی مخالفت بھی کی گئی۔ اگرواشنگٹن کا ذاتی اثر ورسوخ شامل حال نہ ہوتا تو ممکن تھا، یہ آئین کبھی منظور بھی نہ ہوتا۔ سوئم واشنگٹن ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا پہلا صدر تھا۔ یہ امریکہ کی خوش بختی ہے کہ اولین صدر کی حیثیت سے ایک اعلیٰ صفات اورکردار کا انسان جارج واشنگٹن اس کے حصہ میں آیا۔ یہ بات متعددجنوبی امریکی اور افریقی اقوام کی تاریخ سے مترشح ہے کہ ایک نئی قوم کا، چاہے وہ جمہوریت سے ہی آغاز کیوں نہ کرے، ایک فوجی آمریت کے تحت آجانا ممکن ہوتاہے۔ واشنگٹن نے اپنے پختہ کردار کے سبب اس نئی قوم کو انحطاط سے محفوظ رکھا۔ اسے مستقل طورپر اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنے کی حرص نہیں تھی۔ نہ اس میں بادشاہ یا آمر بننے کا جنون تھا۔ یہ ایسی مثال تھی جس کی آج بھی امریکہ میںتقلید کی جاتی ہے۔ جارج واشنگٹن دیگر امریکی سربراہان جیسے تھامس، جیفر سن، جیمز میڈیسن، الیگزینڈر ہیلٹن اور بنجمن فرینکلن کی مانند تیز طبع اورمفکر نہیں تھا، لیکن اس کی افادیت ان سے کہیں زیادہ تھی۔ کیونکہ واشنگٹن نے جنگ اور امن دونوں حالتوں میں اعلیٰ سربراہانہ ناگزیر ضرورت کو پوراکیا، جس کے بغیر کوئی سیاسی تحریک کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتی۔ اگرچہ امریکہ نے بیسویں صدی کے وسط میں وہ عسکری قوت اور سیاسی اثرورسوخ حاصل کرلیاتھا، جو سلطنت روما کے اپنے کمال کے دور میں بھی حاصل نہیں تھا۔ لیکن ممکن ہے کہ مستقبل میں اس کی سیاست قوت کی عمر سلطنت روما جیسی دراز نہ ہو۔ دوسری طرف یہ واضح ہے کہ آئندہ زمانوں میں دوسری تہذیبوں کے لیے امریکہ کی عظیم تکنیکی ترقی کی اہمیت کہیں زیادہ ہوگی۔