جعلی پولیس مقابلوں کا ماہر سابق انسپکٹر عابد باکسر دبئی سے پاکستان منتقل

14

اسلام آباد (فلک نیوز) جعلی پولیس مقابلوں کے ماہر اور بدنام زمانہ سابق انسپکٹر عابد باکسر کو دبئی سے پاکستان منتقل کر دیا گیا ۔ فلک نیوز کو موصول دستاویزات کے مطابق عابد باکسر کو آج کراچی ایئرپورٹ پر منتقل کیا گیا ۔
عابد باکسر کو ابتدائی تفتیش کے بعد پنجاب حکومت کے حوالے کیا جائے گا ۔
ادھر ایف آئی اے حکام نے تاحال سارے معاملہ سے لا علمی کا اظہار کیا ہے ۔ ایف آئی اے حکام نے کہا کہ عابد باکسر کو پاکستان لایا گیا یا نہیں کچھ علم نہیں ۔
جعلی انکاؤنٹرز میں ملزمان کو مارنے سمیت دیگر جرائم سامنے آنے کے بعد انسپکٹر عابد باکسر 2007 میں نوکری سے فارغ ہوا اور دبئی فرار ہو گیا تھا اور پھر کبھی پاکستان نہیں آیا ۔ نائنٹی ٹو نیوز نے عابد باکسر کی دبئی میں گرفتاری کا معاملہ بھرپورانداز میں اٹھایا ۔
عابد باکسر جعلی پولیس مقابلے کرنے کے حوالے سے پنجاب میں مشہور تھا ۔
پنجاب حکومت نے عابد باکسر کی گرفتاری کیلئے انعامی رقم بھی مقرر کرررکھی تھی ۔ بدنام زمانہ عابد باکسر کے سر کی قیمت تین لاکھ روپے مقرر تھی ۔
عابد باکسر میڈیا پر اس وقت منظر عام پر آیا جب اس نے معروف ادکارہ نر گس کا سر مو نڈا اور تشدد کا نشانہ بنایا تھا ۔
یہ وہی سابق انسپکٹر عابد باکسر ہے جو سٹوڈنٹ لیڈر طاہر پرنس ،بچہ گارڈن ،اداکارہ ماروی قتل اور کئی مبینہ جعلی مقابلوں میں ملوث بھی ہے ۔
2007 میں لاہور میں بریگیڈیئر نسیم شریف کو قتل کرانے اور ان کی اربوں روپے کی جائیداد ہتھیانے کے مقدمہ میں عابد باکسر،اس کا ماموں ظفر عباس ،ماموں زاد بھائی ندیم عباس اور علی عباس المعروف علی باکسر ملوث تھے جس کے بعد وہ ملک چھوڑ کر فرار ہو گیا اور اشتہاری ہونے پراس وقت کے آئی جی پنجاب طارق سلیم ڈوگر نے اسے نوکری سے برخاست کر دیا تھا ۔
2014 میں باہر سے عابد باکسر نے ایک نجی چینل کو انٹرویو میں ہوش ربا انکشافات کئے تھے جس میں ان نے حقائق سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا تھا کہ کس طرح وقت کے حکمرانوں نے اس کے ذریعے جعلی پولیس مقابلوں کی آڑ میں قتل کرائے ۔
عابد باکسر کو اب پاکستان منتقل کر دیا گیا ہے ۔ بد نام زمانہ جعلی مقابلوں کے ماہر ملزم سے تفتیش کے دوران مزید انکشافات کی توقع ہے ۔