بابا رحمتا آپ کہاں ہیں؟

34

تحریر(ڈاکٹر میاں احسان باری)

بانئ پاکستان کی تصویر کی بے حرمتی ہو چکی بلکہ وہ زمین پر گری اور چھینا جھپٹی میں ریزہ ریزہ ہو گئی پانچ ہزار کا نوٹ کوئی تو لے اڑا اورکسی کے ہاتھ میں اس کا ایک ٹکڑا آیا اور دوسرا زمین پر گرااور پاؤں تلے روندا گیا سیالکوٹ میں ایک شادی پر گذشتہ دنوں نودولتیے سود خور سرمایہ دار نے پانچ ہزار کے نوٹ برات اور عوام پر پھینک ڈالے ا ن نوٹوں کو حاصل کرنے کے لیے لوگ آپس میں الجھ پڑے حتیٰ کہ کئی گاڑیوں کے شیشے تک ٹوٹ گئے اور دیگر نقصان تک بھی ہوا۔ ہوا میں اڑتے نوٹوں کو حاصل کرنے کے لیے باراتی و دیگر افراد ایکدوسرے پر پل پڑے کئی کے کپڑے پھٹے اور کئی زمین پر گر کر زخمی بھی ہوئے راقم نے رحیم یار خان کی ایسی ہی ایک شادی پر مکان کی چھت سے ہزاروں کے نوٹ اڑانے پر “کوڑے مارو اور جائداد قرق کرو”کے نام سے ایک کالم لکھا تھا کہ ایسے سود خور نودولتیوں بدکردار پلید وڈیروں یا پھر انگریز کے پروردہ ظالم جاگیرداروں کی اولادوں کو ایسی مذموم حرکات کو اگر فوراً نہ روکا گیا تو ایسے مزید واقعات رونما ہوتے رہیں گے مقامی تھانہ نے “مک مکا” کرکے اس مغرور نودولتیے کے خلاف کوئی ایکشن نہ لیا تھاسابقہ شادی میں تو/1000 500 کے نوٹ پھینکے گئے تھے اور یہ عمل مسلسل 6منٹ تک جاری رہا تھا وہاں نوٹ اکٹھے کرنے پرچھینا جھپٹی ہوئی ۔لوگ گتھم گتھا ہو ئے اور کپڑے پھٹنے کے علاوہ کچھ کو زخم بھی آئے تھے ہمارے آقائے نامدار ختم المرسلین ﷺ کے دور میں شادی بیاہ پر ایسا کوئی واقعہ نظر نہیں آتا شادی پر بھاری رقوم کا ضیاع نہیں ہو تا تھا دور خلافت میں تو خلیفہ پیوند لگے ہوئے کپڑے پہنے ہوتے تھے مگر رعب دبدبہ ایسا کہ کفار اور اسلام دشمن افراد کی بات کرتے ہوئے ہچکی بندھ جاتی تھی لکھوکھا ایکڑ زمینوں پر ان کی حکمرانی قائم تھی غیر مسلم تک ان کی حکمرانی سے مطمئن تھے مگر آج نچلے پسے ہوئے طبقات کے غریب افراد تو دو وقت کی روٹی حاصل نہیں کر پار ہے ۔ 70فیصد سے زائد پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور محض ہیں ہر ماہ اکا دکاانتہائی افسوسناک واقعات رونما ہو جاتے ہیں کہ فلاں شخص خود سوزی کرکے خود کشی کر گیا اور فلاں بمعہ بال بچوں اور بیوی کے دریایا کسی بڑی نہر میں چھلانگ لگا کر خود بھی ڈوب مرا اور اپنے بیوی بچے بھی ڈبو ڈالے بابا رحمتا صاحب !ویسے تو عوامی مفاد کے مسائل پر آپ ازخود نوٹس لیتے ہیں مگر اس واقعہ پر جس میں حکومتی کرنسی کی یوں بے عزتی کی گئی کہ نوٹ تک زمین پر گرے اور کچھ پھٹے ہوئے کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں اور گندی نالیوں میں جا گرے قائد اعظم کی فوٹو کا بدترین حشر ہواقائد پاکستان کی تصویر کی بے حرمتی ،دہشت گردی سے کیا کم عمل ہے؟اب نیب والے بھی چپ سادھ لیں کہ وہ شریفوں کے مقدمات میں مصروف ہیں بابا رحمتا صاحب آپ اس کا لازماً نوٹس لیں ایسے انہونے واقعہ پر قانون لازماً حرکت میں آنا چاہیے ویسے بھی کوئی ذی شعور شخص حلال کمائیوں کو اڑا اور خاک میں نہیں ملا سکتا یہ تو واضح طور پر حرام مال کی کمائیوں کے کمال ہیں بیرونی قرضوں نے عوام کی کمر دوہری کرڈالی ہے مہنگائی کاطوفان بد تمیزی آسمانوں سے باتیں کر رہا ہے غربت اور بیروزگاری کے عفریت علیحدہ ڈس رہے ہیں ان حالات میں ایسے پاگل نودولتیے خواہ وہ صنعت کار یا علاقہ کا وڈیرہ جاگیردار ہی کیوں نہ ہو نتھ نہ ڈالی گئی تو اس طرح کے مزید واقعات ہوتے رہیں گے ہم تو بیرونی قرضوں کی قسط دینے کے بھی قابل نہ ہیں اور پیرس میں امریکی سامراج و ظالم یہودی نصرانی اورہندو مہاشوں کا اجتماع ہم پر معاشی پابندیاں لگانے پر تلا بیٹھا ہے سابقہ لیے گئے ڈھیروں قرضوں سے موجودہ حکمرانوں کے اللے تللے جاری ہیں ان رقوم پر نصف سے زائد تو فراڈ فضول اور ناپسندیدہ سکیموں پر خرچ ہو جانے کے بہانے کسی نہ کسی بیرونی ملک میں موجود “لیک” کے اند ر جمع ہو رہے ہونگے۔ دوسری طرف ہماری معیشت کا بھانڈا سرراہ پھوٹتا نظر آرہا ہے اغیار نے چاروں طرف سے ہمیں گھیرے میں لے رکھا ہے اگر ان حالات میں بھی ہم ایسے حرام کمائی والے نو دولتیوں کے خلاف ایکشن نہ لے سکیں تو یہ پاکستان کے آئین سے غداری کہلائے گی ہماری تو جوان بہنیں بیٹیاں سرمایہ کی کمی کی وجہ سےَ ان بیاہی سفید بال کیے گھروں میں بیٹھی پیا کو سدھار جانے کو ترس رہی ہیں ایسے واقعات ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں ویسے تو ” مالِ حرام بود بجائے حرام رفت “کے مصداق حرام خوروں نے ناجائز طریقے سے مال اکٹھا کیا ہو تا ہے وہ اسی طرح حرام طریقوں سے ہی چلا جاتا ہے مگر قائد اعظم ؒ کی تصویر کی بے حرمتی تو لازماً سرمایہ دارانہ ذہنیت کی دہشت گردی کے زمرہ میںآتی ہے ایسے شخص کی منقولہ و غیر منقولہ ساری جائدادضبط کرکے اسے قرار واقعی سزا دی جائے ۔NIP THE EVIL IN THE BUD برائی کو ابتدا ہی میں دفن کردو ابھی وقت ہے اس کو عبرتناک سزا دے ڈالو وگرنہ کوئی منچلا سرمایہ دار اس سے بڑھ کر کوئی غلیظ حرکت لازماً کرے گاکیا فرماتے ہیں جید علمائے کرام اور مفتیان عظام بیچ اس مسئلہ کے ؟کھلی جگہ پر کسی چوراہے پر لٹکانا ہی اس کی کم ازکم سزا ہے وگرنہ بابا رحمتا!یہ سب کہانیاں ہیں۔