سوات کا امن و امان

22

تحریر ۔۔۔فضل خالق خان
سوات میں گزشتہ ایک عشرے کے دوران یہاں کی لوگوں کو جہاں قدرتی آفات سیلاب اور زلزلے کی تباہ کاریوں کا سامنا کرنا پڑا وہاں دہشت گردی کے عفریب نے بھی یہاں کی لوگوں کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ۔ سوات میں فوجی اپریشن کے بعد سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کی قربانیوں کی بدولت امن قائم ہوا جس میں یہاں کی لوگوں کی قربانیاں بھی شامل ہیں کیونکہ ہر کوئی جانتا ہے کہ مقامی لوگوں کی تعاؤن کے بغیر کبھی بھی کوئی اپریشن کا میاب نہیں کیا جاسکتا ہے یہی وجہ ہے کہ سوات کی لوگوں نے جانوں اور مال کے نذرانے دئے اور فورسز کے شانہ بہ شانہ امن کی ’’فاختا‘‘ کو سوات کی آزاد فضاؤں میں اُڑنے کا موقع فراہم کیا۔ بدقسمتی سے ماہ رواں کی 3 تاریخ کو امن دشمنوں کی جانب سے امن کی فاختا کی اس پرواز کو روکنے کے لئے ایک بار پھرکبل کے علاقے شریف آباد ’’گاڈی ‘‘ میں فوجی یونٹLK19 کے جوانوں پر جو اس وقت والی بال کھیل رہے تھے وار کیا گیا جس میں 12 قیمتی جانیں ضائع ہونے کے ساتھ 13 فوجی جوان زخمی ہوئے جس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے۔ اس واقعے کے بعد سیکیورٹی اقدامات کے طوپر سوات کی مختلف علاقوں میں موجود سیکیورٹی چیک پوسٹوں پرمعمول کی چیکنگ کا سلسلہ تھوڑا سخت کیا گیا جس سے کچھ تاخیر کے باعث ایک ناخوش گوار واقعہ خوازہ خیلہ میں رونما ہوا ور ایک بچی جاں بحق ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ۔ اس واقعے کو آڑ بنا کر کچھ عناصر نے سوات کی پرامن فضا کو ایک بار پھر مکدر کرنے کیلئے گیم کھیلنا شروع کیا،سادہ لوح لوگوں کی کندھوں پر بندوق رکھ کر سوات میں ایک بار پھر قومیت کے نام پر فورسز کو بدنام کرنے کی کوشش کی جانے لگی ۔ اعلانات کئے گئے کہ فورسز کی سختی کی وجہ سے سوات کی لوگوں کی عزت نفس کو مجروح کیا جارہا ہے اور لوگوں کو بے جا تنگ کرنے کا سلسلہ ایک بار پھر سے شروع کیا گیا ہے جو میرے تئیں کسی صورت درست نہیں حالات کی تنا ظر میں دیکھنا چاہئے کہ جو لوگ ’’گاڈی‘‘ کے واقعے میں ملوث ہیں وہ بھی تو انہیں چیک پوسٹوں پر نرمی کا فائدہ اُٹھا کر سوات میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے اگر عوامی احتجاج وغیرہ کا ڈر نہ ہوتا اور ان چیک پوسٹوں پر کھڑے جوان اسی طرح سختی سے چیکنگ کرتے تو کسی صورت ممکن نہیں تھا کہ وہ عناصر یوں آسانی سے سوات میں داخل ہوتے ۔بد قسمتی سے اس سے پہلے بھی چیک پوسٹوں پر سختی کی شکایات کی بناء پر سیکیورٹی حکام کو نرمی کا فیصلہ کرنا پڑا جس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے یہ دل خراش واقعہ رونما ہوا ۔ حقیقت یہ ہے کہ ان سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر چیکنگ یہاں کی عوام کی حفاظت ہی کی خاطر کی جارہی ہے لیکن بدقسمتی سے جب بھی کسی کے ذاتی مفاد پر ضرب پڑتی ہے تو پھر ہمیں اجتماعی مفاد بھول جاتا ہے اور ہم اپنے ’’میں‘‘ ہونے کو برقرار رکھنے کے لئے احتجاج پر اُتر آتے ہیں ۔موجودہ حالات میں لازمی بات ہے کہ سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر سختی کرنا پڑرہی ہے کیونکہ امریکہ سے تعلقات اور بھارت کی گیدڑ بھبکیوں کے بعد سوات میں حالات کی درستگی کے حوالے سے ایک بار پھر سیکیورٹی خدشات محسوس کئے جارہے ہیں جس کی وجہ سے ان چیک پوسٹوں پر سختی ناگزیر ہوگئی ہے ۔یہ بات اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ اگر خوازہ خیلہ میں ہونے والاواقعہ پیش نہ آتا تو کسی نے کچھ بھی نہیں بولنا تھا لیکن بدقسمتی سے اس واقعے کو کچھ لوگوں نے مسئلہ بنا کر ان لوگوں کے مقاصد کو دوام بخشنا شروع کردیا ہے جو کسی صورت محب وطن نہیں سمجھے جاسکتے ۔ معلومات کے مطابق اس بچی کے والد نے بھی اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی لاعلمی کی بناء پر سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو آگاہ نہیں کیا تھا اگر وہ بروقت ان اہلکاروں سے رابطہ کرتا اور ایمرجنسی کی صورت حال بتاتا تو کون سنگدل ہوگا جومعصوم بچی کو مارنے کا جرم اپنے سر لیتا ۔ بہر حال اللہ کے کاموں میں کسی کو مداخلت کی مجا ل نہیں جس جان نے جانا تھا وہ تو چلی گئی لیکن اب جو زندہ ہیں انکی حفاظت اور سوات میں امن قائم رکھنے کے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے کا ہر فرد ان عناصر پر کڑی نظر رکھے جو یہاں بدترین حالات کے بعد قائم ہونے والے امن کو برباد کرنے کے درپے ہیں ۔ کسی کو بھی ایسی سازش کا حصہ نہیں بننا چاہئے جو ہمیں محب وطن کی صف سے نکال سازشی عناصر کی صف میں کھڑا کردے کیونکہ یہ ملک ہمارا ہے جب یہاں امن ہوگا تو ہم اس میں سکون کی زندگی پورا کرنے کا خواب مکمل کرسکیں گے بصورت دیگر در بہ در ہونے کے لئے میدان بہت ہیں۔