تحریک انصاف کا لاہور سول سیکریٹریٹ کے تالے توڑنے کا فیصلہ

22

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پنجاب میں کرپشن کے خلاف مہم تیز کرتے ہوئے سول سیکرٹریٹ کے تالے توڑنے کا فیصلہ کرلیا۔

تحریک انصاف ایل ڈی اے کے سابق ڈی جی احد چیمہ کی گرفتاری کے خلاف ہڑتال کرنے والی پنجاب بیورو کریسی کے خلاف میدان میں آگئی۔ لاہور میں تحریک انصاف کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں عبدالعلیم خان ، شعیب صدیقی اور دیگر اہم رہنماؤں نے شرکت کی۔  چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے بنی گالا سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اجلاس کی صدارت کی۔

ذرائع کے مطابق لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے سابق ڈی جی احد چیمہ کی گرفتاری پر سول سرونٹس نے لاہور سیکرٹریٹ کو تالے لگائے تھے تاہم پی ٹی آئی نے لاہور سیکرٹریٹ کے تالے توڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عمران خان نے کل سرکاری دفاتر کے تالے نہ کھلنے پر دو بجے ممبران صوبائی اسمبلی کو تالے کھلوانے کی ہدایت کر دی۔

پی ٹی آئی چیرمین نے پنجاب میں کرپشن کیخلاف مہم میں تیزی لانے کا فیصلہ کرتے ہوئے کل دوپہر دو بجے پنجاب اسمبلی کے اندر اور باہر احتجاجی مظاہرے کا حکم بھی دیا ہے جبکہ پارلیمانی کمیٹی کو یابید کمپنی اور فیصل سبحان کا کھوج لگانے کی بھی ہدایت کردی۔

پی ٹی آئی کے ایم پی اے شعیب صدیقی نے کہا کہ شریف خاندان کے لاپتہ فرنٹ مین فیصل سبحان کا پتہ لگانے کیلئے “تلاش گمشدہ” مہم شروع کی جائے گی، فیصل سبحان کی بازیابی کے لیے پنجاب اسمبلی میں احتجاج کیا جارہا ہے، کل تک اگر سول سیکرٹریٹ کے تالے نہ کھلے تو ایم پی ایز تالے توڑیں گے، وزیر اعلی شہباز شریف سے میٹرو منصوبے میں نو سو ارب کی کرپشن کا حساب بھی مانگا جائے گا۔

پی ٹی آئی کی جانب سے ملک گیر عوامی رابطہ مہم کے آغاز کا بھی اعلان کردیا گیا جو 4 مارچ کو کراچی سے شروع ہوگی اور لاہور میں اختتام پذیر ہوگی۔ پی ٹی آئی نے ماورائے عدالت ہلاکتوں کے الزام میں گرفتار سابق پولیس افسر عابد باکسر کی حفاظت کے لیے بھی آواز اٹھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے ان کی جان کو خطرہ لاحق ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

تحریک انصاف نے کہا کہ کہا کہ ماوارئے عدالتی قتلوں کے حوالے سے شہباز شریف بدترین ریکارڈ کے حامل ہیں، خدشہ ہے کہ شہباز شریف خود کو بچانے کیلئے عابد باکسر کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرسکتے ہیں، عابد باکسر کی سلامتی اور تحفظ کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں، عابد باکسر کی جان کو شہباز شریف سے خطرہ ہے۔

علاوہ ازیں پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پنجاب کی بیورو کریسی رائے ونڈ کی ذاتی ملازم بن چکی،  احد چیمہ کی گرفتاری پر ہڑتال کرنے والی بیورو کریسی کے بارے میں الیکشن کمیشن کو خط لکھا جائے گا، ان آفیسرز کو نگران سیٹ اپ میں تعینات نہ کیا جائے، کیونکہ یہ آفیسرز اپنی غیر جانبداری اور پیشہ وارانہ حلف کی پاسداری میں ناکام ہوگئے ہیں، مسلم لیگ ن کا ڈی ایم جی ونگ الیکشن میں قبول نہیں ہوگا۔