مقتل گاہ شام اور پاکستان

86

تحریر: انوشے صدام، پشاور
شام کا اسلامی تاریخ میں ایک خاص مقام ہے۔ امام مہدی اور مسیح کا ظہور ، دجال سے ایک بڑی لڑائی، روز محشر لوگوں کو شام میں جمع ہونے کی پیش گوئی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ مشہور ومعروف مقام ہے۔ ’’سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں: رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ’’اہل مغرب (شام) ہمیشہ حق پر غالب رہیں گے یہاں تک کہ قیامت آجائے گی‘‘ (صحیح مسلم)۔ ایک اور مقام پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جب اہل شام خراب ہو جائیں گے تو تم میں کوئی خیر باقی نہ رہے گی اور میری امت میں سے کچھ لوگ ہمیشہ غالب رہیں گے جو مخالفین کی کچھ پرواہ نہ کریں گے تاآنکہ قیامت آ جائے گی۔‘‘ (ترمذی، ابن ماجہ)
ان آثار و اخبار نے اس سرزمین کی اہمیت بہت بڑھا دی ہے اور مسلم جہاد کی تاریخ میں اس سرزمین کو طرہ امتیاز حاصل رہا ہے۔ اسی خطہ زمین میں سے مسلم شاہینوں کے گروہ نکل کر صلیبی درندوں پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں۔ اس کے دو شہر دمشق اور حمص صلیبی حملہ آوروں کے آگے ہمیشہ سر بکف رہے ہیں۔ امریکا کے نعرے لگاکر اور دور سے اسرائیل کو موت کے ڈراوے دے کر مسلم دنیا کو متاثر کرنے والے رافضی چہرے کو اللہ تعالیٰ نے پہلے عراق میں بے نقاب کیا، جہاں امریکی اقتدار کا پایہ رافضہ کے اپنے ہاتھوں مضبوط ہوا اور اب یہ چہرہ شام میں بے نقاب ہو رہا ہے۔
شام، انبیا اور رسل کی سر زمین مگر اب وہاں پر ایک منظم اور خوفناک جنگ مسلط کردی گئی ہے۔ایک ایسی جنگ کے جس میں مارنے والے جدید ترین اسلحہ سے لیس اور مرنے اور کٹنے والے معصوم ناتواں بچے اور خواتین ہیں۔ 2011ء سے یہ مرنے والے کوئی جنگجو یا دہشت گرد نہیں بلکہ عام شہری ہیں جو کہ 4دہائیوں سے مسلسل ظلم و دہشت برداشت کرتے آرہے ہیں اور انہیں مظالم کیخلاف سڑکوں پر نکلے ہیں۔
سوشل میڈیا کے ذریعے ہم تک پہنچنے والی تصاویر او رویڈیوز دیکھ کر نہیں لگتا کہ اشرف المخلوقات ایسا کرسکتی ہے۔ یقیناًوہ درندے ہی ہیں جو یہ سب کررہے ہیں۔ کبھی سوچا کہ ایسا سب ان کے ساتھ کیوں ہورہا ہے۔ بشار وہ متازع فرد ہے کہ جو دین کا مؤجد بن بیٹھا۔ سنی آباد کاروں کو اپنے غیر شرعی احکامات پر عمل کا کہتا جو نہ کرتااسے مظالم کا سامنا کرنا پڑتا اور اب تک انہیں مظالم کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ان تمام سنی اکثریتوں علاقوں کے باسیوں کو۔ اس ظالم حکمران نے نہ صرف گولیاں ماریں بلکہ باقاعدہ معصوم بچوں کو ذبح بھی کیا۔
عینی گواہوں کے مطابق شام کے در و دیوار پر لکھا ہے کہ ’’لا الٰہ الا بشار‘‘۔ (نعوذباللہ من ذالک) وہاں کے نوجوانوں کو مجبور کیا جاتا کہ وہ کہیں ’’بالروح بالدم نفدیک یا بشار‘‘۔ یعنی میرا جسم و جان تم پر فدا اے بشار۔ پھر جب وہاں کی سنی آبادی نے اس ظلم کے خلاف جہاد شروع کیا تو اسے مسخ کرنے کے لیے داعش کا شوشہ چھوڑا اس کے مغربی آقاؤں نے اس کی آڑ میں سنی آبادیوں پر بمباری کردی اور پورے پورے شہر ملیا میٹ ہوگئے۔
امت مسلمہ کے طاقتور حکمرانوں کا کردار میر جعفر سے بھی بر تر رہا، سب خاموش تماشائی بن کر شام کے مظلوم بچوں ،عورتوں کی لاشیں دیکھتے رہے۔ احتجاج تو دور کی بات ان ممالک کے ساتھ جو وہاں معصوم بچوں پر بمباری کرتے رہے ان کے ساتھ معاہدے کرتے رہے۔ مسلم حکمرانوں کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ جس قوم نے ہمارے بچوں کو خاک و خون میں تڑپا دیا، لاشوں کے ٹکڑے کردیے انہیں سے اسٹریٹجک فوائد کے نام پر معاہدے کیے جارہے ہیں۔ اس کی تازہ مثال خود پاکستان اور روس کے درمیان جنگی مشقیں اور معاہدے ہیں۔
عرب دنیا آج کل جس تبدیلی کے عمل سے دوچار ہے ،ہمارے ہاں اس کی واقفیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہمارے ہاں کسی ڈکٹیٹر کی رخصتی کا مطلب نظام کی تبدیلی نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی مذہبی سوتے سے پھوٹنے والی مذاحمت ایک جمہوری مذاحمت کہلاتی ہے لیکن عرب دنیا میں ہونے والی ’’عوامی بغاوت‘‘ ایک عظیم تبدیلی کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ کچھ بعید نہیں کہ شام میں اٹھنے والی بغاوت آگے چل کر اسلامی انقلاب لے آئے۔ اس وقت صرف اتنا کہا جاسکتا ہے کہ ہمیں اپنے بچوں کے قاتلوں سے اپنے تمام تعلقات ختم کرنے چاہئیں ۔ پاکستان مسلم اور کلمہ طیبہ پر بننے والے ملک کے ناتے شامی مظلومین کے لیے سفارتی سطح پر بھرپور آواز اٹھائے۔ اللہ اہل اسلام کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین