لاہور- ادب سرائے انٹرنیشنل کی جانب سے 2018 کا ایوارڈ ،اشرف عاصمی کو دیا گیا۔

35

(لاہور ) ادب سرائے انٹرنیشنل گزشتہ تیس سال سے فروغِ ادب کے لیے بے لوث کام کرنے والوں میں اسناد،میڈلز اور شہناز مزمل ادبی ایوارڈز تقسیم کرتا ہے۔اور یہ ایوارڈز پوری دنیا میں جہاں تک ہماری پہنچ ہوتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص یا کوئی گروپ فروغِ ادب کے لیے کام کر رہا ہے تو ہم اُن کی حوصلہ افزائی کے لیے یہ ایوارڈز تقسیم کرتے ہیں۔اور نوجوان نسل کی ہم بہت زیادہ حوصلہ افزائی کرتے ہیں کیونکہ یہی کل کے معمار ہیں اور اس میں بھرپور کردار بھی ادا کر رہے ہیں۔گزشتہ سال ہم نے سوئٹزرلینڈ، امریکہ، انگلینڈ،سعودی عرب اور بحرین میں فروغِ ادب کے لیے کام کرنے والوں اور شعراء کرام کو مختلف اسناد، میڈلز اور شہناز مزمل ادبی ایوارڈ سے نوازا۔اور ہم یہ میڈلز،اسناد کافی عرصے سے فروغِ ادب میں حوصلہ افزائی کے لیے تقسیم کر رہے ہیں۔اوراس سال بھی پاکستان کے مختلف علاقوں سے فروغِ ادب کے لیے کام کرنے والوں کو ایوارڈز اور میڈلز سے نوازا گیا۔شہناز مزمل ادبی ایوارڈ علی مزمل کی خدمت میں پیش کیا گیا۔علی مزمل ایک بہت بڑے دانشور، نقاد اور شاعر ہیں۔اور وہ فروغِ ادب میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔سوشل میڈیا پر چلنے والی بہت سی ادبی تنظیموں میں ان کا بہت اہم کردار ہے۔ علی مزمل اپنی بیماری کے باوجود بے پناہ ادبی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ہمیں فخر ہے کہ ہمیں ان سے ملنے کا موقع ملا اور ان کی بے پناہ صلاحیتوں کی بدولت ان کو یہ ایوارڈ دیا گیا۔
اور دسرا ایوارڈ میاں وقارالاسلام کو پیش دیا گیا جو گزشتہ بیس سالوں سے ادب سرائے انٹرنیشنل سے منسلک ہیں۔تین شعری مجموعوں کے خالق ہیں اور ان کی ایک سیریز بیسٹ نوٹس آف لائف کے نام سے چل رہی ہے۔جس کی بیس سے زیادہ جلدیں منظرِعام پر آچکی ہیں۔اور ان میں سے کلیات کو آپ نے ترتیب دیا ہے اور مشہور شاعرات کے حوالے سے بھی کام کر رہے ہیں مارول سسٹم اور بہت سی دیگر تنظیموں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ان کی ادبی خدمات کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے ان کو شہنازمزمل ادبی ایوارڈ سے نوازا گیا۔اورمیاں اشرف عاصمی کو بھی شہناز مزمل ادبی ایوارڈ پیش کیا گیا۔ میاں اشرف عاصمی صاحب ہائیکورٹ میں ایک وکیل ہیں اور بہت عرصے سے کالم نگاری بھی کر رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر ان کئی کتابیں منظرِعام پر آچکی ہیں اور آپ مختلف شخصیات کے بارے میں بھی مضامین لکھتے رہتے ہیں۔ ان کا پیشہ بھی بہت مصروف ترین پیشہ ہے لیکن اس کے باوجو آپ فروغِ ادب کے لیے بے پناہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں ان کی ایک موجودہ کتاب قانون کی حاکمیت ایک زبردست تخلیق ہے۔ ایوارڈز کے ساتھ پاکستان کے مختلف علاقوں میں ادبی خدمات سرانجام دینے والوں میں گولڈ میڈل بھی تقسیم کیے گئے۔ جن میں سے پہلا گولڈ میڈل امین اڈیرائی جن کا تعلق سندھ سے ہے ان کو دیا گیا۔یہ ادب کے لیے بہت سی خدمات انجام دے رہیہیں اور مختلف کتابوں کے تراجم پیش کیے ہیں۔دوسرا گولڈ میڈل قمر ہمدانی صاحب کو جن کا تعلق جھنگ سے ہے ان کو پیش کیا گیا۔اور قمر ہمدانی صاحب گزشتہ پچیس سال سے دریچہ ادب کے نام سے ایک ادبی تنظیم چلا رہے۔
تیسرا گولڈ میڈل مہرخان کو پیش کیا گیا جن کا تعلق دادو سندھ سے ہے۔ وہ بھی ادبی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔دو عالمی شہرت یافتہ اداریادارہ عالمی اردو محفل ادارہ اردو ادب پاکستان کا بانی و چیر مین ہیں۔آپ کے انتخابات کلام مختلف اخبارات کی زینت بن چکے ہیں اور یہ سلسلہ تا حال جاری ہے۔چوتھا گولڈ میڈل عجب خان جن کا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے ان کو پیش کیا گیا۔عجب خان صاحب ایک آرٹسٹ ہیں اور شاعری سے بھی ان کا تعلق ہے اس کے ساتھ تدریس کے شعبہ سے وابستہ ہیں۔پانچواں گولڈ میڈل دعاعلی جن کا تعلق حیدرآباد سے ہے ان کو پیش کیا گیا۔ دعاعلی کی اردو ادب کے لیے بہت سی خدمات منظرعام پر ہیں۔خواتین میں سے سوشل میڈیا پر ادبی فروغ کے لیے ان کی خدمات قابل تعریف ہیں۔چھٹا گولڈ میڈل صائمہ جبین مہکؔ کو دیا گیا۔ جن کا تعلق تلہ گنگ ضلع چکوال سے ہے۔ صائمہ جبین مہکؔ اردو ادب کے لیے مختلف میگزین اور اخبارات میں خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔تدریس کے شعبہ سے وابستہ ہیں۔ان کی نثری اور آزاد نظموں نے مختصر عرصہ میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔ اور ان کی نظموں کا پہلا شعری مجموعہ بہت جلد منظرعام پر آنے والا ہے۔ ادب سرائے انٹرنیشنل میں بھی ان کی بہت سی خدمات پیش پیش ہیں۔ ساتواں گولڈ میڈل نقاش شبیر جنہوں نے ابھی ادب کی دنیا میں قدم رکھا ہے۔ہم نوجوانوں کی بہت زیادہ حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔اور یہ ادب سرائے انٹرنیشنل کے لیے بھی بہت سی خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور ان کا ایک شعری مجموعہ بھی بہت جلد منظرعام پر آنے والا ہے۔اور مختلف رسائل و جرائد میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔اور آج ہم نے یہاں پہ خالد یزدانی جنہیں نیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ ان کو مبارکباد دینے کیلیے بھی اس تقریب کا اہتمام کیا گیا۔اس کی صدارت اسلم کمال نے کی جو معروف دانشور، شاعر،ادیب اور مصور ہیں اور ہم ان کے بہت شکرگزار ہیں کہ انہوں نے اس تقریب کی صدارت کر کے ہمیں اعزاز بخشا۔
اورمہمانِ خصوصی معروف سماجی کارکن زاہد شریف صاحب سعودی عرب سے تشریف لائے تھے۔ناصر رضوی،تنویر صادق،روبیعہ جیلانی،زاہد شریف،خالد نصر،افتخار شوکت اور دیگر شعراء نے شرکت کی۔
اسلم کمال نے اپنے صدارتی کلمات میں ڈاکٹر شہنازمزمل کی ادبی خدمات کو سراہا اور ان سے کہا کہ ان کو مادر دبستان کا جو خطاب ملا ہے وہ واقعی اس کی حقدار ہیں۔وہ ایک ماں ہیں اور وہی بے لوث محبت و خلوص کا جذبہ ان میں نظر آتا ہے اور میں ہمیشہ ان کے لیے کہتا ہوں کہ یہ شہناز مزمل کسی ایک ہستی کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ہماری پاکستانی اور اسلامی تہذیب کا ایک مکمل پیکر ہیں۔جس پرہمیں بے حد فخر ہے