ترک آپریشن شاخ زیتون میں اب تک 2،222 دہشتگرد ہلاک کئے جا چکے ہیں، ترک ملٹری رپورٹ

12

ترک ملٹری کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹ کے مطابق شام کے علاقے عفرین میں جاری آپریشن شاخ زیتون میں 2،222 دہشتگرد ہلاک ہو چکے ہیں۔

آپریشن کے آغاز سے اب تک ترک فوج اور آزادی شامی فوج 116 اہم مقامات کو دہشتگردوں سے آزادی دلا چکی ہے جن میں عفرین کے 8 قصبے، 88 گاؤں، 6 چھوٹے دیہات، 10 اہم پہاڑی مقامات اور ایک وائے پی جی/پی کے کے بیس کیمپ شامل ہے۔

ترک فوج کی جانب سے “بے اثر” کا لفظ استعمال کرتی ہے جس میں گرفتار زندہ یا مردہ دہشتگرد شامل ہوتے ہیں یا پھر وہ جنہوں نے دوران جنگ ہتھیار ڈال دئیے ہوں۔ تاہم عمومی طور پر اس اصطلاح کا استعمال کسی آپریشن میں مرنے والوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

 آپریشن شاخِ زیتون ترکی کی طرف سے شامی صوبہ عفرین میں پی کے کے/پی وائے ڈی/وائے پی جی/کے سی کے اور داعش کے دہشتگردوں کے خلاف 20 جنوری کو شروع کیا گیا تھا۔

ترک جنرل اسٹاف کے مطابق آپریشن کا مقصد ترک سرحدوں کے ساتھ خطے میں سیکورٹی اور استحکام قائم کرنا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دہشتگردوں کے ظلم اور بربریت سے شامی عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ آپریشن بین الاقوامی قانون اور یو این سیکورٹی کونسل کے قراردادوں کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے ترکی کے حقوق کے تحت ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق کسی بھی ملک کو اپنے دفاع کے لیے قدم اٹھانے کا حق ہے تاہم اس سلسلے میں شام کی سالمیت کا احترام کیا جائے گا۔

ملٹری نے کہا ہے کہ یہ بات “انتہائی اہمیت” رکھتی ہے کہ اس آپریشن میں کسی سویلین کو نقصان نہ پہنچے۔