سپریم کورٹ کا فیصلہ اور اُس کے اثرات

16

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ
یہ مسلمہ اصول ہے کہ ایسی کوئی بھی قانون سازی نہیں کی جاسکتی جو کہ عدلیہ کے کسی بھی فیصلے کو رد کرنے کے لیے کی جائے ۔ سپریم کورٹ نے پٹیشنز No.37 to 45, 47 to 51 & 54 of 2017 کا فیصلہ جاری کردیا ہے ۔شخصیات کیلئے قانون سازی عدالتوں کو آنکھیں دکھانے کے مترادف،آئین کو بائی پاس کرنے کیلئے ضمنی آئینی قانون سازی نہیں کی جا سکتی، ایک ایسا شخص جو بادشاہ بننے کیلئے نا اہل ہو اسے یہ کھلا اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ بادشاہ گرکے طور پر آپریٹ کرے اورپتلیوں کو نچانے والے کے طور پر دھاگے ہلاتا رہے،ایسے سیاسی اختیارکا استعمال آئین،قانون،حکومت اور اقدار کے مذاق اڑانے کے مترادف ہوگا۔ سپریم کورٹ نے انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 کیخلاف دائر درخواستوں کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے جس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو پارٹی صدارت کے لیے نااہل قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ شخصیات کے لیے قانون سازی عدالتوں کو آنکھیں دکھانے کے مترادف ہے، آرٹیکل 62،63 پر پورا نہ اترنے والاپارٹی عہدیدار نہیں بن سکتا،آئین کوبائی پاس کرنے کے لیے ضمنی آئینی قانون سازی نہیں کی جاسکتی۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان، عوامی مسلم لیگ کے سربراہی شیخ رشید احمد خان، پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماء سید نیئر حسین بخاری،جمشید دستی سمیت دیگر کی طرف سے دائردرخواستوں کا 51 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے تحریر کیا۔تفصیلی فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 17 (ٹو) اور 62 ون ایف، 63 اور 63 اے کا حوالہ دیا گیا اور کہا گیا ہے کہ نااہل فرد پر نااہلی کا اطلاق اس وقت سے ہوگا جس دن سے اسے نااہل قرار دیا گیا ہو، لہٰذا ایسی صورت میں نواز شریف کے بطور پارٹی سربراہ پارٹی امور کے لیے کیے گئے تمام اقدامات کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔
تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ مجلس شوریٰ کا بنیادی مقصد اسلام کے اصول کے مطابق کام کرنا ہے اور مجلس شوریٰ کے تمام ارکان کو اسلام کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے اور ایسا ہی فرد پارٹی کا سربراہ بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ آئین پاکستان میں درج ہے کہ حاکمیت اللہ کی ہے اور عوام کے منتخب نمائندے اللہ کی جانب سے دیا گیا اختیار امانت سمجھ کر استعمال کرنے کے پابند ہیں، کسی بھی سیاسی جماعت کا سربراہ بااختیار ہوتا ہے اور سیاسی جماعتیں ملک کی حکومت چلاتی ہیں، پارلیمنٹ کے امور چلانے کے لیے پارلیمنٹیرینز کا اعلیٰ اخلاق کا ہونا ضروری ہے، آئین پاکستان بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کرتا ہے، ایسوسی ایشن یا پارٹی بنانا ہر شخص کا حق ہے، لیکن اس کے لیے اخلاقیات پر پورا اترنا بھی ضروری ہے۔تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 62،63 پر پورا نہ اترنے والاپارٹی عہدیدار نہیں بن سکتا، انتخابی اصلاحات ایکٹ دو ہزار سترہ کی شق 203کو آئین کے آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ سے الگ نہیں کیا جا سکتا،آئین کو بائی پاس کرنے کے لیے ضمنی آئینی قانون سازی نہیں کی جاسکتی، شق 203اور 232کو آرٹیکل 62,63کے ساتھ ملا کر پڑا جائے فیصلے میں کہا گیا کہ مسلم لیگ ن پارلیمنٹ میں نشستوں کے حوالے سے سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے،2013 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن نے اکثریت کی بنیاد پر حکومت قائم کی، اس وقت سابق وزیر اعظم نواز شریف مسلم لیگ ن کے صدر تھے۔تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایک ایسے شخص کو جسے بادشاہ بننے کیلئے نا اہل قرار دیدیا گیا ہو کو یہ کھلا اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ بادشاہ گرکے طور پر آپریٹ کرے،ایسے بادشاہ گر جو انتخابی عمل کے ذریعے خود منتخب ہونے کی اہلیت نہ رکھتا ہو،پتلیوں کو نچانے والے کے طور پر دھاگے ہلاتا رہے،ایسے سیاسی اختیارکا استعمال اس آئین،قانون سازی کے عمل،قانون،حکومت اور اقدار کے مذاق اڑانے کے مترادف ہوگا جو ہمیشہ عزیز رہے جس کے لئے مستقل کام ہوا جن کا آئین میں تحفظ کیا گیا ہے،یہ قانون اور انصاف کا بنیادی اصول ہے جو کام براہ راست نہ کیا جا سکتا ہو وہ بلواسطہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔چیف جسٹس نے تفصیلی فیصلے میں پانامہ لیکس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئی سی آئی جینی3اپریل 2016 میں پانامہ لیکس میں موسیک فونسیکا کی تفصیلات جاری کیں،پانامہ انکشافات کو ملکی اور غیر ملکی میڈیا نے نشر کیا،سابق وزیراعظم کے بچوں کے نام بھی پانامہ لیکس میں آئے،دنیا بھر کے مختلف رہنماؤں نے عوامی ردعمل پر استعفے دیے۔تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر کے سیاسی رہنماؤں کی طرح نواز شریف نے بھی مختلف مواقع پر وضاحت دی،نواز شریف کی جانب سے پارلیمنٹ کے سامنے وضاحت دی گئی،فیصلے میں کہا گیا کہ پارلیمنٹ سے خطاب میں متضاد بیانات کی بنیاد پر چند پارلیمنٹیرینز نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا،سپریم کورٹ نے تفصیلی سماعتوں کے بعد 20 اپریل 2017 کو فیصلہ سنا دیا۔فیصلے میں دو ججز جسٹس، آصف کھوسہ اور جسٹس گلزار نے نواز شریف کو نااہل قرار دیا۔20 اپریل کے فیصلے میں تین ججز نے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ پیش ہو جانے کے بعد عدالت نے 28 جولائی کو فیصلہ سنایا۔28 جولائی کے فیصلے میں دیگر تینوں ججز نے بھی نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا، تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے نیب کو شریف خاندان کیخلاف ریفرنسز دائر کرنے کا حکم دیا، سپریم کورٹ سے نااہلی کے بعد نواز شریف پارٹی صدارت کے لیے بھی نااہل ہو چکے تھے، لیکن قانون میں ترمیم کر کے نواز شریف کو دوبارہ سے پارٹی سربراہ بنایا گیا جس پر مختلف درخواست گزاروں نے عدالت سے رجوع کیا، شخصیات کے لیے قانون سازی عدالتوں کو آنکھیں دکھانے کے مترادف ہے، عدالت نے تفصیلی فیصلے میں نواز شریف کو پارٹی صدارت کے لیے نااہل قرار دیتے ہوئے انکے ا ٹھائیس جولائی کے بعد کیے گئے تمام اقدامات کو کالعدم قرار دیدیا ہے ۔ سپریم کورٹ نے 21فروری کو انتخابی اصلاحات ایکٹ دو ہزار سترہ کیخلاف دائر درخواستوں پر مختصر فیصلہ سنایا تھا۔سپریم کورٹ کے اِس فیصلے سے یہ بات اظہر من الشمس ہوجاتی ہے کہ مجلس شوری کو بے شک بالادستی حاصل ہے وہ قانون ساز ادارہ ہے لیکن مجلس شوری یعنی سینٹ ، قومی اسمبلی اور صدر مملکت یا صوبائی اسمبلیاں ایسا کوئی قانون نہیں بنا سکتیں جو کہ سپریم کورٹ کے کسی فیصلے کو رد کرنے کے لیے بنایا گیا ہو۔ گو قوانین سازی پارلیمنٹ کا حق ہے لیکن اِس قوانین کو آئین کے بنیادی فریم ورک کے خلاف ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے حتمی فیصلہ عدالتِ عظمیٰ نے ہی دینا ہے۔ درحقیقت اِس فیصلے سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ بالادستی قانون کی ہے نہ کہ کسی ادارئے کی ۔ اگر کوئی بھی ادارئے آئین کے فریم ورک سے باہر نکلتا ہے تو اُس کے حوالے سے عدالت عظمیٰ فیصلہ کرنے کی مجاز ہے۔ نواز شریف نے خود عدلیہ کے ہاتھوں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو نااہل کروایا اور اب جب کہ وہ خود نا اہل ہوئے ہیں تو وہ ووٹ کی حرمت کی باتیں کر رہے ہیں۔ نواز شریف صاحب کو اپنا بیانیہ بدل لینا چاہیے اُنھیں چاہیے کہ وہ عدلیہ اور فوج پر تنقید نہ کریں۔ اقتدار کے مقابلے میں قومی یکجہتی اور وقار کو ملحوظِ خاطر رکھیں۔ اللہ پاک پاکستان پر اپنا خاص کرم فرمائے آمین ۔ یقینی طور پر نواز شریف کی نا اہلیت سے ذاتی طور پر نواز شریف کو سخت نقصان ہو گا۔ لیکن ادارئے اہم ہیں نہ کہ شخصیات۔ اِس لیے عدالت عظمیٰ نے نے انتہائی اہم فیصلہ دے کر انصاف کا بول بالا کیا ہے لیکن عدالتوں کے فیصلے کی اگر حکمران اشرافیہ ہی
خلاف ورزی کر تی ہے تو پھر عوام الناس کا عالم کیا ہے۔ پاکستانی سیاست کا المیہ ہے کہ حکمران اشرافیہ نے عوام کو یر غمال بنا رکھا ہے ۔ لیکن انشا ء اللہ ایک دن آئے گا حالات بدل جائیں گے ظلم کے بت پگھل جائیں گے۔ جھوٹ نے مٹ جانا ہے اور سچ کو ہی دوام حاصل ہے۔ پاکستان زندہ آباد۔