عرب میں ترک ڈراموں پر پابندی کیوں؟جانیے

62

ترکی تمام عالم اسلام کا ابھرتا ہوا ستارہ ہے۔ اس کی سب سے بڑی فوج، عسکری مشنیری کی پیداوار اور دفاعی حکمت عملی اسے خطے کی مضبوط طاقت بنا رہے ہیں۔ اس کی مسائل کے باوجود نمو پاتی معیشت پر یورپ انگشت بدندان ہے۔ دنیا بھر میں محکوموں اور مظلوموں کی مدد اور نصرت میں ترک معشیت عرب کی تیل پر کھڑی معیشت کو مات دیتے دکھائی دیتی ہے۔ ترک اپنے ماضی پر فخر محسوس کرنے لگے ہیں اور عثمانی روایت ایک بار پھر ترکی میں پنپ رہی ہیں۔

ایسے میں دنیا بھر کے مسلمان ترکی کو اس زوال کے دور میں امید کی ایک کرن کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ وہ اپنے حکمرانوں پر رجب طیب ایردوان کی مثال دے کر تنقید کرتے ہیں۔ وہ انہیں معیار بنا کر اپنے حکمرانوں کو دیکھنے لگے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مسلم دنیا کے اندر ترک صدر رجب طیب ایردوان کی مقبولیت سے وہاں کی مقامی قوتیں پریشان اور خوف کا شکار ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔

مثلا پاکستان میں کچھ طاقتیں اس لیے ترک صدر سے خوفزدہ ہیں کہ وہ جمہوری رویے کے علمبردار ہیں، 15 جولائی کی ناکام بغاوت میں ہونے والی بے مثال ترک مزاحمت کے اثرات پاکستانی سماج پر بھی پڑے ہیں۔ وہ سیاست میں فوج کے کردار کے مقابلے میں ترک قوم کو ایک ماڈل کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ اور یہ صرف اس کردار کے مخالفین میں ہی نہیں، اس کے حامی بھی حکمران جماعت کو ٹینکوں کے آگے لیٹنے کے طعنے دیتے ہیں۔ اگرچہ ترکی اور پاکستان کے مابین دفاعی میدان میں بہت قریبی تعلق قائم ہے لیکن ان طاقتوں کے لیے ترک قوم کی مزاحمت  کے یہ اثرات بہرحال مثبت نہیں ہے۔

 اسی طرح عرب حکمران بھی رجب طیب ایردوان سے خوفزدہ ہیں۔ عثمانی احساسات کی پرورش کے ساتھ ہی شاید عرب حکمرانوں میں لارنس آف عربیہ کے احساسات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ چند ماہ قبل پیو ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے سروے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ 60 فیصد عرب اپنی مقامی قیادتوں سے زیادہ ترک صدر رجب طیب ایردوان کو پسند کرتے ہیں۔ یہ عرب طاقتوں کے لیے حوصلہ افزاء نہیں تھی۔ پھر عرب قطر بحران میں ترکی کا قطر کے ساتھ جا کھڑے ہونا، اس حسد اور نفرت میں اضافے کا سبب بن گئی۔ اس لیے عرب حکمران کسی نہ کسی طرح ترکی کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ ترک ڈراموں پر پابندی براہ راست ترکی کو نشانہ بنانے کا پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے قبل اماراتی عہدیدار نے فخر الدین پاشا کو نشانہ بناتے ہوئے ایردوان پر تنقید کی تھی۔

سعودی رائل فیملی کی ملکیت میں قائم ایم بی سی نیٹ ورک دبئی میں کام کرتا ہے۔ یہ ادارہ خطہ عرب میں براڈ کاسٹنگ اور نشریات کو مانیٹر کرتا ہے۔ حال ہی میں اس کی طرف سے ترک ڈراموں پر پابندی عائد کی گئی ہے جو عرب دنیا میں بے حد مقبول ہیں۔ عرب حکمران ترکی کے مفادات کو نشانہ بنانے کا کوئی موقع ضائع نہیں کر رہے۔ حالانکہ ترکی نے تاحال عرب دنیا کے مفادات ٹھیس نہیں پہنچائی، سوائے قطر کی حمایت کے جو عرب کا ہی حصہ ہے۔

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان بن عبد العزیر سعودی عرب کو ایک جدید ریاست بنانے کا عزم رکھتے ہیں۔ ترکی اس سلسلے میں ایک بہترین ماڈل ہے جہاں مسلمان اپنے تشخص اور وقار کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ آخر سعودی عرب اپنی جدت کی روح ترکی سے کیوں حاصل نہیں کرتا؟۔یہ کوئی خفیہ بات نہیں کہ عرصہ قبل جب ترک ڈرامے عرب دنیا میں پہنچے تو وہاں کے مقامی رجعت پسند علماء کی طرف سے انہیں فتووں کا سامنا کرنا پڑا۔ اور ان ڈراموں کو خلاف اسلام قرار دیا گیا۔ آج سعودی عرب کو جدید ریاست بنانے کا عزم رکھنے والا ولی عہد انہی کے ساتھ جا کھڑا ہوا ہے۔

ترک ڈرامے دنیا بھر میں مقبول ہو رہے ہیں۔ 2008ء میں ان ڈراموں کی ایکسپورٹ 10 ملین ڈالرز کے قریب تھی جو 2016ء میں 350 ملین ڈالرز تک پہنچ گئی۔ اور ماہرین بتاتے ہیں کہ 2023ء میں یہ ایکسپورٹ ایک بلین ڈالرز تک پہنچ جائے گی۔ ترکی اپنے ڈرامے صرف عرب میں ہی ایکسپورٹ نہیں کرتا بلکہ یہ لاطینی امریکہ اور ایشیا میں بھی مقبول ہیں۔ ترک انڈسٹری ان ڈراموں کا معیار بہتر بنانے کے لیے نئی انویسٹمنٹ کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سعودی پابندی کا ترک ڈراموں کا ترک ڈراموں کا عرب دنیا میں مقبولیت پر بہت کم اثر پڑے گا۔ کیونکہ جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں ناظرین اور صارفین کے لیے ایم بی سی کے ٹی وی چینلز کے علاوہ کئی جگہیں موجود ہیں جہاں سے وہ ان ڈراموں کو دیکھ اور خرید سکتے ہیں۔