نہال ہاشمی کو توہین عدالت کا ایک اور نوٹس، وکالت کا لائسنس بھی معطل

13

چیف جسٹس ثاقب نثار نے توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے نہال ہاشمی کی وکالت کا لائسنس بھی معطل کردیا ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فاضل بینچ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما نہال ہاشمی کی توہین عدالت کیس میں سزا کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت کی، سماعت کے دوران نہال ہاشمی کے وکیل کامران مرتضیٰ نے عدالت کو بتایا کہ وہ کیس سے الگ ہورہے ہیں۔ سپریم کورٹ  نے نہال ہاشمی کی وکالت کا لائسنس معطل کرتے ہوئے ایک بار پھر توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے نہال ہاشمی سے استفسار کیا کہ آپ کو خود پر رحم نہیں آتا جو اس طرح کی زبان استعمال کرتے ہیں؟ توہین عدالت پر سزا مکمل کرنے کے بعد پھر متنازعہ بیان دینے پر آپ کو دوبارہ توہین عدالت کا نوٹس کیوں نہ جاری کیا جائے؟ آپ نوٹس کا جواب تیار کیجیے۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے حکم صادر کیا کہ ملزم نہال ہاشمی کو ان کے متنازعہ بیان کے ویڈیو اور تحریر کردہ مکمل بیان کی نقل فراہم کی جائے تاکہ وہ توہین عدالت پر اپنا جواب تیار کرسکیں۔

قبل ازیں نہال ہاشمی نے دوران سماعت موقف اختیار کیا کہ میں کلمہ پڑھتا ہوں کہ بابا رحمتے کو نہیں جانتا، میں نے معزز عدالت کے خلاف کوئی بات نہیں کی، اگر ایسا کچھ ہے تو مجھے بیان کی وڈیو اور متن مہیا کیا جائے تاکہ اپنا جواب جمع کرا سکوں، وکالت میرا واحد پیشہ ہے، اور وکالت کا لائسنس معطل ہونے سے میرا خاندان تباہ ہوجائے گا۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے آپ کو خود اپنے آپ پر رحم نہیں آتا، آپ نے بیان میں گالیاں دیں، کیا ہم بےغیرت ہیں؟ جس پر نہال ہاشمی نے کہا کہ نہیں سر! ایسا نہیں ہے، میں اس وقت ذہنی دباؤ کا شکار تھا اور منتشر الخیالی کے باعث ایسی باتیں ہوگئیں جس پر میں شرمندہ ہوں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ آپ کو کتنی شرمندگی ہو رہی ہے۔

اس موقع پر جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ سب کا وطیرہ بن گیا ہے کہ پہلے بیان دیتے ہیں پھر معافی مانگ لیتے ہیں، آپ نے پہلے کہا تھا کہ آپ روزے سے تھے اور اب آپ کہہ رہے ہیں کہ میں ڈسٹرب تھا۔

واضح رہے کہ نہال ہاشمی نے توہین عدالت کیس میں ایک ماہ کی قید سے رہائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عدالت اور عدالتی فیصلے کے خلاف مبینہ طور پر سخت زبان استعمال کی تھی۔