پانچ ججز نے ساری عدلیہ کو سیاسی پارٹی بنا دیا، مریم نواز

14

فیصل آباد: (فلک نیوز) مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ نے نواز شریف کیخلاف فیصلے پر فیصلہ دیا، پہلے انھیں مافیا، گاڈ فادر اور ڈان کہا گیا پھر وزارتِ عظمیٰ سے ہٹا دیا گیا، پاکستانی عوام اپنے وزیرِ اعظم اور ووٹ کی پرچی کی توہین کا بدلہ 2018ء کے الیکشن میں لیں گے۔

فیصل آباد میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے میڈیا کنونشن سے خطاب میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نااہل کر دیا گیا لیکن آپ کے لیڈر کیخلاف ایک پیسے کی بھی کرپشن ثابت نہیں ہوئی، چھ ماہ میں چھ روپے کی کرپشن نہیں ملی، جے آئی ٹی کے ہیرے نواز شریف کیخلاف کچھ ثابت نہیں کر سکے۔ ڈیڑھ سال کچھ نہیں نکلا تو اب دو ماہ میں کیا نکالو گے۔

ان کا کہنا تھا نواز شریف دنیا میں شاید پہلا شخص ہے جس پر ایک جرم ابھی تک ثابت نہیں ہو سکا لیکن ان کیخلاف ابھی تک انتقام کی آگ ٹھنڈی نہیں ہوئی، سینیٹ الیکشن سے پہلے بلوچستان حکومت الٹا دی گئی، بلوچستان حکومت کے بعد شیر کا نشان چھین لیا گیا لیکن پھر بھی ناکامی ان کا مقدر بنی اور ن لیگ تمام ہتھکنڈوں کے باوجود سینیٹ میں سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے دشمنوں کی تمام چالیں ناکام بنا دیں۔ عدالت نے (ن) لیگ کے سینیٹرز کی دہری شہریت والوں کیخلاف نوٹس لیا جو منڈیاں لگیں اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔

مریم نواز کا عدلیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہنا تھا کہ توہینِ عدالت کے قانون کو ناانصافی کے فیصلوں پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، جب ناانصافی کرو گے تو پھر آواز تو اٹھے گی، جب ناانصافی ہو گی تو عام آدمی عدلیہ کی زنجیر تو ہلائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آپ منصف آپ کی عزت کرنا چاہتے ہیں لیکن آپ بھی تو عزت کراؤ، کیا عوام کے ووٹ کی توہین کرنے والوں پر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا؟

جلسے سے پُرجوش خطاب میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ پانچ ممبر ججز نے پوری عدلیہ کو سیاسی پارٹی بنا دیا۔ جب ناانصافی، بغض اور انتقام والے فیصلے کیے جائیں گے تو کون عزت کرے گا؟ عدلیہ کی عزت اس کے فیصلوں سے ہوتی ہے۔ عدلیہ کی عزت عدل سے ہوتی ہے، عدلیہ کی عزت ڈرانے اور دھمکانے سے نہیں ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کیخلاف فیصلے سے پہلے گالی نکالی پھر وزارت عظمیٰ سے نکالا، اس کے بعد سپریم کورٹ نے تاریخ میں پہلی مرتبہ نیب عدالت میں خود ریفرنس درج کروایا، ان میں سے ایک جج کو ہمارے سر پر بٹھایا ہوا ہے۔ پاکستان کے عوام ووٹ کی توہین کا بدلہ 2018ء کے الیکشن میں لیں گے۔

انہوں نے عدلیہ پر سیاسی پارٹی بننے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ دوہری شہریت پر ایکشن اور سینیٹ میں منڈیاں لگنے پر خاموشی کیوں ہے، نون لیگی سینیٹرز کو نشانہ بنایا گیا، کیا یہ دھاندلی نہیں ہے؟

اپنے خطاب میں عمران خان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ عدلیہ کے لاڈلے کو سمجھ نہیں آ رہی، لاڈلے نے تھوڑا سا کام کر لیا ہوتا تو اسے سمجھ آ جاتی، اب تھوڑا وقت رہ گیا پانچ سال کا اعمال نامہ کھلنے والا ہے۔ لاڈلہ انگلی کا انتظار اور امپائر کو ساتھ ملا کر کھیلتا رہا۔ مسلم لیگ (ن) کے مخالف کو بار بار گیند دیا گیا کھیلو، ہمارے گول کیپر کو ہٹا دیا لیکن وہ ایسا نااہل ہے پھر بھی گول نہیں کر سکا۔