سوچ کی لہروں سے حرکت کرنے والی روبوٹک ٹانگیں

13

سائنس دانوں نے ایسی روبوٹک ٹانگیں تیار کرلی ہیں جنھیں صرف سوچ کی لہروں کے ذریعے حرکت میں لایا جاسکتا ہے اگر یہ منصوبہ قابل عمل ہوگیا تو صحت کی دنیا میں انقلاب آجائے گا۔

آپ نے ٹرمینیٹر سیریز کی فلمیں تو دیکھی ہوں گی۔ ان فلموں میں ولن انسان نما مشینیں یا مشینی انسان تھے۔ ایسی مخلوق جو آدھی انسان اور آدھی مشین ہو اسے اصطلاحاً ’’ سائی بورگ‘‘ کہا جاتا ہے۔

ظاہر ہے کہ یہ مخلوق قدرتی طور پر نہیں پائی جاتی مگر سائنس بڑی تیزی سے انسانوں کو سائی بورگ میں بدل ڈالنے کی طرف پیش قدمی کررہی ہے۔ جلد ہی ایسے انسان عام نظر آئیں گے، خود کار مشینیں جن کے جسم کا حصہ ہوں گی اور وہ صرف سوچ کی لہروں یا خیالات کے ذریعے انھیں کنٹرول کررہے ہوں گے۔

ایک کمپنی نے روبوٹک ٹانگیں بنالی ہیں جنھیں صرف سوچ کی لہروں کے ذریعے حرکت میں لایا جاسکتا ہے۔ روبوٹک اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا شاہ کار یہ ٹانگیں مصنوعی اعضا تیار کرنے والی جاپانی کمپنی سائبر ڈائن نے بنائی ہیں۔ یہ کمپنی ایک عشرے سے جدیدترین مصنوعی اعضا تیار کررہی ہے جنھیں Hybrid Assistive Limb ( ہال ) کہا جاتا ہے۔

سوچ کی لہروں سے حرکت میں لائی جانے والی یہ ٹانگیں ان مریضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائی گئی ہیں جو فالج، حادثے، حرام مغز کو پہنچنے والی چوٹ یا کسی بھی وجہ سے ٹانگوں کو حرکت دینے سے معذور ہوگئے ہوں۔ روبوٹ ٹانگوں پر مشتمل یہ پورا نظام پہن کر مفلوج یا متاثرہ  شخص بآسانی کھڑا ہوجاتا ہے کیوں کہ اس میں کمر تک سپورٹ دی گئی ہے۔

یہ پورا سسٹم جدید آلات، سنسرز اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی ( آرٹیفشل انٹیلی جنس ) پر مشتمل ہے ۔ یہ مشین جسمانی اعضا، نسیجوں یا بافتوں اور خلیوں کے نظام سے خارج ہونے  بایو الیکٹرک سگنلز یا برقی کرنٹ کو محسوس کرلیتی ہے۔ ان سگنلز کو ڈی کوڈ کرنے کے بعد یہ ان کے مطابق عمل کرتی ہے۔

ای ای جی بھی ایک ایسی ہی مشین ہے جو دماغ سے خارج ہونے والے اشارات کو محسوس کرلیتی ہے لیکن یہ ’ روبوٹ سوٹ ‘ دماغ میں پیدا ہونے والے خیالات کو محسوس کرکے ان کے مطابق عمل کرنے لگتا ہے۔ان روبوٹ ٹانگوں یا سوٹ کا مقصد فالج زدہ اور معذوروں میں یہ احساس پیدا کرنا ہے کہ وہ عام انسانوں سے کم نہیں اور اپنی مرضی کے مطابق اپنی ٹانگوں کو حرکت دے سکتے ہیں۔

حال ہی میں امریکی اداروں نے جاپانی کمپنی سے روبوٹ سوٹ خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔ ان دنوں امریکا کے بروکس سائبرنک ٹریٹمنٹ سینٹر میں اس سوٹ کی آزمائش کی جارہی ہے۔ مذکورہ سینٹر کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر جنیوا تونوزی کہتے ہیں کہ اس نظام کی ایک خوبی یہ ہے کہ مریض انھیں اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرسکتا ہے جیسے دماغ میں خیال پیدا ہوتے ہی ہمارے اعضا اس کے مطابق عمل کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں اور پھر ہمارے ارادے کو عملی جامہ پہنا دیتے ہیں، بالکل اسی طرح یہ روبوٹ سوٹ عمل کرتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ روبوٹ سوٹ مریضوں کی بحالی میں مدد دیتا ہے۔

ڈاکٹر جنیوا کے مطابق ابتدا میں یہ مفلوج ٹانگوں کو پوری سپورٹ فراہم کرتا ہے، بالفاظ دیگر مریض مکمل طور پر ان کے سہارے چلتا ہے۔ پھر جیسے جیسے مریض کی ٹانگوں کی مُردہ رگوں اور پٹھوں میں جان پڑنے لگتی ہے تو روبوٹ سوٹ کی سپورٹ اسی مناسبت سے کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ بالآخر ایک وقت ایسا آئے گا جب مریض مکمل طور پر صحت یاب ہوکر روبوٹ سوٹ سے نجات پالے گا اور یہی اس روبوٹک نظام کا مقصد ہے۔