متناسب انتخابی نظام ۔۔۔۔۔ موجود حالات کا تقاضہ

35

ِّصاحبزادہ میاں محمدا شرف عاصمی
حالیہ سینٹ الیکشن نے جس طرح سے لوٹ مار کی سیاست کا شور مچایا ہے اور سیاستدان بشمول عمران خان جو تبدیلی کا نعرہ لے کر آئے تھے اور ن لیگ زرداری سب پارٹیاں ووٹوں کی خرید فرو خت میں ایک دوسرئے سے بازی لے جانے کے لیے کوشاں رہیں اور سینٹ کے چےئرمین کے لیے بھی یہ گھناونا کھیل جاری ہے۔ جس انداز میں پاکستان کے ایوان بالا کے ممبران کے چناؤ کے لیے گندا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ یقینی طور پر پاکستانی نوجوان نسل کو سیاست دان مایوس کر رہے ہیں۔ آئیے متناسب نمائندگی کے نظام پر بات کرتے ہیں۔
متناسب نمائندگی کا نظریہ ایک ایسے ووٹنگ سسٹم پر مبنی انتخابی نظام ہے جس میں اسمبلی یا کونسل کو منتخب کیا جا تا ہے۔متناسب نمائندگی سے مراد یہ ہے کہ جوسیاسی پارٹیا ں یا گروپ جتنے ووٹ حاصل کرتے ہیں اُسی تنا سب سے پارٹیوں میں سیٹوں کی تعداد تقسیم کردی جاتی ہے مثال کے طور متناسب نمائندگی کے نظام کے تحت اگر 30%ووٹروں نے کسی خاص پارٹی کی حمایت کی ہے تو 30%سیٹوں کی جیت اُ س پا رٹی کی ہو گی۔
متناسب نمائندگی کا نظام درحقیت سنگل ممبر ووٹنگ سسٹم کا متبادل ہے۔
متناسب نمائندگی کے انتخابی نظام کی کئی اقسام ہیں کچھ نظاموں میں صرف مختلف پارٹیوں کی متنا سب نمائندگی ہے،جب کہ کچھ نظاموں میں ووٹرز امیدوار وں میں سے انفرادی طور پر امیدوار کو چُنتے ہیں متناسب نمائندگی کے نظام کی شرح میں فرق ہے۔ یہ اُن عوامل کی بنا پر ہے جس میں سیٹوں کے تعین کا فارمولا ترتیب دیا جاتا ہے۔جس میں ایک حلقے میں سیٹوں کی تعداد یا منتخب شدہ با ڈ ی بحثیت مجموعی کا فارمولا شا مل ہے
متناسب نمائندگی کا نظام اکثر سنگل ووٹر الیکٹوریل نظاموں کی ضد سمجھا جاتا ہے ان میں سب سے عام جو ہے وہ سنگل ممبر pluralityکا نظا م ہے۔یہ نظا م سابقہ تاج برطا نیہ کے زیر اثر ممالک جن میں امریکہ،کینیڈا،انڈیا وغیرہ میں موجودہ ہے۔
متنا سب نما ئندگی کے نظا م میں سیا سی جما عتوں کے سیا سی منشور پر خا ص طور پر زور دیا جاتا ہے۔سیا سی جما عتیں متنا سب نمائندگی کے نظا م میں دل یعنی مرکز کے طور پر کام کرتی ہیں۔مثال کے طور جو جماعتیں کل ووٹوں کا 15%حا صل کرتی ہیں تو اِس نظا م کے تحت وہ اپنے امیدراروں کے لئے 15%نشستیں حاصل کر لیتی ہیں۔تا ہم جن اقوام میں متنا سب نمائندگی کا نظا م رائج ہے وہا ں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ امیدوار کی انفرادی حثیت تو دیکھا جا ئے جیساکہ نیدرلینڈ کے انتخا بی نظا م میں ہے یا پھرایسی اقوام بھی ہیں جہا ں صرف پارٹی کو ووٹ دینے کی اجا زت ہے جیسے کہ اٹلی کی پا رلیمنٹ ہے۔زیا دہ تر جو بحث انتخابی نظام کے حوالے سے کی جا تی ہے وہ یہ کہ زیا دہ سے زیا دہ متناسب نما ئندگی کے طرف رجو ع کیا جا ئے۔یہ اس وجہ سے ہے کہ موجودہ دور میں امریکہ اور برطانیہ میں جومضبوط پارٹیا ں ہیں وہ صرف 20%سے 25%تک اہل وؤٹروں کی حمایت سے پارلیمنٹ میں کنٹرول حاصل کر لیتی ہیں جس سے چھوٹی پارٹیا ں نظراندازہوجا تی ہیں۔کینڈامیں صورتحال اور زیا دہ خراب ہے کہ صرف40%ووٹروں کی حما یت سے پا رٹیا ں مکمل چار سال کے لئے اقتدار حاصل کر لیتی ہیں۔ اس طرح صرف 60%پڑ نے والے ٹوٹل ووٹوں میں سے صرف ایکچوتھائی ووٹ حاصل پارٹی حکومت کی تشکیل کرلیتی ہے۔بیان کردہ متنا سب نمائندگی کے نظام کے حوالے سے بحث عرصہ سے وطن عزیزمیں چل رہی ہے۔پاکستان کے جغرافیا ئی اور سما جی خدوخال اِ س طرح کے ہیں کہ ایک ایسا مربو ط انتخابی نظام جس میں ہر طبقہ فکر،خواہ اُس میں قوم پر ست شامل ہوں یا کسی خاص طبقہ فکر کی سوچ کے حامل افراد ہوں۔تمام segment آف سوسا ئٹی کو جمہوریت کے ثمرات سے فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔پاکستان میں زبان نسل اور مذہب کی بنیاد پر الیکشن میں حِصہ لینا آئین پاکستان کی نفی ہے۔لیکن اگر کوئی بھی گروہ یا جماعت آئین پاکستان کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے منشور کی بنیاد پر انتخابی عمل میں حصہ لیتی ہے تواُسکی سوچ کو پذیرائی ملنے کی صورت میں ارباب اختیار کو بھی خودا احتسابی کرنے کی عادت پڑسکتی ہے۔پاکستان جیسے ملک میں جہاں تعلیمی صورت حال تشویش ناک حد تک خراب ہے۔تعلیمی ماحول نہ ہونے کی بناء پر جمہوریت کو بھی پنپنے کا موقع نہیں مل سکا۔ہم انگریز اور انگریزی نظام کو اپنے ملک کے سماجی ڈھا نچے کے لئے زہرِقاتل توگردانتے ہیں لیکن گزشتہ62سالوں سے کون سے شعبے میں ہم نے قابِل فخرترقی کی ہے۔
اِس ملک کے 70%لوگ صاف پانی سے محروم ہیں بجلی گیس کا بحران ہماری معیشت کو نگل چکاہے۔مذہبی منافرت ہونے کا ڈھنڈوراتوخوب پیٹاجاتا ہے۔لیکن پاکستان میں فرقہ ورانہ ہم آہنگی موجود ہے اگر کہیں فرقہ ورانہ فسادات ماضی میں ہوئے بھی ہیں یا ابھی ہوئے ہیں تواِس میں ہمارے دشمنِ ممالک کی سازش کارفرما ہوتی ہے۔اسی طرح پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی بھی قابلِ اطمینا ن حدتک موجودہ ہے۔اسلئے یہ استدلال کے متناسب نمائندگی کی بناء پر اس طرح کی منفی سوچ اور یِک جہتی کی مخالف قوتیں سراُٹھا سکتی ہیں اس میں وزن نہیں ہے۔وڈ یرہ شاہی،جاگیردانہ سوچ،اور مختلف گروپوں کے زیر اثر عوام کو اگر اپنی سوچ کا اظہار اِس طرح کرنے کا موقع ملے کہ ایک ایک ووٹ مناسب طور پر طاقت کا عامل ثابت ہو موجودہ انتخابی نظا م کی وجہ سے کم ووٹ حاصل کرنے والی جما عت نمائندہ جماعت بن کر اقتدارپر براجمان ہے۔مثلا اگر دس سیاسی جماعتیں ایک حلقے میں اپنے امیدوارں کو الیکشن کے لئے اُتارتی ہیں تو ووٹ 10امیدوارں میں تقسیم ہوکر رہ جاتا ہے۔اس طرح اگرکوئی جماعت10فی صد کوئی12فی صد یا9فی صد ووٹ حاصل کرتی ہے اور ایسی جماعت جوکہ اِن دس جماعتوں میں زیادہ فی صد ووٹ لے لیتی ہے خواہ اُس نے کل ووٹوں کا 20%حا صل کیا ہو تو اُس کا امیدوار اسمبلی میں پہنچ جا تا ہے۔جوباقی جو80%ووٹ دوسری جماعتوں کے امیدواروں تقسیم ہوئے ہوتے ہیں وہ ضائع جائے ہیں یعنی 80%لوگوں کی نمائندگی اسمبلی میں نہیں ہوتی باقی اُسکے مقابلے میں 20%ووٹ لینے والا کا میاب گردانا جاتاہے۔
یہاں المیہ یہ ہے جس کی بناء پراصل مسائل کا تریاق نہیں ہو پاتا۔جب اقتدار کی مسند پرفائز لوگ حقیقی عوامی حما یت یافتہ نہ ہوں تو پھر عوام کے مسائل بھی اُن کی زبا ن پر نہیں ہوتے اور ضمیر نا م کی چیز بھی اُنہیں ملا مت نہیں کرتی۔پاکستان میں ایسی کئی سیا سی پارٹیا ں ہیں جن عوام میں نفوس پزیری قابل قدر ہے کہ لیکن اسمبلی میں اُن کی آواز نہیں پہنچ پار ہی ہے۔یااگر اُن کو سیٹیں ملتی بھی میں تو بہت کم اس حوالے سے پاکستا ن عوامی تحریک کے چیرمین ڈاکٹر طاہر القادری نے کا فی عرصہ سے آواز بلند کررکھی ہے کہ انتخابی نظام بدلا جا ئے۔وطن پاک میں سیا سی جماعتوں میں ڈاکڑ طا ہرالقادری کی جما عت عوامی تحریک۔مو لا نا فضل الرحمان کی جما عت جمیت علما ئے اسلا م.ف(جما عت اسلا می، مولا نا سیمع الحق کی جما عت جمعیت علما کے اسلا م. س(مولاناشاہ احمد نورانی صاحب مرحوم کی جمیت علما ئے،پاکستان سنی اتحاد کونسل کے چیر مین صاحبزادہ فضل کریم مرحوم کی جما عت علمائے پاکستان،اسی طرح پاکستان سُنی تحریک عمران خان کی تحریک انصاف انجمن طلبہ اسلام کے سابقین کی جماعت پاکستان فلاح پارٹی، تحریک لبیک پاکستان وغیرہ یہ وہ سیاسی قوتیں ہیں اکہ اگر متناسب نمائندگی کی بنیاد پر الیکشن ہوں تو پھر پورے پاکستان میں کا سٹ ہونے والے ووٹوں کی بنیاد پر یہ جماعتیں اسمبلی میں پہنچ کر اپنا مثبت کردار اِدا کر سکتی ہیں۔اور وفاق کی مضبوطی میں اہم پیش فرت بھی اس طرح ممکن ہے۔
جما عت اسلامی گزشتہ نصف صدی سے انتخابی میں ہے لیکن اسے جب بھی امبلی میں نشستیں ملی ہیں اُس کے لئے اِسکو نواز لیگ کا سہارا لینا پڑا یا جنرل ضیا ء الحق کی آشیر با دحاصل تھی حالا نکہ متنا سب نمائندگی کی بناء پر جماعت اسلامی کی قوت مجتمع ہوسکتی ہے اور نشستوں کی تعداد بھی زیا دہ ہوسکتی ہے۔یہ ہی حال جے یوپی کا ہے پورے ملک میں اسکے چاہنے والے بے شمار ہیں لیکن اس وقت اس کی اسمبلی کوئی نشست نہیں۔عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی(کے چا ہنے والے پورے ملک میں ہیں لیکن سوائے خیبر پختون خواہ میں اسکی عددی اکثریت کہیں نہیں ہوتی۔اِس نظام میں عوامی نیشنل پارٹی کو بھی تقویت حاصل ہوسکتی ہے۔اس نظام کے تحت بظاہر لسانی،مذہبی قوم پرستوں کے نشستیں لینے کے چانسز بن جاتے ہیں لیکن یہ بھی تو دیکھیں کہ یہ تمام گروپؒ ٰ قومی دھا رے میں آکر وفاق کی بات کرنے پر مجبور بھی ہوسکتے ہیں اوروفاقی کی مضبوطی میں اپنا کردار بھی ادا کر سکتے ہیں۔پاکستانی معاشرے کے کئی رنگ ہیں اِس ملک کی نظریاتی اساس بھی اِس بات پر دلات کرتی ہے کہ ہر طبقے کو اپنی بات کہنے کا حق ملے لیکن یہ تو تب ہی ممکن ہے جب اِن کی آواز پارلیمنٹ میں پہنچ سیکے۔ ے حقیقی مسائل کا ادلاک تب ہی ممکن ہے جب حقیقی نمائندں پر مشتمل اسملیاں وجود میں ہیں۔
بے روزگاری کے زخموں سے چور چور نوجوان نسل بے یقینی کی کیفیت میں اندھیروں میں ڈوبتی جا رہی ہے۔معاشی وسماجی ناانصافیا ں دہشت گردی،ڈاکے لوٹ مار کو جنم دی رہی ہیں ملک میں موجود اشرافیہ
طاوس رباب کی مدھ بھری تانوں پر تھرک رہی ہے اور ملک کی حقیقی نمائندہ عوام ظلم وجبرکی چکی میں پس رہی ہے۔جس کو دیکھیں وہ پاکستان ٹوٹنے کی بات کررہاہے۔اِس بے چینی کی وجہ ہی یہ ہے کہ حقیقی
نما ئندگی حکومتی ایوانوں تک پہنچ نہیں پاسکی پس اِس وطن کا وجود،خوش حالی،سماجی ومذہبی راوداری معاشی آسودگی اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک نام نہاد جمہوریت پسند لیڈروں کی بجائے حقیقی عوامی نمائندگی کے حامل افراد قوم کی باگِ دوڑنہ سنبھال لیں۔اِس ملک میں دو پارٹی نظام نہ تو پنپ سکا ہے۔نہ کوئی چانس ہے۔اس وقت دُنیا کے تقریبا87ممالک میں متناسب نمائدگی کانظام رائج ہے۔ان ممالک میں ترکی،جرمنی،سری لنکا،سویڈ ن،سوئیز لینڈ، ساوتھ افریقہ،روس جیسے ممالک بھی شامل ہے
چنداہم خرابیاں جوکہ موجودہ جمہوریت نظام میں موجودہ ہیں۔
1۔95%عوام کو 5%طبقے نے یر غمال بنارکھا ہے
2۔مالی طور پر مضبوط اور بااثر افراد ہی اِس نظام میں الیکشن میں حصہ لے کر کا میابی حاصل کر سکتے ہیں۔
3۔الیکشن جیتنے کے لئے امیدوار خوب رقم لگاتے ہیں اور پھر اُس سے کئی گنا کر پشن کرتے ہیں۔
4۔عا م پڑ ھا لکھا باشعور آدمی جو معاشی طور پر اس قابل نہ ہوکروڑوں روپے انتخابی مہم پر خرچ نہ کرسکتا ہو وہ الیکشن کے عمل سے باہر ہے۔
5۔بااثر افراد کی انتخا بات میں کا میابی سے پسے ہوئے طبقے کی آواز دب کررہ گئی ہے۔
6۔عوام کے حقیقی مسائل کیونکہ ان وڈیروں،سرمایہ داروں کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتے اِس لئے اُن کو عوام کے درد کانہ کوئی احساس ہے اور نہ کوئی پرواہ۔
7ََ۔موجودہ جمہوری نظام نے فوج،سول بیوروکریسی اور وڈیرہ شاہی کی ایک مثلث قائم کررکھی ہے جس کی وجہ سے عوام کواپنی حالت بدلنے کے لئے خورہی اُٹھا ہوگا۔
8۔مختلف گروپوں،علاقائی پارٹیوں کی آواز موثر نہ ہونے سے وفاقی اور قومی یک جہی کوخطرات لاحق ہیں
۔بلوچستان میں لگی ہوئی آگ کی وجہ بھی یہ ہی ہے کہ حقیقی عوام حکومت میں نہیں ہوتی ہے
9۔موجودہ نظام کی وجہ سے جمہوریت لوٹ مار اور کرپشن کا نشان بن چکی ہے چند سال بعد ہی اِس نظام کے تحت منتخب حکومت عوام کے لئے سوہان روح بن جاتی ہے،اور لوٖگ پھر تبدیلی کے لیے فوج کا راستہ دیکھنا شروع کردیتے ہیں۔گھٹن کے ایسے ماحول میں فوج کو چا ر ونا چار حکومتی ایوانوں میں گھسناپڑتاہے۔کتنی عجیب بات ہے کہ پاکستان آرمی کو دُنیا کی بہترین پیشہ ورانہ حاصل کی فوج گردانا جاتاہے۔تو پھر ایسی فوج کو مجبور ا اگر ا قتدار میں آنا پڑتا ہے تو اِس کا مطلب صاٖف ہے کہ موجودہ انتخابی نظام ہما رے مسائل کا ادراک نہیں رکھتا۔