امریکا کی شامی حکومت کیخلاف فوجی کارروائی کی دھمکی

17

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے کہا ہے کہ اگر اقوام متحدہ شام میں جاری خوں ریزی کو روکنے میں ناکام رہا تو بشارالاسد حکومت کے خلاف ملٹری ایکشن کا آپشن استعمال کیا جاسکتا ہے۔

نکی ہیلی نے شام میں جنگ بندی سے متعلق نئی قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ  شامی حکومت اپنے عام شہریوں پر بمباری کررہی ہے جسے رکوانے کے لیے اور شہریوں کو تحفظ دینے کے لیے امریکا شام کے خلاف ملٹری کارروائی کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے کیوں کہ اقوام متحدہ اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔

نکی ہیلی نے 16 روز قبل پیش کی گئی جنگ بندی کی قرارداد کے بعد اقوام متحدہ کے سیکیورٹی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیز فائر کی قرارداد پر عمل درآمد نہیں کیا گیا ہے۔ آج شام کی صورت حال بالکل اسی طرح ہے جیسے ایک سال قبل تھی جب شامی حکومت نے شہریوں پر کیمیکل ہتھیاروں کا استعمال کیا تھا جس کے جواب میں امریکا کو شامی فوج کی تنصیب پر فضائی حملہ کرنا پڑا تھا۔

نکی ہیلی نے کہا کہ جب بین الااقوامی ادارے لوگوں کو تحفظ دلوانے میں مسلسل نا کام ہوتے نظر آرہے ہوں تو ایسے وقت میں انفرادی طور پر ممالک کو آگے بڑھنا پڑتا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ امریکا اپنی انفرادی ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے شام کے خلاف سخت کارروائی کرے تاکہ معصوم جانوں کو بے رحمانہ بمباری سے محفوظ بنایا جا سکے۔

امریکی سفیر نے کہا کہ شام کے خلاف ملٹری ایکشن ہماری ترجیح نہیں ہے اور نہ ہی امریکا یہ راستہ منتخب کرنا چاہتا تھا لیکن یہ ہی وہ راستہ ضرور ہے جس کے تحت ہم پہلے بھی شام میں لوگوں کی جانوں کو کیمیکل سے بچا چکے ہیں اور آج بھی اگر اقوام متحدہ نے اپنا کام نہیں کیا تو ہم دوبارہ اُسی راستے کو اپنانے میں تاخیر نہیں کریں گے۔