خطرناک

13

تحریر۔۔۔ شاہد شکیل
سمارٹ فونز ہماری روزمرہ زندگی کا انتہائی اہم حصہ بن چکے ہیں کہ ایک پل جدائی برداشت نہیں باالفاظ دیگر ہمارے جسم کا نہایت قیمتی عضو ہیں ان کے بغیر زندگی ادھوری اور بے مقصد سی لگتی ہے لیکن یہ سمال اور سمارٹ مشین ایک ایسی خطرناک چیز ہے جو بتدریج ہماری زندگی کو کم سے کم کر رہی ہے کیونکہ اس کے استعمال سے ہم کسی انجانی بیماری میں نہیں بلکہ مہلک ترین زہر کینسر ( برین ٹیومر) کو اپنے اندر ضم کر رہے ہیں ہمیں قطعی علم نہیں ہوتا کہ کب یہ ہمارے اندر سرایت کرتا ہوا ایک دن موت کے دھانے لا کھڑا کرتا ہے ،اس کی تابکاری ہماری زندگی پر کاری ضرب ہے۔کئی برسوں سے ماہرین اور صارفین اس کھوج میں ہیں کہ کینسر کے علاوہ کون سی بیماری کا شکار ہوا جا سکتا ہے ،کیا موبائل فونز کی ویووز انسان کو طویل کینسر میں مبتلا کرتی ہیں یا محض وقتی طور پر نقصان دہ ہیں ؟ سائنسی طور پر واضح نہیں کیا گیا لیکن ماضی میں کئی ریسرچ کی گئیں جس سے ثابت ہوا کہ سیل فونز کی تابکاری سے انسانی زندگی کو رسک ہے ،عالمی ادارہ صحت کے ماہرین جو بالخصوص کینسر پر ریسرچ کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ دوہزار گیارہ میں ایک رپورٹ شائع ہوئی کہ ہائی فریکونسی ،برقی اور مقناطیسی تابکاری ممکنہ طور پر کینسر میں مبتلا کر سکتی ہے، اعدادو شمار،مختلف جائزوں اور مطالعوں سے نتائج اخذ کئے گئے کہ بنیادی طور پر موبائل فونز عام استعمال کے لئے نہیں بلکہ بزنس مین کی آسانی کیلئے ایجاد ہوئے اور رفتہ رفتہ توسیع ہوئی کہ وہ اپنے کاروبار سے ہمہ وقت منسلک اور رابطے میں رہے بعد ازاں اس مشین کو ہر خاص و عام کیلئے بھی متعارف کروایا گیا۔ریڈیائی لیب میں کئی جانوروں پر ریسرچ کے بعد ظاہر ہوا کہ ہائی فریکونسی ، برقی اور مقناطیسی شعائیں کینسر میں مبتلا کرتی ہیں،رپورٹ کے مطابق موجودہ دور میں ہم سب سمارٹ فونز و دیگر مواصلاتی سسٹم کو وائی فائی نیٹ ورک سے استعمال کرتے ہیں جس سے قطعی محسوس نہیں ہوتا اور ان دیکھا زہر خاموشی سے ہمارے جسم میں سرایت کرتا رہتا ہے خاص طور سے جب ہم فونز کو اپنی اوپر والی جیب میں یا پینٹ میں رکھتے ہیں دل کے قریب رہنے سے شدید نقصان ہوتا ہے اور جسم کے کسی بھی حصے سے اس مشین کی رگڑ لگنے سے جلد کے ساتھ ساتھ اعضاء کو بھی نقصان پہنچتا ہے کیونکہ انسانی جسم کا درجہ حرارت بنیادی طور پر کافی گرم ہوتا ہے اوپر سے یہ مشین جس میں کئی چپ کے علاوہ لیتھم بیٹری گرم رہتی ہے اور یوں انسان ایک ان دیکھی اور انجانی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے جو اسے موت کے دھانے لاکھڑا کرتی ہے۔آسٹریلین ماہرین نے دوہزار سولہ میں مکمل تحقیق کے بعد نتائج ظاہر کئے اور بتایا کہ سمارٹ فونز کینسر میں مبتلا کرتے ہیں ،انیس سو ستاسی سے مخصوص جریدوں میں کئی رپورٹس شائع کی گئیں جس میں بتایا گیا کہ برین ٹیومر کا شکار ہو کر کئی اموات ہوئیں،انیس سو بیاسی سے دوہزار بارہ تک اعداد و شمار کے مطابق بیس ہزار مرد اور چودہ ہزار خواتین جن کی عمریں بیس سے چوراسی برس تھیں دماغی کینسر میں مبتلا ہوئے اور موت کی آغوش میں چلے گئے۔سائنسی پروگرام کے تحت امریکی حکومت نے این ٹی پی ۔نیشنل ٹوکسی کولوجی پروگرام کو متعارف کروایا جس میں بڑے پیمانے پر مطالعہ کیا گیا ،ابتدائی تجربات و محرکات چوہوں پر کئے گئے انہیں مختلف گروپس میں طویل مدت تک ہائی فریکوینسی اور تابکاری کی ریسرچ کیلئے تقسیم کیا گیا روزانہ اٹھارہ گھنٹے تک انہیں مختلف اقسام اور سپیڈ اور طاقت کی زد میں رکھا جاتا اور ہر دس منٹ بعد برقی و مقناطیسی لہروں میں کمی بیشی کی جاتی جس سے یہ نتائج ظاہر ہوئے کہ اٹھارہ گھنٹے میں سے نو گھنٹے
تک ان کے اندر سمارٹ فونز کی تابکاری جمع رہتی جس کے نتیجے میں وہ دماغی ٹیومر میں مبتلا ہونے کے بعد مر گئے۔ماہرین کا کہنا ہے اگر جانور دماغی و اعصابی کینسر میں مبتلا ہو سکتے ہیں تو انسان بہت آسانی سے ان خطرناک ویووز کے شکنجے میں آسکتا ہے کیونکہ انسان کی دماغی حالت موجودہ دور میں قدرے کومپلی کیٹڈ ہے،اگر چھ واٹ کی ویووز چھ سو گرام کے چوہے میں اتنی سرعت سے پھیل سکتی ہیں کہ وہ چند گھنٹوں میں مر سکتا ہے تو انسانی جسم اور اعضاء میں دوگنی تگنی رفتار سے پھیلنا بہت آسان ہے شعائیں کانوں کے زریعے بھی پھیل سکتی ہیں اور ایسی حالت میں انسان محسوس نہیں کرتا لیکن یہ بجلی کے کرنٹ کے مترادف ہے جس سے موت واقع ہو سکتی ہے،ہم چاہیں تو موبائل فونز کے مضر اثرات سے بچ سکتے ہیں ،ہمیں اپنی حفاظت خود کرنی ہے تاکہ تابکاری ہمیں تباہ نہ کرے،بہت آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم جتنا کم موبائل استعمال کریں گے تابکاری کم پھیلے گی ،دیگر اثرات و ہدایات انٹر نیٹ سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے خراب موسم یا کمزور سگنل کے دوران فون کرنے سے گریز کیا جائے ،جتنا کمزور سگنل ہوگا یعنی بیس سٹیشن سے کنکشن ملنے میں مشکلات ہونگی اتنا زیادہ موبائل پر پریشر پڑے گا کیونکہ فونز اپنی تمام صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے کنکشن ملانے کی کوشش کرے گا اور ہائی فریکونسی سے اتنا زیادہ دباؤ پڑے گا جو انسان کی صحت کے لئے مضر ہے ۔یاد رہے سمارٹ فونز بچوں کے کھلونے نہیں ہیں ادویہ کی طرح اس سمارٹ لیکن خطرناک مشین کو بھی بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔