ڈوبتی معیشت اور آئندہ عام انتخابات

17

تحریر (ڈاکٹر میاں احسان باری)

ملک کاہر بچہ اور ہر شخص اس وقت ایک لاکھ 35ہزار روپے کا مقروض ہے جو کسی موجودہ یا مستقبل کے حکمرانوں نے ادا کرنے کی کوشش نہیں کرنی وہ تو مزید قرضے لیکر ملکی معیشت کی نبض کو مزیدڈوبنے کی طرف لے جائیں گے جب بھی ہم بیرونی دنیا سے قرض لیتے ہیں تو ادھر روزمرہ استعمال کی مختلف اشیاء گیس ،بجلی کھانے پینے کے لوازمات وغیرہ کی قیمتوں پر اثر پڑتا ہے بین الاقوامی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمتیں کم مگر ہمارے ہاں انتہائی زیادہ ہیں اور39روپے فی لیٹر تو ٹیکسوں کی مد میں ہی کاٹ لیے جاتے ہیں پٹرول کی بھی قیمتیں بڑھتے ہی دیگر چیزوں کی قیمتیں مثلاً سبزی فروٹ کریانہ کی گھریلو استعمال کی اشیاء بھی اسی تناسب سے بڑھ جاتی ہیں کہ یہ چیزیں کارخانوںیا زرعی زمینوں سے بذریعہ ٹرانسپورٹ ہی مختلف جگہوں پر پہنچائی جاسکتی ہیں جو نہی پٹرول ڈیزل کی قیمت بڑھتی ہے ٹرانسپورٹ کے کرائے اس سے بھی زیادہ بڑھ جاتے ہیں اسی کو “مہنگائی کا ایٹمی دھماکہ”کہتے ہیں جو نہ چاہتے ہوئے بھی ہمارے اردگردہر ماہ پھٹ جاتا ہے پھر سودی کاروبار نے بھی ہمارے ہاں زبردست مہنگائی کو فروغ دے رکھا ہے نیشنل بنک کے مطابق ہمارے جمع اثاثے تو صرف دو ارب ڈالرز رہ گئے ہیں اور ہمیں اس دفعہ 17ارب ڈالرز کی قسط جو سود در سود کے ذریعے بڑھ چکی ہے ادا کرنی ہے حکمران ہی نہیں بلکہ ہماری سیکولر کرپٹ بیورو کریسی بھی قرضوں کی لین دین پر “اپنا حصہ”لازماً وصول کرتی ہے کبھی کسی نے اس طرف توجہ ہی نہیں کی سیاستدان تو کرپشن کی توپوں کا رخ مخالفین کی طرف کیے رکھتے ہیں مگر بیورو کریسی چالاک لومڑیوں کی طرح ہم سبھی کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اپنا حصہ اچک لے جاتی ہے اور اس کی کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہونے دیتے کیونکہ ہر معاہدے کے کاغذات کا لین دین دستخط وغیرہ انہی نے کرنا ہو تے ہیں۔ اب نئے بجٹ سے قبل ہی بھاری قرضے لینے کا طبل بج چکا ہے فرض محال بھاری قرضہ مل جاتا ہے اور بیورو کریٹوں کے ساتھ رازداری سے ان رقوم میں سے نصف یا تیسرا حصہ ہی آمدہ انتخابات کے لیے بطورذاتی خرچہ رکھ لیویں توسات آٹھ ارب ڈالرز یعنی تقریباً آٹھ سو ارب روپے آمدہ پورے انتخاب کو خریدنے کے لیے کافی ہیں پہلے بھی ن لیگیوں نے ذاتی جمع کردہ پونجی کو خرچ نہیں کیاجبکہ دوسری طرف زرداری اور ان کے ساتھیوں نے جو کہ سیاسی طور پر پرانے گھاک سیانے افراد تھے نے بقول خود ان کے سینٹ انتخابات چمک کے ذریعے جیتے ہیں زرداری صاحب کا یہ فرمانا کہ انتخابات تو اربوں کا خرچہ ہے جس کا کہ ن لیگیوں میں خرچ کرنے کا حوصلہ نہ ہے درست فرماتے ہیں کہ انہوں نے سینٹ کی بیشتر سیٹیں اسی خفیہ طرز سے “ہتھیا “لی ہیں۔بعد ازاں پی ٹی آئی والوں کو ایسا گھمایا اور چکرایا کہ وہ بھی اپنے 13ووٹ خود ہی ان کوعطاء کرنے پر تیار ہو گئے اور چئیر مین سینٹ کی کم عمری کا شور و غوغا مچا ہوا ہے محسوس ہو تا ہے کہ سینٹ کے انتخابات میں حصہ لینے والی سبھی سیاسی جماعتوں کے سربراہوں پر اندھوں کا راج ہے کہ کسی نے اس کے فارم پر عمر کو چیک ہی نہ کیا عوامی رائے یہی ہے کہ پورے ملک کی طرح ادھر بھی چمک نے کام نہ دکھا دیا ہو۔
جوتے بازی شروع ہے اور سیاستدادنوں کی زبان 1970اور1977کے انتخابات کی یاد دلا رہی ہے1977میں تو لوگ مرنے مارنے پر تلے ہوئے تھے سیاستدانوں کی اشتعال انگیز تقریریں کوئی اچھا شگون نہیں ہے ہر جگہ کارکن گھتم گتھا ہونے شروع ہو گئے تو ” خونی انتخابات “کیا ملکی تبدیلی لائیں گے؟ کہ صرف تباہی و بربادی پر انتخابات منتج ہوں گے سیاستدان اتنا دور نکل گئے ہیں کہ شاید اب واپسی ممکن نہ ہو کسی کے پاس مہنگائی ،غربت ،بیروز گاری ،دہشت گردی ،نا انصافی ختم کرنے کا کوئی منصوبہ نہ ہے صرف سبھی مسالک فرقوں طبقات برادریوں کے لیے مکمل قابل قبول اللہ اکبر کی تحریک ہی منظم ہو کر ایسے اقدامات کر سکتی ہے ویسے بھی ایسے متبرک ترین اور غیر متنازعی لفظ کی وساطت سے خدائے عز وجل خود ہی رحمتوں کے نزول کی بارشیں برسائیں گے اورپورا عالم اسلام اس کی پشتیبانی کرنے میں کوئی عار نہ محسوس کرے گا ۔صرف اسی طرح پرانے انگریزو ں کے پالتو وڈیروں اور ان کی اولادوں سے جان چھوٹ سکتی ہے جو ایک مخصوص طبقہ ہونے کے ناطے کسی مزدور کسان محنت کش کے مسائل سمجھ ہی نہیں سکتے تو حل کیا کریں گے؟یہ سبھی تو ذاتی سیاسی مفادات کے لیے معاشرے کو ٹکڑوں ٹکڑوں میں بانٹنے طبقوں مسلکوں کے اختلافات ابھار کر ان کو لڑانے میں مصروف ہیں صرف خدا کی کبریائی کا لفظ اللہ اکبر ہی بکھری ہوئی امت کو مجتمع کرکے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا سکتا ہے اور فالتو رقوم خرچ کیے بغیر دکٹری سٹینڈ پر بھی وگرنہ تو بڑی سیاسی جماعتیں کھربو ں روپے خرچ کرکے ووٹوں کی بند بانٹ ،ان کی خرید وفروخت کے ذریعے اپنے اپنے کرپٹ حواری ٹولوں کے جغادری افراد کی جیت کا سامان کریں گے غلیظ زبان کے استعمال کی وجہ سے عوام دلی طور پر موجودہ سیاستدانوں سے شدید نفرت رکھتے ہیں ان میں سے خدانخواستہ کوئی جیت بھی گیا تو لڑائی جھگڑا کبھی ختم نہ ہو گا اور ملک جو کہ چاروں طرف سے دشمنان دین کے گھیرے میں ہے کی سا لمیت کوشدید نقصان پہنچنے کا احتمال ہے پاکستانی اٹھیں اور اللہ اکبر کا جھنڈا بلند کرکے ایسی تحریک برپا کر ڈ الیں جو ملک کو فلاحی مملکت میں تبدیل کرکے بنیادی ضروریات زندگی صاف پانی بجلی گیس فون انٹرنیٹ تعلیم علاج اور غریب کے لیے انصاف مفت مہیا کر سکے مزدوروں کی تنخواہ کم ازکم ماہانہ پچاس ہزار روپے یا ایک تولہ سونا کی قیمت کے برابر ہو (یعنی جو بھی زیادہ ہو)صنعتی مزدور کو تو منافع میں دس فیصد حصہ ملے پانچ ایکڑ تک کے غریب کسانوں کو گہائی بوائی پانی کھاد بیج مفت مہیا ہوں اور ان کی پیداوار کو اصل قیمتوں پر ہر یونین کونسل میں موجود کم ازکم چار “اللہ اکبر سینٹرز”پر حکومت خود خریدے ۔کھانے پینے کی تمام اشیاء 1/3قیمت پر اور ہمہ قسم تیل آدھی قیمت پر مہیا ہو۔