بھارت کا جنگی جنون

43

تحریر۔۔۔ مرزا روحیل بیگ
پاکستان اور بھارت کے تعلقات یوں تو ابتدا ہی سے کشیدگی اور بے اعتمادی کا شکار رہے ہیں۔ دونوں ملک دو جنگیں بھی لڑ چکے ہیں، اور بارہا دونوں ملکوں کی فوجیں سرحدوں پر آمنے سامنے آ چکی ہیں۔ بھارت کی مخاصمت کی وجہ محض کشمیر ہی نہیں بلکہ پاکستان کی ابھرتی ہوئی معاشی قوت (پاک چین راہداری) اور بین الاقوامی طور پر پاکستان کی مسلمہ جغرافیائی اہمیت کو نشانہ بنانا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ناعاقبت اندیش قیادت اور اسلام دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اس لیئے پاکستان اپنے دفاع کے لیئے ہر طرح سے تیار ہے فرانس اور بھارت کے درمیان دفاع اور ایٹمی توانائی سمیت 14 معاہدوں پر دستخط کیئے گئے ہیں۔ فرانس اور بھارت کے درمیان بحر ہند میں تعاون کا معاہدہ بھی طے پا گیا۔ دونوں ملک ایک دوسرے کے جنگی جہازوں کے لیئے اپنے بحری اڈے کھول دیں گے۔ بھارت کو ری یونین جزائر اور جبوتی کے فرنچ فوجی اڈوں تک رسائی ملے گی۔ مشترکہ بحری و فضائی نگرانی اور دہشت گردی کے خلاف تعاون پر بھی اتفاق کیا گیا۔ فرانسیسی صدر میکرون نے کہا ہے کہ فرانس یورپ کا دروازہ ہے اور ہم یورپ میں بھارت کے بہترین شراکت دار بننا چاہتے ہیں۔ غیر ملکی سربراہان یا اعلی سطح کے وفود جب بھی کسی ملک کا دورہ کرتے ہیں تو تجارتی و دفاعی معاہدے یا یادداشتیں ایسے دوروں کا حصہ ہوتی ہیں، مگر بھارت کے ہاں کوئی غیر ملکی سربراہ یا اعلی سطح کا وفد آئے یا بھارت کی حکومتی و فوجی قیادت غیر ملکی دورے پر جائے ان کا سارا زور دفاعی معاہدوں اور جدید ترین روایتی و غیر روایتی اسلحہ کی خریداری پر ہوتا ہے۔ اس نے کئی ممالک سے سول نیو کلیئر توانائی کے معاہدے کیئے ہیں۔ ان میں امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس اور ہالینڈ بھی شامل ہے۔ ایک عالمی رپورٹ کے مطابق بھارت سول نیو کلیئر ٹیکنالوجی کو دفاعی مقاصد کے لیئے بھی استعمال کر رہا ہے، جبکہ پاکستان کے لیئے سول نیو کلیئر توانائی کے معاہدے شجر ممنوعہ قرار دیئے گئے ہیں۔ بھارت اور فرانس میں ایک دوسرے کے بحری اڈے استعمال کرنے کا معاہدہ خطے کے دیگر ممالک کے لیئے باعث تشویش ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی خیال کیا جا رہا ہے کہ بھارت کا فرانس سے کیا جانے والا معاہدہ پاک چین دوستی کے بڑھتے روابط اور مستقبل میں دونوں ممالک کے ایٹمی اور معاشی استحکام کے پیش نظر عمل میں لایا گیا ہے۔ بھارت اور فرانس کے درمیان ہونے والے ان معاہدوں سے خطے میں بھارتی جنگی جنون میں مزید اضافہ سامنے آئے گا، جو پاکستان اور چین کے صبر و تحمل کا بڑا امتحان اور عالمی امن و سلامتی اور استحکام کے لیئے ایک چیلنج ہو گا۔ بھارت کا جنگی جنون اور اسلحہ کی دوڑ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیئے ایک پریشان کن چیلنج ہے۔ بھارت کے اسلحہ جمع کرنے کے خبط کو اسٹاک ہوم بین الاقوامی امن تحقیقاتی ادارے نے یہ انکشاف کر کے بے نقاب کیا کہ بھارت دنیا میں 2012 سے 2016 تک دنیا کا سب سے بڑا اسلحہ کا خریدار رہا ہے۔ بھارت کی یہ درآمدات دنیا کے ہتھیاروں کی تجارت میں 13 فیصد تھیں۔، اور یہ امر بھی حیران کن ہے کہ بھارت نے جہاں امریکہ اور روس سے اسلحہ خریدا وہیں اسرائیل سے بھی اس کے معاہدے بروئے کار رہے۔ بھارت کے جنگی جنون اور اسلحہ جمع کرنے کے خبط نے خطے میں طاقت کا توازن بری طرح بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ بھارت کو صرف اسلحہ کے ڈھیر لگانے ہی کا جنون ہے، اس کے معیار اور حفاظت سے شائد کوئی سروکار نہیں۔ اس کا ایٹمی مواد چوری ہو چکا ہے۔ مناسب حفاظت نہ ہونے سے خوفناک آتشزدگی کے واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔ اس نے خطرناک اور طویل رینج کے میزائلوں اور راکٹوں کے تجربات کیئے مگر کئی اڑان بھرتے ہی ٹھس بھی ہو چکے ہیں۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر تنقید کرنے والی عالمی طاقتوں کو پاکستان اور بھارت کے حفاظتی انتظامات کا جائزہ بھی لینا چاہیئے۔ خود امریکی ادارے بھارت کے حفاظتی انتظامات کو ناقص قرار دے چکے ہیں۔ مقابلے میں پاکستان کے حفاظتی انتظامات اب تک فول پروف ثابت ہوئے ہیں۔ پاکستان کے پاس بھارت کے مقابلے میں اسلحہ کے ذخائر تو نہیں ہیں مگر جو روایتی اور غیر روایتی اسلحہ ہے وہ معیاری اور دفاعی ضروریات ک مطابق ہے جس کو ضرورت کے مطابق اور فی زمانہ ٹیکنالوجی میں جدت کے تقاضوں کے تحت اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔ آج پاکستان کا ایٹمی پروگرام کم از کم ڈیئرنس کی سطح پر ہے جبکہ بھارت اسلحہ کے انبار لگا رہا ہے، لیکن حفاظتی انتظامات انتہائی ناقص ہیں۔ عالمی برادری پر بھارت کا جنگی جنون، اس کے اسلحہ جمع کرنے کے خبط اور ناقص حفاظتی انتظامات واضح کرنے کی ضرورت ہے۔