تقدیر۔تدبیر۔رضا

32

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
تدبیر اور تقدیر دونوں کا سفر ساتھ ساتھ چلتا ہے جب تدبیر اختیار کی جاتی ہے تو تقدیر کے کئی پہلو تدبیر کے ہمنوا بن جاتے ہیں تدبیر ایسے پھول کی مانند ہے جو تقدیر کے جلو میں ہی پنپتی ہے لیکن تقدیر کو نئے آہنگ سے آشنا کروا دیتی ہے اور تدبیر اور تقدیر کے معاملات ایسے ہوجاتے ہیں کہ خالق مخلوق کی اپنائی ہوئی تدبیر کو ہی تقدیر کا درجہ دئے دیتا ہے ۔خوبصور ت سے خوبصورت شے جب گندگی میں گر تی ہے تو اُس کے اردگرد گندگی لگ جاتی ہے۔ بے شک وہ گندگی بعد میں اُتر جاتی ہے۔ لیکن اُس گندگی کا جتنا وقت اُس شے کے ساتھ گزرا ہوتا ہے وہ اُس خوبصورت شے کو بھی کسی حد تک آلودہ کر دیتا ہے خوبصورت شے کی خوبصورتی پر بھی اُنگلیاں اُٹھنا شروع ہوجاتی ہیں۔ یوں خوبصورتی کا محور شے کسی طور بھی اُتنی پاکیزہ نہیں گردانی جاسکتی جتنا وہ گندگی میں گرنے سے پہلے تھی۔ لیکن خالق کا اپنے بندئے سے محبت کا یہ عالم ہے کہ وہ کہتا ہے جب کافر مرنے بھی لگے اور کلمہ پڑھ کر رب کی واحدنیت کا اقرار کرلے تب بھی وہ اُسے بخش دیتا ہے۔حالانکہ اُس کی ساری زندگی کفر میں گزری ہوتی ہے۔بندے اور خالق کا تعلق اتنا محبت سے بھرپور ہے کہ خالق کفر کی حالت میں کیے گئے اُس کے سارئے گناہ معاف کردیتا ہے۔بندہ خالق کا نائب جو ہے۔ ایک رب کی وحدانیت کا اقرار کافر کو وہ سفر طے کروا دیتا ہے جو کہ بڑا کٹھن ہے۔بندے کے ساتھ رب کی محبت اتنی عظیم ہے کہ بندہ رب کی رحمتوں کا شمار نہیں کر سکتا۔ کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم اپنے رب کے بندوں سے پیار کرنا سیکھ جائیں کیونکہ رب تو بندئے سے بے انتہا پیار کرتا ہے۔ وہ سب کا رازق ہے وہ بلاتخصیص رنگ و ملت و مذہب سب کو روزی عطا کرتا ہے جو اُس کو مانتے ہیں اُن کو بھی دیتا ہے اور جو نہیں مانتے اُن کو بھی دیتا ہے۔ہر انداز اور عمل کا جو بھی ردِ عمل پیدا ہوتا ہے وہ خالق کی ہی رضا بنتا چلا جاتا ہے ۔ سوچنے اور سمجھنے کی بات ہے کہ خالق اور مخلوق کے رشتے میں کتنی محبت ہے کہ خالق اپنے بندئے کی رضا کو اپنی رضا بنا لیتا ہے۔ محبت کا یہ سفر بندئے اور خالق کے درمیان اتنا مضبوط ہو جاتا ہے کہ خالق بندے کی دعا کو رد نہیں کرتا بلکہ لوحِ تقدیر پہ لکھا ہوا بھی بدل دیتا ہے ۔ بندئے کی رب کے ساتھ محبت کا یہ عالم کہ بندہ خود کو فراموش کر دیتا ہے اور اپنی ایک ایک خواہش کو اپنے خالق کی رضا پہ قربان کر دیتا ہے ۔ بندہ پھر خاکی اور نوری کے سفر سے نکل جاتا ہے نہ ہی وہ حیات اور ممات کا محتاج رہ جاتا ہے۔خالق اُس کی روح کی حقیقتوں کو جب اُس پر آشکار کرتاہے تو پھر اِس دنیا یا اُس دنیا میں فرق صرف ایک سفر کا ہی رہ جاتا ہے۔ تب بندئے کو صوفی کہہ لیا جائے ولی کہہ لیا جائے ۔ اللہ کا دوست کہہ لیا جائے۔ ایک ہی بات ہے۔ دُکھ کو سُکھ بُھلائے اور درد کو چین بدی کا مداوا نیکی سے ہوتا ہے نفرت کو محبت مٹا دیتی ہے خالق کی محبت روح میں نیا جہاں بسا دیتی ہے خالق کے بندوں کی محبت عبد ہونے کا احساس دلادیتی ہے محبت امن محبت سُکھ، محبت چین محبت لازوال روح لازوال محبت کا مسکن روح روح کو موت نہیں آتی محبت کو بھی موت نہیںآتی۔دل اپنا ہی اپنے اختیار میں نہیں اُس سے شکوہ عبث ہے پہلے خود سے تو کچھ منوا لوں پھر اُس کی جانب نگاہ جائے عشق کی راہ کا سفر انوکھا ہے وہ عشق ہی عشق ہے جس میں من اور تن ایک جیسا ہو جائے۔عشق کی جیت ہر حال میں ہی ہے وصل بھی کامیابی ٹھرا ہجر بھی کسی امتیاز سے کم نہیں عشق کی جیت تو ہر حال میں ہی ہے کتنا اعزاز بخشتا ہے یہ عشق اِس کی حقیقت ہر حال میں بقا ہی بقا، وفا ہی وفا۔خواب ادھورئے کس کام کے جب راہوں کا تعین ہی نہ ہو تب منزلِ مراد کی کیا حقیقت اِس گورکھ دھندے سے نکلنا نہ یا نکلنا بے معنی ہے خود کی پہچان ہوئے بغیر ۔قبر کا تصور اُس وقت کیا جائے جب اپنے پیاروں کے ساتھ خوشیاں منائی جارہی ہوں۔ جب اپنے گھر میں سکون کے ساتھ محو خواب ہو۔جب ساری حیاتی کا حاصل سمجھی جانے والی منزل مل جائے تو اُس وقت جب ابدی گھر پکار رہا ہو اور انسان یہ سوچے کہ بس میں نے اب قبر میں اُتر جانا ہے۔تب زندگی کی بناوٹی خوشیاں کتنی پھیکی پڑ جائیں ۔ شائد تب زندگی کے ہونے یا نہ ہونے کا مطلب بھی سمجھ میں آجائے۔ صوفیاء کے ہاں تو زندگی کا مقصد صرف ایک سفر ہے۔جس لمحے سورج کی کرنیں خالق کا پیغام کائنات میں بکھیرتی ہیں کوئل کی من بھاتی آواز خالق کی خدائی میں رنگ بھرتی ہے جب چاند اندھیری گُھپ رات میں ٹم ٹماتا ہے جگنو بھی اِس روشنی کا ننھا مسافر ہوتا ہے اِن لمحوں میں بندئے ا مانگتے ہیں کتنے خوش نصیب ہوتے ہیں جو اپنے لیے سب کچھ خالق سے ہی طلب کرتے ہیں۔تدبیر اور تقدیر کے سفر میں بندے اور خالق کی رضا تب ایک ہی بن جاتی جب بندہ بندگی کے پیمانے پہ پورا اُترتا ہے۔بندگی پہ پورا اُترنا اتنا مشکل نہیں ہے بس جو خالق کی رضا اُس کو بندہ اپنی رضا بنالے۔ساری گفتگو کا نچوڑ یہ ہی ہے کہ بندہ خالق کا قُرب پاسکتا ہے لیکن اُس کے لیے اتنی سے بات ہے کہ خالق کے بندوں کا قُرب حاصل ہوجائے۔ یہ ہی اللہ کے نیک بندوں کا دستور ہے۔