بھارت کی آبی جارحیت

19

تحریر۔۔۔ڈ ا کٹر عبد ا لمجید چو ہد ر ی
ز ند ہ ر ہنے کے لئے ہر جا ندار کو جس طر ح آ کسیجن کی ضر و رت ہے ا سی طر ح ہر ذی رو ح کو ز ند ہ ر ہنے کے لئے جو سب سے ضر و ر ی چیز ہے وہ پا نی ہے ا س و قت پو ر ی د نیا پینے کے صا ف پا نی کے کم ہو تے آ بی ذخا ئر میں کمی کے مسئلے کا شکا ر ہے پا نی کے ذ خا ئر کم ہو نے کے پیچیدہ مسا ئل کا سا منا ا س وقت تر قی پز یر کے سا تھ تر قی یا فتہ مما لک کو بھی ہے یہ ا یک ا یسا مسئلہ ہے جس کی طر ف ما ہر ین بہت عر صے سے تو جہ د لا ر ہے ہیں ا گر ہم جنو بی ا یشا ء کی با ت کر یں تو پا کستا ن کے قیا م کے وقت سے ہی پا ک بھا ر ت آ بی تنا ز ع شر و ع ہو گیا جو آ ج بھی بر قر ا ر ہے ا س وقت پا کستا ن میں ملک بھر کے دریا ؤ ں میں پا نی کی سطح مز ید کم ہو گئی ہے جس کے با عث ر بیع کی فصلو ں کو پا نی کی فر ا ہمی کے متا ثر ہو نے کا شد ید خطر ہ پید ا ہو گیا ہے محکمہ آبپا شی کے ذرا ئع کے حو ا لہ کہا گیا ہے کہ دریا ؤ ں میں پا نی کی کمی کے با عث تر بیلا ڈ یم اور منگا ڈ یم میں پا نی کی سطح ا نتہا ئی حد تک گر گئی ہے تر بیلا ڈ یم میں پا نی سطح ڈیڈ لیو ل ا یک ہز ا ر 386فٹ پر آ گئی ہے جبکہ منگلا ڈ یم میں بھی پا نی کی سطح ڈ یڈ لیو ل ا یک ہز ا ر 50فٹ پر آ گئی ہے ذر ا ئع نے بتا یا ہے کہ با ر شیں کم ہو نے کے با عث جو ن تک پا نی کی قلت ر ہے گی جس کے با عث ر بیع کی فصلو ں کو پا نی کی فر ا ہمی متا ثر ہو گی با ر شیں کم ہو نے کی با ت در ست ہے ا س کے سا تھ پا کستا ن اور بھا ر ت کے کے خر ا ب تعلقا ت بھی پا کستا ن کے لئے آ بی مشکلا ت میں ا ضا فے کا سبب ہیں بھا ر ت نے قیا م پا کستا ن کے بعد ہی آ بی ہتھیار کو ا ستعما ل شر و ع کر دیا جب ا س نے پا کستا ن کی جا نب بہنے والے دیا ؤ ں کا پا نی رو ک دیا 34دن تک پا کستا ن کا پا نی رو کے ر کھا جس کی وجہ سے پا کستا ن کو زرا عت میں نا قا بل تلا فی نقصا ن کا سا منا کر نا پڑا پا کستا ن میں بہنے وا لے دریا ؤ ں کا مر کزمقبو ضہ کشمیر میں ہے جس کی و جہ سے بھا ر ت پا کستا ن کو پا نی کے مسئلے میں ہمیشہ پر یشا ن ر کھتا ہے 34روز جب بھا ر ت نے پا کستا ن کا پا نی رو کے رکھا ور لڈبینک کی سر پر ستی میں دس سا ل کے مذکرا ت کے بعد 1960میں دونو ں مما لک کے در میا ن معا ہد ہ طے پا یا جسے سند ھ طا س معا ہدہ کہتے ہیں اس معا ہد ہ میں مشر قی تین دریا ؤ ں پر بھا ر ت اور مغر بی تین دریا ؤں پر پا کستا ن کا حق تسلیم کیا گیا اس معا ہد ہ پر 19دسمبر 1960کو جنر ل محمدا یو ب خا ن اور جو ا ہر لا ل نہر و نے دستخط کیے سندھ طا س معا ہد ہ کے با ر ے پنجا ب ا یر یگیشن کے سا بق چیف ا نجینرر میض احمدملک تین دریا کیسے کھو ئے اپنی کتا ب میں لکھتے ہیں جنر ل ا یو ب کے ا قتدارپر قبضہ کر نے کے بعدصو ر ت حا ل قطی بدل گئی اور پا کستا ن نے بلا سو چے سمجھے سند ھ طا س معا ہد ے پر دستخط کرکے ا پنے تین مشر قی دریا ؤ ں سے ہمیشہ کے لئے ہا تھ دھو لئے سند ھ طا س معا ہد ہ کے مطا بق بھا ر ت پا کستا ن کے حصے میں آئے سند ھ ، جہلم ،چنا ب تین مغر بی دریا ؤ ں پر ڈ یم نہیں بنا سکتا ا گر بھا ر ت کو ا یسا کر نا بھی پڑ ے تو جو و ہ ڈیم بنا ئے گا اس کی پیشگی اطلا ع بھا ر ت پا کستا ن کو دے گااور ڈیم کی لمبا ئی مخصو ص حد سے زیا دہ نہیں ر کھے گا لیکن بھا ر ت نے سند ھ طا س معا ہدے کی شقوں کی خلا ف و ر زیا ں کر تے ہو ئے سا ٹھ کے قر یب متنا ز عہ آ بی منصو بے شر و ع کر ر کھے ہیں بھا ر ت نے جو متنازعہ مصبو بے با کستا ن کو بنجر بننے کے لئے شر و ع کر ر کھے ہیں ان میں بگلیہا ر پا ور پر جیکٹ دریا ئے چنا ب پر،سلا ل ہا ہڈ ل پر ا جیکٹ دریا ئے چنا ب، وولربیر ج سر ینگر دریا ئے جہلم پر ، کشن گنگاا سٹو ر یج ا ینڈ ہا ئڈ ل پر ا جیکٹ اس منصو بہ کنٹر و ل لا ئن سے فا صلہ دس کلو میٹر اور مظفر آ با د سے دو سو دس کلو میڑہے پا کستا ن کی یہ بد قسمتی ہے کہ ہما رے پا س بہتر ین آ ب پا شی کے ما ہر ین مو جو د نہیں پر و فشنل لو گو ں کی کمی کی و جہ سے ہم ا پنا مقد مہ عا لمی عد ا لت ا نصا ف میں ا چھی طر ح پیش نہیں کر سکے جس کا نتیجہ ہم دیکھ چکے 2014عا لمی ثا لثی عد ا لت میں پا کستا ن بھا ر ت کے خلا ف کشن گنگا منصو بیکا مقد مہ ہا ر گیا پا کستا ن کے با رہ مکعب فٹ پا نی کا پا کستا ن کا مطا لبہ تھا ا س کے بر عکس نو مکعب فٹ پا نی جا ر ی کر نے کا حکم دیا پا کستا ن کو شہ ر گ کشمیر سے آ نے وا لے دریا ؤ ں سے سند طا س معا ہد سے پہلے 5600 کیو بک میٹرجو پا نی ملتا تھا وہ سند ھ طا س معا ہد ے کی وجہ سے با رہ سو کیو بک میٹررہ گیا ہے کیو نکہ تین مشر قی دریا ؤں بھا ر ت کا حق تسلیم کیا گیا ہے اس لئے بھا ر ت نے ا ن دریا ؤ ں کا پا نی 33 ملین ا یکٹر فیٹ پو ر ی طر ح ا ستعما ل کر لیا ہے جس کی و جہ سے دریا را و ی اور ستلج دریا ؤ ں کی گزر گا ہیں جشک ہو چکی ہیں ا ن دریا ؤ ں کی گز ر گا ہو ں میں پا نی نہ ہو نے کی وجہ سے ز یر ز میں پا نی کی سطح مسلسل نیچے ہو ر ہی ہے دریا چنا ب بھا ر ت کی ر یا ست ہما چل پر د یش سے نکلتا ہو ا پا کستا ن میں دا خل ہو تا ہے اس پہ بھی بھا رت نے آبی جا ر حیت کر تے ہو ئے2000 میں بگلیہا ڈ یم کی تعمیر شر و ع کی تا کہ پا کستا ن کو غذا ئی بحر ا ن سے دو چا ر کیا جا ئے اور پا کستا ن کا ذخیز سو نا ا گلتی ز مین کو بنجر کیا جا ئے بھا ر ت ا پنی کم ظر فی کی و جہ سے آ بی جا ر حیت کی کئی با ر د ھمکی دے چکا ہے18ستمبر2016 کو لا ئن آ ف کنٹر و ل کے قر یب بھا ر تی فو ج پہ حملہ ہو ا جس کا ا لز ا م حسب معمو ل بھا ر ت نے پا کستا ن پہ لگا یا اور 22ستمبر2016کو ا نڈ یا کی وزات خارجہ کے تر جما ن و کا س سو ر پ نے د ھمکی آ میز بیا ن دیا کہ بھا ر ت سند ھ طا س معا ہد ے کو ختم کر سکتا ہے د کھ کی با ت ہے کہ سند ھ طا س معا ہدے کی بھا ر ت کی جا نب سے مسلسل خلا ف ورزیو ں اور ا کثر آبی جا ر حیت کی د ھمکیو ں کے مقا بلے میں پا کستا ن کی خا ر جہ پا لیسی نا قص ہے پا کستا ن کی نا قص خا ر جہ پو لیسی کا ا ندا زہ ا س با ت سے لگا یا جا سکتا ہے کہ مو جو دہ حکو مت نے چا ر سا ل تک کو ئی و ز یر خا ر جہ ہی مقر ر نہیں کیا ہم ا پنی خا ر جہ پا لیسی کو بہتر کر کے بھا ر ت پہ دبا ؤ بڑ ھا سکتے ہیں تا کہ بھا ر ت آ بی جا ر حیت سے ر و کا ر ہے اور سند ھ طا س معا ہد ے کا پا س کر ے تا کہ دو نو ں مما لک جنگ کی تبا ہ کا ر یو ں سے محفو ظ رہیں