مو سم بہاراں

22

انسانی مزاج کی خاصیت ہے کہ وہ حالات و واقعات کے ساتھ اپنا موڈ، سوچ اور خیالات کو تبدیل کرتا رہتا ہے ۔ صبح، دوپہر، شام اور رات کے بدلتے لمحوں میں انسانی موڈ ایک جیسا نہیں رہتا۔ موسموں کا انسانی مزاج پر بہت اگہر اثرانداز ہوتا ہے۔ مختلف موسموں کے پھولوں ا ور پھلوں کی خوشبو و مہک سے انسانی ذہن میں ذائقے کی حس اور مہک و خوشبو کو سونگھنےسے تقویت ملتی ہے ۔ ذہن کے اس حصے کو زبان تصوراتی تمثلیں بھی کہتے ہیں جو دماغ کے حصہ لاشعور سے جڑا ہے، جس کی Reptilian Brain
ڈیوٹی باہر کے ماحول سےپیغام اور تحریک لے کر جانا ہے۔ ذائقے کوچکھنے اورخوشبو کو سونگھنےکی صلاحیت وجدانی اور روح کی کیفیت میں تبدیلی کا با عث بنتی ہے ۔ قدرتی و فطری خوشبو سے جسمانی صحت کو بہت فوائد ملتے ہیں ۔ ذہن میں محفوظ تصورات تروتازہو نے لگتے ہیں، تخلیقات ، مشاہدات اور تجربات کی صلاحیتوں میں اضافہ کے ساتھ ساتھ جسمانی قوت مدافع مضبوط ہوتی ہے۔
اللہ رب العزت نے وطن عزت پاکستان کو بہت دلفریب موسموں سے نوازا ہےگرمی تو کبھی سردی ، خزاں تو کبھی بہار ۔ موسم بہاراں کے تو رنگ و روپ ہی الگ ا ور نرالے ہیں۔ خوبصورت دل کش اور دلفریب موسم پوری فضا کو بے شمار پھولوں کی خوشبو اور رنگوں سے معطر اور رنگین کر دیتا ہے اور دل و دماغ پر خوشیوں کے سائے چھا جاتے ہیں ، سورج کی کرنیں جسم کو اچھی اور بھلی لگتی ہیں ،ٹھنڈی و صاف ہوا اور درختوں کےنیچے بیٹھنے سےراحت و سکون ملتا ہے۔کوئل کی کوک، بلبل اور پرندوں کا چہچہانا بہار کے موسم کی انفرادیت ہے۔
فروری کے اختتام اور مارچ کے شروع میں اس خوبصورت موسم کا جب آغاز ہوتا ہے تو گویا شہر نگاراں کا رنگ وڈھنگ ہی تبدل ہوجاتے ہیں ۔ بڑی بڑی شاہراہوں ، کھیت و کھیلیانوں ، باغوں اور پارکوں کے ارد گرد کھلے پھولوں کے تختے،دھوئیں اور ٹریفک کے اڑدہام میں بھی ذہن و دل کو تروتازہ کر دیتے ہیں۔ بہار کا موسم ہماری زندگیوں کے لئے دیگر تحائف کی طرح انمول ہے جس کی خاصیت و اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ موسم بہار اں کی آمد رنگوں کی ایسی بارات سے ہوتی ہے جس کی خوبصورتی ، دل کشی سے ہر ذی نفس اپنے اپنے انداز میں لطف اندوز ہوتا ہے ۔ جشن بہاراں، بسنت ، ، میلوں کا انعقاد یہ بہار کی خوش اور آمد کا ہی بغل ہوتا ہے ۔ موسم بہاراں جہاں باغوں کو رونق بخشتا ہے وہاں یہ حسین موسم مزاجوں اور رویوں میں پر مسرت اور خوشگوار تبدیلی رونما کرتا ہے ، بہار کے موسم کی نکھری ہوئی ہریالی اور رنگا رنگ و نسل کے پھولوں کی خوشبو سے معطر فضا ہرذی روح میں خوشی کے احساس کو اجاگر کردیتی ہے۔ .
محکمہ موسمیات نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ کلائمیٹ میں تبدیلی کے باعث موسم سرماکا دورانیہ کم اور موسم گرما کا طویل ہو تا جا رہا ہے جس کی وجہ فضائی آلودگی، جنگلات کی کٹائی، ایٹمی و تابکاری بجلی گھر، فیکٹریوں و کارخانوں میں آتشک و کیمیائی مادوں کے اخراج سے ماحول اور آب و ہوا کا درجہ میں شدت آرہی ہے جس کی وجہ سے ہر آنے والے سال میں سردی کا ایک دن کم اور گرمی کا ایک دن بڑھتا جارہاہے اگر یہ صورت حال اس طرح رہی تو آنے والے سالوں میں بہار کا موسم سرے سے ختم ہی ہو جائے گا۔
آج سے بیس سال پہلے سردیوں کا سیزن اکتوبر سے فروری پانچ ماہ پر محیط تھا جو اب تین ماہ دسمبر سے فروری تک ہے ، اسی طرح موسم گرما کے مہینوں جو پہلے اپریل سے جولائی کے گراف میں شمار کئے جاتے تھے اب ان کا شمار اپریل سے ستمبر تک ہوتا ہے ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کے ساتھ عوام الناس کی ذمہ داری ہے کہ سب مل کر اپنے شہروں، دیہاتوں و قصبوں کے ماحول کو بہتر بنائیں۔ درختوں کی کٹائی کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں، فیکٹریوں و کارخانوں میں کیمیائی مادوں کے اخراج کے لئے ہیلتھ سیفٹی سسٹم پر عملدارکو یقینی بنائے، آبی ذرائع کے وسائل کوگندا ہونے سے بچائیں، حرارت وآگ کے ذریعے سے ویسٹ کو ضائع کرنے کی بجائے زمین میں دفن کرنے کے پروجیکٹ پر ورک کریں، زمین میں زرخیزی کے لئے کیمیکل کھاد کی بجائے دیسی کھاد کا استعمال کریں۔،سورج کی روشنی کو استعمال میں لا کر ایندھن کو بچائیں، موسم بہار کے لئے ان اقدامات کو یقینی بنا کر ہی ہم دلفریب و دلکش موسم کے ساتھ اپنی زندگیوں کو انجائے کر سکتے ہیں بصورت دیگر یہ خوبصورتیاں، تصورات اور دلکش خیالات صرف کتابوں و افسانوں کا حصہ بن کر رہ جائیں گئے۔