23مارچ تا ریخی قرار داد پاکستان

26

تحریر ۔۔۔باؤ اصغر علی
23 مارچ، 1940ء کو لاہور کے منٹو پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ کے تین روزہ سالانہ اجلاس کے اختتام پر وہ تاریخی قرارداد منظور کی گئی تھی جس کی بنیاد پر مسلم لیگ نے برصغیر میں مسلمانوں کے علاحدہ وطن کے حصول کے لیے تحریک شروع کی اور سات برس کے بعد اپنا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب رہی،جو بعد میں قرار داد پاکستان کے نام سے مشہور ہوئی اس دن آل انڈیامسلم لیگ نے اے ۔کے ۔فضل حق جو بنگال کے وزیراعلیٰ تھے کی پیش کردہ قرارداد منظور کر کے یہ پیغام دیا تھا کہ اب متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں اور ہندوں کا ایک ساتھ رہنا مشکل ہے ،مسمانوں کیلئے ایک علیحدہ ریاست کا تصور تو علامہ محمد اقبال نے پیش کیا تھا لیکن مسلم لیگ نے اس قرار داد کو منظور کر کے ایک علیحدہ مملکت کے قیام کیلئے اپنی جدو جہد کا آغاز کیا جو ساتھ سال بعد قیام پاکستان کی صورت میں سامنے آیا قرار داد پاکستان اس بات کا عہد تھا کہ مسلمانان ہند کیلئے ایک علیحدہ مملکت قائم کرنے کی جدوجہد کی جائے گی ،جہاں پر وہ اپنے عقائد کے مطابق اپنی زندگی گزار سکے ،واضح رہے کہ یہ قرار داد اس شخص کی موجودگی میں پاس ہو رہا تھا جو کسی ہند و مسلم اتحاد کا بہت بڑا ہامی تھا ،وہ کون تھا ۔وہ قائد اعظم محمد علی جناح تھے جن پر ہند و ں کی ذہنیت اور مکا ری آشکار ہوگئی تھی اور انہو ں نے ہند و ں کے ساتھ ساتھ بر صغیر کے قوم پر ست مسلما ن علما کا بھی مقا بلہ کیا جو قیا م پا کستا ن کے مخا لف تھے ایسے ہی حا لا ت کی طرف علا مہ محمداقبال نے اشارہ کیا تھا ،موجودہ حالات پرنظرڈالی جائے تویہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ ہم نے اس عہد کوبھلادیاہے جس کو پورا کرنے کی خاطرہمارے آبااجدادنے پاکستان کے قیام کی جدوجہدکی تھی جس کی خاطر لاکھوں مسلمانو ں نے اپنے گھر کاروباراور جانیں تک قربان کر دی تھیں اس وقت کسی نے یہ نہیں پوچھا تھاکہ فیڈریشن ہونا چاہیئے کہ کنفیڈریشن کسی نے اپنے برانڈ کے اسلام کی نفاذکی بات نہیں کی تھی یہ سارے سوال ہی بے محل اور غیر ضروری تھے ان کے سامنے توایک ہی مقصد اور منزل تھی اور وہ منزل تھی مسلمانان ہند کیلئے الگ مملکت کا قیام سیکولراوراسلامی ریاست کے بحث سے قطع نظرہندوستان کے مسلمانو ں کے لئے الگ وطن کا مطالبہ کسی سیاسی نعرے کی حیثیت نہیں رکھتا ،بلکہ ایک واضحاور متعین نصب العین تھا کہ ایسی جگہ جہا ں پر وہ اپنے عقائد کے مطابق زند گی گزارسکیں اگر صرف نما ز روزہ ہی کافی تھا تو اس کی اجازت تو متحدہ ہندوستان میں تھی ،اس وقت ایک جذبہ تھا ،ایک لگن تھی ،ایک ارزو تھی ،کہ کسی طرح مسلمانوں کو آادی مل جائے اور وہ اپنے عقائدکے مطابق زندگی گزارسکیں اس جدو جہد میں علما ں بھی تھے ،انگریزی تعلیمی اداروں سے پڑھے ہوئے لوگ بھی تھے ،نوکر پیشہ لوگ بھی تھے اور کھتو ں میں کام کرنے والے بھی ،ان سب نے مل کر اپنا کل ہمارے آج پر قربان کردیا جب مسلما نو ں کو بغاو ت کا مرتکب قراردے کر من حیث القوم ظلم وستم کا نشانہ بنایا جانے لگا تو ایسے نازک موڑ پر سر سید احمدخاں نے اپنی قائدانہ صلاحیتو ں کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلما نوں کی نشا ثانیہ کے خواب کی تعبیر کا بیڑہ اٹھایا انہوں نے میں علی گڑھ کالج کی بنیاد رکھی اور اس کے ذریعہ مسلما نو ں کہ جدید علوم سے روشناس کراکرعظمت اور خوداعتما دی کو بحال کیا اس کے نتیجے میں مسلم لیگ قائم ہو ئی جب مسلم قائد ین نے یہ محسوس کیا کہ ہندواکثریت انہیں متحدہ ہندوستان میں با عزت زندگی گزانے اور مسلمانوں کی تہذیب وثقافت کو پروان چڑھنے نہیں دے گی ،تو بالآ آخر مارچ کو لاہور قرار داد پاکستان منظور کی گئی ،جسے مولوی فضل الحق نے پیش کیا اور قائد اعظم محمد علی جناح کی سر براہی میں مسلم لیگ نے مسلمانان ہند کیلئے آزاد زندگی گزارنے کی جدو جہد کا ایک نیا راستہ کھول دیا ایک روشن نصب العین سامنے آگیا اس قرار داد نے ہندوں اور کانگرس کے ذہنوں میں ایک نئے اندیشے کا بیج بو دیا انہوں نے بو کھلا کر اس قرار داد کو شدت سے برا بھلا کہا ،ہندوں اور کانگرس کی کاروائیوکا سب سے پہلا نشانہ قائد اعظم محمد علی جناح بنے لیکن قائد اعظم محمد علی جناح نے ان کی اس دشمنی کوکوئی اہمیت نہ دی بلکہ وہ بڑے وقار،اعتماد ،حوصلے اور خوشی کے ساتھ منزل کے حصول کیلئے بڑھتے رہے آپ نے اپنے سیکرٹری ایم ایچ سید سے علامہ اقبال کے بارے میں کہا ،گو آج اقبال ہمارے درمیان موجود نہیں لیکن اگر آج وہ زندہ ہوتے تو یہ دیکھ کر یقیناًبہت خوش ہوتے کہ انہوں نے ہمارے بارے میں جو چاہا تھا وہ ہم نے کر دیکھایا ہے ،اس طرح جو سفر ہندو ستان کے مسلمانوں نے شروع کیا تھا وہ 23مارچ کو قرار داد کی شکل میں منظور ہو ااور اگست میں پاکستان بن گیا ۔میری تمام احکمرانو ں سیاستدانو ں اور ملک پاکستا ن کے ہر فرد سے اپیل ہے کہ خدا راہ دیکھتی آنکھوں سے اپنے پیارے ملک پاکستان کی حفاظت کریں اور ملک دشمن کا مل کر مقا بلہ کریں ،اپنے پیارے ملک کی حفاظت کرنا ہر فرد کی ذمہ داری ہے،ہمیں دنیا کو دکھانا ہوگا کہ ہم وہی قوم ہیں جس نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر پاکستان کے قیام کے خواب کو پورا کیا تھا، ہم وہی قوم ہیں جس نے اپنے قائد کی رہنمائی میں دو قومی نظریے کو سچ ثابت کرکے دکھایا تھا، ہمیں 23مارچ قرار داد پاکستان کی روشنی کو ہمیشہ روشن رکھنا ہو گا۔اللہ پاک پاکستان اور پاکستانی قوم کا حامی و ناصر ہو۔ پاکستان زند ہ باد۔