ناروے۔ کزن میرج پر مجوزہ پاپندی بنیادی انسانی حقوق سلب کرنے کے مترادف ہے۔ 30 پاکستانی تنظیمات کا مشترکہ اجلاس

28

اوسلو(عامر بٹ)امریکہ اور یورپ میں گذشتہ کئی دہائیوں سے مختلف سطحوں پر تارکین وطن اور بالخصوص مسلمانوں کے خلاف منفی جذبات میں بڑی تیزی سے اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ایسی کئی آرگنائزیشن اور سیاسی جماعتیں ہیں جو مسلمانوں اور تارکین وطن کے خلاف پروپیگنڈہ کر کے ووٹ حاصل کرتے ہیں۔ ناروے کی موجودہ مخلوط حکومت تین دائیں بازو کی جماعتوں پر مشتمل ہے ان میں ایک پارٹی ایف آر پی تارکین وطن اور مسلمانوں کے سخت خلاف ہے ، اس لیے وہ اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر قانون میں ایسی تبدیلی لانا چاہتی ہے جس سے انسانی حقوق سلب ہوتے ہیں۔ ایسی ہی ایک تبدیلی کزن میرج پر پاپندی ہے جس کو وہ قانونی شکل دینا چاہتے ہیں۔ ایف آر پی گذشتہ دو دہائیوں سے طبی نقصانات کو جواز بنا کر کزن میرج پر پابندی لگانا چاہتی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اس قانون کے ذریعے مسلمان تارکین وطن کے اضافے کو روکنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں پاک ناروے فورم کے صدر چوہدری اسماعیل سرور، تارکین وطن فورم کے چیئرمین اطہر علی اور حلقہ ارباب ذوق کے صدر آفتاب وڑائچ نے ایک سیمینار کا انعقاد کیا ۔سیمینار کا آغاز عزیز الرحمن نے تلاوت قرآن پاک سے کیا۔ جس میں 30 سے زائد پاکستانی تنظیمات کے نمائندگان نے شرکت کی۔ سیمینار سے اطہر علی چوہدری اسماعیل سرور ، عقیل قادر، چوہدری تنویر احمد، نجم الثاقب ، ڈاکٹر سید ندیم حسین اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے حکومت کی مجوزہ کزن میرج پر پابندی کو بنیادی انسانی حقوق کو سلب کرنے کے مترادف قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ پابندی کے بجائے جو میڈیکل ایشوز ہیں انکو آگاہی مہم کے ذریعے عام کیا جائے ۔اس موقع پر کزن میرج پر پابندی کے قانون کے خلاف ایک لیٹر بھی تیار کیا گیا اور تمام تنظیمات کے نمائندوں نے اس پر دستخط کیے اور مجوزہ پابندی پر گہری تشویش اور خدشات کا اظہار کیا۔ نقابت کے فرائض بہت ہی عمدہ انداز میں آفتاب وڑائچ نے سر انجام دئیے۔