معاشرتی برائیوں کی جڑ کا خاتمہ نا ممکن کیوں

21

تحریر۔۔ حافظ شاہد پرویز
پاکستان کے معاشرتی کی خامیوں کے بارے میں گفتگو کرنا آرٹیکل گستاخی کا مستقل شیوہ ہے پاکستان کی ترقی خوشحالی میں حکومتوں کا کر دار تو اپنی جگہ لیکن جہاں پر معاشرتی برائیوں کی جڑ ترقی اور خوشحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہو تو وہاں پر دوسری برائیوں کا خاتمہ کرنا مشکل ہی نہیں نا ممکن بن جاتا ہے۔ عام الفاظ میں ہم نے کچھ لوگوں کی زبان سے یہ لفظ نکلتے عام سنا ہے کہ فلاں کو دشمن کی کوئی ضرورت نہیں یہ اپنا دشمن خود ہے یوں ہی اگر پاکستان کے معاشرتی نظام کی جانب باریک بینی کی طرف سے دیکھا اور جانچا جائے تو ہم اپنے دشمن خود ہیں بھائی بہن کی پرواہ کئے بغیر میاں بیوی کے حقوق صلب کرنے کے ساتھ ساتھ باپ بیٹے کے حقوق نہ پورے ہونے کے ساتھ ساتھ اور بیٹا والدین کی نافرمانی کے ساتھ ساتھ ہی پوری زندگی گزار دیتے ہیں اور یہی معاملات ہمارے نظام میں تباہی کے بڑے اسباب کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ دوسرے کے حقوق کو جاری رکھنا اور فراہم کرنا تو درکنار معاشرتی سسٹم میں انسانیت کی جانب سے برائیوں کے اتنے بڑے عوامل جنم دے چکے ہیں کہ آج ہم بطور فرد اپنے جسم اور اپنے ذاتی حقوق کی پرواہ تک نہیں کرتے اسلام سے دوری کے باعث پاکستان کے ستر فیصد مسلمانوں کی جانب سے اسلام کی روح کے مطابق ہاتھ نہ دھونا معاشرتی اور خود اپنی تباہی کے سب سے بڑے اسباب پیدا کرتا ہے صفائی جس کو قرآن اور حدیث نے نصف ایمان قرار دیا اس کی جانب توجہ نہ دینا معاشرے اور خود کی تباہی کے بڑے اسباب کے طور پر جانچا اور دیکھا جاسکتا ہے۔ یہاں تک کہ پاکستان کے معاشرے کے ساٹھ فیصد سے زائد افراد اپنی صحت کے مطابق غذا کا حصول نہ رکھنے کی وجہ سے پچاس سال سے کی عمر میں جاتے ہی چارپائی کی زینت بن جاتے ہیں یہاں تک کہ سب سے زیادہ نوجوان طبقات پر مبنی یہ معاشرہ جہاں پر ایک بھرپور افرادی قوت رکھتا ہے تو وہیں پر بیماریوں کی لمبی داستانیں بھی اسی معاشرے میں موجود ہیں بے شک اللہ تعالیٰ نے آزمائش کے طور پر بیماریاں پیدا کیں لیکن بدقسمتی سے ہم ان بیماریوں کو تحفے کے طور پر حاصل کرنے میں بخوبی کامیابی حاصل کر لیتے ہیں۔ دانتوں کی صفائی کے معاملات ہوں تو یا پھر غسل کے معاملات پاکستان کے اسلامی جمہوری معاشرے میں اسلام سے ہٹ کر جمہور کی آزادی کے تصور نے پچتر فیصد افراد کو غسل سے دور کر دیا ۔ نوے فیصد افراد کو نماز سے دور کر دیا۔ جبکہ اس کے ساتھ ساتھ معاشرے کی تباہی کے سب سے بڑے اسباب پیدا کرنے کے ساتھ بیماریوں نفسہ نفسی کا عالم بدیانتی کے بھرپور عناصر اور کرپشن کی ایک منفرد لہر کو جنم دینے میں کامیاب ہوئی دودھ فروخت کرنے والا گوالا جب پانی ملا دودھ اور زہر سے بھرپور کیمکل ڈال کر اپنے ہی بھائیوں اور بہنوں کو پلائے گا جب لال مرچ فروخت کرنے والا شخص بھٹے کی پکی اینٹوں اور سینٹ پر مبنی اشیاء مکس کرکے اپنے ہی باپ دادا کو کھلائے گا جب معاشرے میں دکاندار دو نمبر مضر صحت گھی اپنی ہی بہن اور بیٹیوں کو کھلانے پر مجبور کر دے گا تو ایسے حالات میں معاشرے کی تباہی کے اسباب کیوں نہ پیدا ہونگے بغض کینہ اور ایک دوسرے کے خلاف عدم برداشت کی لہر کی سب سے بڑی وجہ اور خاص طور پر بیماریوں کے سب سے بڑے اسباب ایک اچھے انسان کی انسانیت دشمنی ہے۔