نشہ کی لعنت

37

تحریر۔۔۔ قاسم شاکر
نفسانفسی اور مادہ پرستی کے دور میں ہر انسان دوسرے انسان کو محبت بانٹنے کی بجائے مختلف طریقوں سے پریشان کرنے کے در پہ ہے کچھ انسان ہمیں ایسے بھی دکھائی دیں گے جن کی خواہش ہوتی ہے کہ دوسروں کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا جائے کہ وہ خود ہی زچ ہوکر معاشرے سے کٹ جائے جب وہ معاشرے سے الگ تھلگ ہوگا تو پھر اس کا جینا بھی دوبھر ہو جائے گا معاشرے میں زندہ رہنے کے لئے ہمیں ایک دوسرے کے تعاون اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے ایک دکھی انسان سے محبت ،شفقت سے برتاؤ کیا جائے تو اس کے دکھ اور غم میں کمی واقع ہو جاتی ہے دین اسلام اور انسانیت ہمیں درس ہی اس بات کی سکھلاتی ہے کہ اپنی زندگی کو دوسروں کے لئے وقف کیا جائے قرآن میں ارشاد باری تعالی ہے ’’ اہل زمین پہ تم رحم کرو آسمانوں والا تم پہ رحم فرمائے گا ‘‘دین اسلام کے اس سنہری اور لازوال اصول پہ عمل پیرا ہو کر معاشرے کو امن کا گہوارہ بنایا جا سکاتا ہے ہم نے صراط مسقیم پہ چلنے کی بجائے ہم نے اپنے ازلی دشمن شیطان کے پیرو کار بن کر معاشرے میں بسنے والے انسانوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا رکھا ہے ہم نے اپنا پیٹ بھرنے کے لئے دوسروں کی زندگیوں کو موت کے دھانے پہ لا کھڑا کیا ہے سرعام موت دندناتی پھر رہی ہے اور ہنستے بستے گھر 1947کے واقعات کو ایک تسلسل کے ساتھ دھرا رہے ہیں نشہ کھلے عام شہر کی گلیوں اور بستیوں میں فروخت کرنے والے رقص کو زنجیر میں جکڑ کر ناچنے پر مجبور کرتے دکھائی دیتے ہیں تقسیم ہند کے بعد ضلع وہاڑی کی تحصیل بورے والہ کی76سالہ تاریخ کو یاد ماضی کی آنکھ سے بغور دیکھا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آئے گی کہ ایک سچا اورپکا ایماندار انسان مسلمان ہونے کے ناطے اگر اپنے کھلے گریبان میں جھانکیں توآپ کو شہر کے گلی کوچوں میں اتنی گندگی اور مٹی سے اٹی کھانے پینی کی اشیاء ہمارا منہ چڑا رہی ہیں انہیں دیکھ کا ہمارے دل میں ایک ہوک سی اٹھتی ہے اور آنکھوں سے حسرت کے آنسو رم جھم کی طرح روں دواں ہو جاتے ہیں ایماندار افسران بالا سے استدعا ہے کہ اس تحریر کے ذریعے روشن اور عیاں کیا جاتا ہے کہ کوئی ایسا فرشتہ صفت انسان جیسے چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار بن کر بازاروں کو دورہ کر ے تو ہزاروں نہیں لاکھوں انسان جو سسک سسک ،تڑپ تڑپ کر دھیرے دھیرے موت کے منہ میں جا رہے ہیں انہیں بچاکر ایک نئی زندگی دی جا سکتی ہے انہیں معاشرے میں ایک باعزت شہری بنا کر باعزت زندگی بخشی جا سکتی ہے کھانے پینے والے ہوٹل اور بیکرز پہ اندھا دھند مضر صحت اشیاء دھڑا دھڑ فروخت ہو رہی ہیں کوئی بھی پوچھنے والا درد دل نہیں ۔۔ محکمہ فوڈ پنجاب کے افسران اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف کاروائی کریں ہماری نوجوان نسل بے راہ روی کا شکار ہوکر اپنے بہتر مستقبل کی بجائے نشہ کی لت میں بے سد پڑے اپنے بھیانک انجام کی جانب بڑھتے چلے جا رہے ہیں خدارا اس ملک و قوم کے اچھے معمار بن کر ان موت کے سوداگروں سے انسانیت کی حفاظت کے لئے علم بلند کیا جائے تاکہ زہریلے مادہ سے تیار شدہ کھانے پینے کی اشیاء پاک صاف کر کے ایک اچھا اور اعلی آفیسر ہونے کا ثبوت دیں التما س ہے کہ بورے والا کی بستی بستی گلی گلی کوچے کوچے زہر بھی بکتا ہے انساں لٹتا اور مرتا ہے جسے عام زبان میں نشہ کہاجاتا ہے موت کے یہ سوداگرتو اپنی آخرت خراب کر ہی چکے ہیں لیکن یہ ہمارے ملک کے معماروں کا مستقبل بھی تباہ و برباد کرنے پہ تلے ہوئے ہیں اعلی حکام نشہ کے سوداگروں کے خلاف قانونی کاروائی کرتے ہوئے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لاکرہماری نوجوان نسل کے مستقبل کو محفوظ بنائیں ان ماؤں بہنوں بیٹیوں کا بھرپور ساتھ دیں جن کے بیٹے ،بھائی نشہ کی لعنت کا شکار ہوکر اپنا حال اور مستقبل داؤ پہ لگا چکے ہیں