ٹیکسلا سے لاپتہ ہونے والا کمسن بچہ عزیزاللہ جہانگیرہ کے پختونوں کی بدولت والدین تک پہنچ گیا۔

48
ٹیکسلا(اجمل بھٹی ) خدا خوفی یا انسانیت کا درد،نفسانفسی اور مادہ پرستی کے اس دور میں انسانیت سے پیار کرنے والے موجود،ٹیکسلا سے لاپتہ ہونے والا کمسن بچہ جہانگیرہ کے پختونوں نے انسان دوستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے غریب والدین تک پہنچادیامتاثرہ والدین فرشتہ صفت انسانوں کودعائیں دیتے رہے ۔تفصیلات کے مطابق نورافضل ساکن جمیل آباد گلی نمبر 6 ٹیکسلا کا کمسن بیٹا عزیزاللہ دوکان پر چیز لینے گیا تو اسے کوئی درندہ صفت انسان بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ لے گیا جہانگیرہ ضلع نوشہرہ پہنچ کر مذکورہ شخص کمسن عزیزاللہ کو جہانگیر خان مارکیٹ میں واقع شہزاد موبائل سنٹر پر لے گیا اور دوکاندار سے Qموبائل لیا اور بعد ازاں بچے کو یہ کہہ کر دوکان پر بٹھا دیا کہ میں یہ موبائل گھر دکھا کر آتا ہوں اور اس طرح وہ شخص بچے کو دوکان پر چھوڑ کرچلا گیا جب کافی دیر تک مذکورہ شخص واپس نہ آیا تو دوکان کے مالک شہزاد خان کو تشویش ہوئی اور انہوں نے موبائل یونین کے صدر میاں ارشد عرف میاں جی کو بلا لیا جانچ پڑتال کرنے پر پتہ چلا کہ بچے کو ٹیکسلا سے اغوا کر کے لایا گیاہے اور اس طرح خداترس اور انسانیت کا درد رکھنے والے میاں ارشد عرف میاں جی اور شہزاد خان کمسن بچے عزیزاللہ کو لے کر بیرئیر نمبر2پرآگئے جہاں بچے کا والد نور افضل ریڑھی لگاتا ہے ادھر بچے کے والدین کا رو رو کر براحال تھا اور وہ اس کی تلاش میں دربدر سرگرداں تھے کمسن عزیزاللہ کی بخیریت واپسی پر اس کے گھرانے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اوروہ فرشتہ صفت میاں جی اور شہزاد خان کو دعائیں دینے لگے اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانیت آج بھی زندہ ہے۔

Back to Conversion Tool