ڈالر کی بلند پرواز کیوں اور کیسے؟

81

تحریر (ڈاکٹر میاں احسان باری)

ڈالر کی قیمتوں میں اچانک اتنا زیادہ اضافہ پاکستانیوں کے لیے تو قیامت کا سا سماء بن گیا ہے۔
اچانک110سے118 روپے تک فی ڈالر قیمت ہوجانا محیر العقول بات تو ہے ہی مگر ظالم سامراجی اور یہودی طاقتیں اپنا کام دکھا گئیں ویسے ان کرپٹ بیورو کریٹوں اور حکمرانوں و ان کے ساتھیوں کی اربوں کی دیہاڑیاں لگ گئی ہیں جنہیں ڈالر کی اڑان کا پہلے پتہ تھاانہوں نے ڈھیروں ڈالرز جمع کیے اور اب اس کی مہنگائی ہو جانے پر راتوں رات کھربوں کمالیے ہیں سودی نظام کا خاتمہ مکمل کرکے اور کروڑوں روپے کک بیکس والے منصوبوں کے لیے سود در سود قرضے پاکستان نہ لے تو ڈالرز کی ہمیں خفیہ مار نہ پڑے راوی بتاتے ہیں کہ اچانک اضافہ بیرونی ادائیگیوں کی وجہ سے ہوا ہے صورتحال یہاں تک پہنچ چکی کہ اوپن پارکیٹ میں تو فاریکس ڈیلروں نے ڈالروں کا لین دین ہی بند کر ڈالا ہے۔ ویسے بھی ہمارے طلب و رسد کے نظام میں تفاوت ہی اتنا بڑھ چکا ہے کہ ڈالرز مہنگے ہو گئے ہیں سامراجیت ویہودیت کے علمبرداروں کی اس مار سے عوام جو کہ پہلے ہی مہنگائی اور غربت کی چکی کے دوپاٹوں کے درمیان پس رہے ہیں۔ ان پرانتہائی زیادہ مہنگائی اور ضروری اشیاء کی قیمتوں میں شدید ترین اضافہ ان کے لیے جان لیوا ثابت ہو گا ہمارے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں پہلے ہی شدید اضافہ ہوچکا اب مزید اضافہ سے زر مبادلہ کے ذخائر شدید دباؤ کا شکار ہو جائیں گے ایسا ہوجانا پاکستانیوں کے لیے قیامت خیز جھٹکا ہے ہمارے سبھی حکمرانوں نے اللے تللے و غیر ضروری کاموں و تعمیرات میں قرضے لیکراربوں ڈالرز جھونک ڈالے تھے ۔اب بیرونی قرضے ادا کرنا ہیں اس طرح سے ہمیں ہر ہفتے بیرونی قرضے و دیگر ادائیگیوں کی مدات میں 30کروڑ ڈالرزخرچ کرنے پڑ رہے ہیں ایسا بغیر کسی پلاننگ مشورہ کے دنیا کے غلیظ ترین و کافرانہ نظام سود در سود پر قرضوں کے لینے کی وجہ سے ہو رہا ہے ۔اب پٹرولیم و دیگر درآمدی اشیائے صرف اور دیگر مصنوعات منگوانے کے لیے مہنگی قیمتیں ادا کرنا ہوں گی پہلے ہی ہر ماہ کی آخری رات پٹرول کاجان لیوا بم دھماکہ عوام پر گرایا جاتا ہے جس سے تمام اشیاء بمع فروٹ سبزیاں وغیرہ تک کی بھی قیمت ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کی وجہ سے بڑھ جاتی ہے ۔نو دولتیے سود خور لٹیرے سرمایہ دار ٹرانسپورٹرز تیل مہنگا ہوتے ہی اپنے ہا ں دگنا تگنا اضافہ کر لیتے ہیں ہماری وزارت خزانہ و حکومت کی نااہلیوں بیوقوفیوں اور لٹیرا ذہنیت کی وجہ سے آئی ایم ایف ورلڈ بنک کی اقتصادی دہشت گردی نے تو ہمارا بھٹہ ہی بٹھا ڈالا ہے۔27اپریل کوموجودہ حکمرانی کے تقریباً 1ماہ خاتمہ سے قبل ہی نیا بجٹ پیش کرنے کا ڈھول بج چکا ہے “پلے نہیں دھیلہ تے کردی میلہ میلہ” اس لیے فوری طور پر سامراجی اسلام دشمن ممالک سے بھاری قرضے لینا ہو ں گے وگرنہ شدید خسارہ کے بجٹ کا اعلان قوم کو مایوسی و بے امیدی کی اتھاہ گہرائیوں میں پھینک ڈالے گا ویسے بھی حکمران بھکاری بنے ورلڈ بنک و آئی ایم ایف سے قرضے حاصل کرنے کے لالچ میں کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں ان کے تمام احکامات کی پابندی کو ہم لازم سمجھتے ہیں وہ جن جن اشیاء کی قیمتوں میں جتنا اضافہ کرنے کا حکم صادر کرتے ہیں ہم من و عن ویسا ہی کر ڈالتے ہیں ویسے ہم پہلے ہی امریکی دباؤ کے تحت آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کو تسلیم کرتے ہوئے اندرون خانہ معاہدہ کیے بیٹھے ہیں کہ قرضے لینے ہیں تو تین سال تک ان کی خواہشات کے مطابق پٹرولیم بجلی گیس و دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ہو گا مرکزی حکومت نے ہی نہیں بلکہ آپس میں دست و گریبان صوبائی حکومتوں نے چارونا چار ایسے اضافے کرنے پر انہیں قبول کرنے کی تابعداری کا معاہدہ کر رکھا ہے آپس میں گالی گلوچ اور ایکدوسرے کے کپڑے اتارنے والے سبھی لیڈرز ایسی باتیں عوام سے مخفی رکھے ہو ئے ہیں مگر عوام کی مہنگائی سے کھالیں اترنے کے لیے سبھی کا اتفاق ہے کسی جغادری سیاسی راہنما نے آج تک معیشت کو سنبھالنے اور غربت دور کرنے کے لیے کوئی تجویز تک نہیں دی کہ مال کھانے والوں کی زبانیں واقعی کند ہوجایا کرتی ہیں۔
سود کی لعنت سے ہم جان نہیں چھڑاتے مگر یہود و نصاریٰ اور سامراجیوں کی تابعداریاں کرنے میں عافیت محسوس کرتے ہیں کہ روزانہ خرچہ تو ان کی امدادوں سے ہی چلتا ہے ۔مہنگی تعمیراتی سکیموں میں اربوں ڈالر جھونک ڈالنے جیسے اوچھے حربے سے عوام کی قوت خرید کم ہو چکی دووقت کی نان جویں کو بھی ترس رہے ہیں حتیٰ کہ ڈوبنے اور جل بھُن مرنے کا رجحان بہت بڑھ چکا “ٹھڈ نہ پئیاں روٹیاں تے سبھے گلاں جھوٹیاں”
جی ڈی پی کے تناسب سے جاری حسابات کا خسارا گذشتہ آٹھ سالوں میں سب سے زیادہ رہا ہے پہلے ہی بیرونی قرضوں میں شدید اضافہ ہو چکافوری مزید قرضے لیے گئے تو ڈالر کی مزید اڑان آسمانوں کو چھونے لگے گی کچھ سوجھ نہیں رہا لازمی امر ہے کہ دکھی بھوکے ننگے طبقات کے لوگ اٹھیں گے اوراللہ اکبر کی تحریک برپا کرکے ظالم جاگیرداروں کرپٹ وڈیروں،سود خور نودولتیوں اورناجائز منافع خور صنعتکاروں کو خدا کی کبریائی کے متبرک ترین نعرے اللہ اکبر لگاتے ہوئے انہیں انتخابات میں شکست فاش سے دو چار کر دیں گے ۔ملک اسلامی فلاحی مملکت میں تبدیل ہو کر آئین کی دفعہ 48/Bکے تحت بنیادی ضروریات زندگی گیس بجلی ،صاف پانی اعلیٰ سیوریج سسٹم تعلیم علاج انصاف مفت مہیا ہو گامہنگائی غربت جیسے عفریتوں سے نجات کے لیے کھانے پینے کی اشیاء 1/3اور ہمہ قسم تیل1/2قیمت پر مہیا ہو گا ۔اللہ اکبر کی برکتوں اور عالم اسلام کی غیر سودی امداد سے ہمہ قسم مزدوروں و دیہاڑی داروں کو ایک تولہ سونا کی قیمت کے برابر ماہانہ معاوضہ ملے گاسودی ناسور کو دفناتے ہی خدا کی رحمتوں ،برکتوں کا مزید نزول شروع ہو گا۔