عزم نو کی ضرورت

30

تحریر۔۔۔ ڈا کٹر عبد ا لمجید چو ہد ر ی
تئیس ما رچ1940کولا ہو ر کے منٹو پا ر ک مو جو دہ ا قبا ل پا ر ک میں آ ل ا نڈ یا مسلم لیگ کے تین روزہ سا لا نہ ا جلا س کے ا ختتا م پر وہ تا ر یخی قر ا ر داد منطو ر ہو ئی کی گئی جس کی بنیا د پر مسلم لیگ نے پر مسلم لیگ نے بر صغیر میں مسلما نو ں کے ا لگ و طن کے حصو ل کے لیے تحر یک شر و ع کی 23ما ر چ1940مسلم لیگ پا کستا ن اور بر صغیر کے مسلما نو ں کی تا ر یخ کا سنہر ی دن ہے ا س روز بر صغیر کے کو نے کو نے سے ا یک لا کھ سے ز ا ئد مسلما نو ں نے ا س سا لا نہ ا جلا س میں شر کت کی اور جو قر ا ر داد منظو ر کی جسے قر ا ر داد لا ہو ر یا قر ا ر داد پا کستا ن کے نا م سے یا د کیا جا تا ہے ا سی قرار داد کی بنیا د پر تحر یک جو شر و ع ہو ئی سا ت بر س کے بعد 14ا گست 1947کو پا کستا ن معر ض و جو د میں آ یا قا ئد ا عظم کی ر ر ہنما ئی میں سر فر و شا ن و جا ن نثا ر ا ن ا سلا م نے ا س و طن کے حصو ل کے لئے ا پنا تن ، من د ھن قر با ن کر دیا ا نہو ں نے آ ز ا د ی کے چر ا غ خو ن جگر سے جلا ئے ا س ملک کے حصو ل کے لئے ما ؤ ں نے ا پنے بیٹے قر با ن کئے بہنو ں نے بھا ئی بینٹ چڑ ھا ئے بیو یو ں نے ا پنے سہا گ لٹا ئے اور ننھے منے بچو ں ا پنے با پ و طن کے نا م پر قر با ن کر د یئے غر ضیکہ ہم نے ا پنے خو ن کے د یپ جلا کر ا س ا یک و طن کی بنیا د ر کھی ا یک ا یسا و طن جو فر دو س سے ز یا دہ حسین ہے جس کے نظا ر و ں میں جنت کی بہا ر و ں کا حسن ہے اور جس کی ز مین کو فلک کی ہمسر ی کا د عو ی ہے آ ج پا کستا ن ا یک مسلمہ حقیقت بن چکا ہے اور نظر یہ پا کستا ن محض مجذو ب کی بڑ اور دیو ا نے کا خو ا ب نہیں بلکہ سنگ و خشت کا پیر ہن پہن چکا ہے مگر د شمن نے ا س حقیقت کو دل سے تسلیم نہیں کیا وہ مو قع کی تلا ش میں ہے اور چا ہتا ہے کہ ا س و طن عز یز کو تا خت و تا ر ا ج کر د ے لیکن و طن کے ر کھو ا لے غا فل نہیں وہ ا پنے با زو ؤ ں میں ا تنی ہمت اور قو ت ر کھتے ہیں کہ ا س آ نکھ کو پھو ڑد یں جو ا س ا ر ض مقد س کی طر ف نظر بد سے د یکھے یہ و ہ پا کستا ن ہے جس کی بنیا د و ں میں ہما ر ی ما ؤ ں ، بز ر گو ں ، بھا ئیو ں اور بہنو ں اور بیٹیو ں ، بیٹو ں کا خو ن شا مل ہے اور ا ن کی جا نو ں کا نذر ا نہ ہے مگر ا فسو س صد ا فسوس ا گر ہم آ ج پا کستا ن کو د یکھیں تو ہر طر ف ا فر ا تفر ی کا عا لم ہے پا کستا ن میں عو ا م نما ئند ے جو عو امی نما ئند ے منتخب ہو کر پا ر لیمنٹ میں پہنچتے ہیں ان سے ا ن کو منتخب کر نے و ا لی عو ا م کو کیا فا ئد ہ پہنچتا تو ا گر غو ر کر یں تو آ پ د یکھیں گے کہ فا ئد و ں کے حو ا لہ سے عو ا م کے منتخب نما ئند ے ز یا دہ خو ش بخت نظر آ تے ہیں عو ا م کے فا ئد ہ ہو تو یہ لو گ آ پ کو ا کھٹے نظر نہیں آ ئے گے لیکن ا گر ا ن کے ذ ا تی مفا د ا ت کا معا ملہ ہو تو یہ لو گ جو ا پنی تقار یر اور بیا نا ت سے ا یک دو سر ے کو غیر مہذ ب ا لقا با ت سے نو ا ز نافخرسمجھتے ہیں آ پس میں شیر و شکر نظر آ ئیں گے و طن عز یزمیں ذ ا تی مفا دا ت کے لئے ر ا ہیں نکا لنے کو قو می مفا ہمتی آ ر ڈیننس کہا جا تا ہے یکم جنو ر ی 1986ء اور ا سی طر ح 12 ا کتو بر 1999 ء میں بھی آپ کو قو می مفا ہمتی آ ر ڈیننس ا ن آر ڈیننس کا اصل نا م ذ ا تی مفا ہمتی آ ر ڈ یننس ہو نا چا ہئے جس سے معا فی کے پر وا نے ملے ا ن لو گو ں کو جو کر پشن ، خو رد بر د ،قتل و د ہشت گر د ی سمیت د یگر جر ا ئم میں ملوث تھے ا یسے لو گو ں کو عو ا م کو لو ٹنے کا دو با ر ہ مو قع فر ا ہم کیا گیا جب کہ پا کستا ن ا س لئے بنا یا تھا کہ غر بت اور ظلم کے ستا ئے ہو ئے مسلما ن سکھ کی ز ند گی بسر کر سکیں غر یب عو ا م کو کبھی رو ٹی کپڑا مکا ن کبھی تبد یلی اور کبھی ووٹ کی عز ت کے د ل فر یب نعر ہ لگا کر عو ا م کو د ھو کہ د یا جا تا ہے لیکن پا کستا ن کے در و ا زے پر خو ش بختی د ستک دے ر ہی ہے چین پا کستا ن میں سی پیک کے تحت ہو نے وا لے منصو بو ں میں 51بلین ڈا لر کی سر ما یہ کا ر ی کر رہا ہے یہ سر ما یا کا ری چا ر طر حکے منصو بو ں میں کی جا نی ہے اور یہ سر ما یہ کا ر ی 2030ٗٗٗٗٗ ء تک مکمل ہو گی ز مینی حقا ئق کو نظر ا ند ا زکر نا اور ا پنی ذ مہ دا ر یو ں سے غا فل ہو نا ہما ر ی سا لمیت کے لئے بھی خطر ہ ہو سکتا ہے چین اور پا کستا ن کو کسی بھی زا و یے سے د یکھیں تو حقیقت سا منے ہے کہ پا کستا ن اور چین دو نو ں مما لک میں صر ف ا یک چیز مشتر ک ہے کہ دو نو ں مما لک ا یٹمی طا قت ہیں اور پا کستا ن اور چین کی ا فو ا ج ا نتہا ئی ا علی پا ئے کی ہیں حقا ئق بتا تے ہیں کہ با قی شعبو ں میں چین کو پا کستا ن بر تر ی حا صل ہے چین پا کستا ن میں سی پیک کے کے تحت ہو نے و ا لی سر ما یہ کا ر ی کے ثمر ا ت سے مستفید ہو نے کے لئے اور اپنی ملکی سا لمیت کے ا ستحکا م کے لئے ہمیں ا جتما عی اور ا نفر ا دی ذمہ دا ر ی کا مظا ہر ہ کر نا ہو گا ہما ر ی ا فو ا ج د ہشت گر ی کے مکمل خا تمے کے لئے کو شا ں ہے اور پا ک ا فو ا ج کا ا س سلسلہ میں کا م قا بل تحسین ہے کیو نکہ یہا ن ا من نہیں ہو گا و ہا ں بیرو نی سر ما یہ کا ر ی تو دور کی با ت لو کل سر ما یہ کا ر ی بھی نہیں ہو تی ا ا پنی ملکی سا لمیت اور ا ستحکا م کو یقینی بنا نے کے لئے ہمیں ا پنے لو کل صنعتی ادارو ں کو مر ا عا ت اور ز یا دہ سے ز یا ہ سہو لیا ت د ینا ہو ں گی تا کہ غیر ملکی صنعتی ا دا رے ہما ر ی معیشت پہ غا لب نہ آ سکیں ہمیں ا پنی لیبر فو ر س کو ا س قدر ٹر ینڈ اورہنر مند کر نا ہو گا کہ و ہ بین ا لا قو ا می میعا ر کی چیز یں بنا سکیں ا ن سب حقا ئق کے سا تھ ہما ر ے جمہو ر ی سیا ست دا نو ں کو بھی چا ہیئے کے عوا م کو د ھو کہ د ینا چھو ڑ دیں خد ا کے لئے و طن عز یز پہ ر حم کر یں لیکن و ہ ہو تا نظر نہیں آ تا کیو نکہ جس نظا م میں پا ر ٹیو ں کو ذا تی جا گیر کے طو ر پر چلا یا جا تا ہو اور سیا ست کو خد مت بر ا ئے دو لت سمجھا جا تا ہو اور کر و ڑو ں رو پے کے پا ر ٹی فنڈلے کر دو لت مند لو گو ں کو ٹکٹ جا ر ی کیے جا تے ہو تو ا ن لو گو ں سے آ پ کیا تو قع ر کھیں گے تو ا ن کی ا و لین تر جیح ا پنی لگا ئی ہو ئی ر قم کو دو گنا کر نا نہیں ہو گا ہر آ د می کے لئے نظا م کو ا یسا بننا ہو گا کہ دو لت مند و غر یب کے لئے بر ا بر ہو ہمیں ا پنا ما ضی حا ل اور مستقبل نظر ا ندا ز نہیں کر نا چا ہیے کیو نکہ جو قو م ا پنے ما ضی پر لا علمی کے نقا ب ڈا ل دے اور حا ل میں سو ئی ر ہے تو ا س کے لئے مستقبل کے ر ا ستے تا ر یک ہو جا تے ہیں ا س لئے ہمیں بھی آ ج د یکھنا ہے کہ ہم نے ما ضی میں کیا کھو یا اور کیا پا یا ہمیں عز م نو کے سا تھ آگے بڑ ھنا ہے تا ر یخ ہمیں بتا تی ہے کہ جس قو م نے سعی وکو شش تر ک کر کے تن آ سا نی کو ا پنا شیو ہ ز ند گی بنا لیا وہ یو ں مٹ گئی جیسے خز ا ں د ید ہ پتا در خت سے گر تا اور ہو ا کے دو ش پر لڑ ھکتا پھر تا ہے اوروہ قو میں جنہو ں نے عز م نو سے ا پنے خو ن جگر سے چر ا غ رو شن کئے اور ا پنے ا عما ل کی خو بی کو د شمنو ں سے منو ا یا جنہو ں نے ا پنی تا ر یخ خو د بنا ئی آ ج بھی ا ن کا ڈ کر عز ت و ا حتر ا م سے کیا جا تا ہے تئیس ما ر چ1940کو بھی 23 ما ر چ کا د ن آ یا تھا اور ا ب بھی ما ر چ کا مہینہ ہے فر ق صر ف یہ ہے ا س وقت قو م نے ا یک ا لگ و طن کے لئے کو شش کی اور قو م کا میا ب ہو ئی اور آ ج ملک کو عزم نو کے سا تھ ا یک قو م کی ضر و ر ت ہے