وزیراعظم کو فریادی نہیں کہا، چیف جسٹس

23

لاہور: (فلک نیوز) کارڈیالوجی کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں چیف جسٹس نے کہا کہ میں نے وزیر اعظم کو فریادی نہیں کہا، انشااللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ جب ایک صحافی نے ان سے سوال پوچھا کہ ایسا لگتا ہے کہ آپ جج نہ ہوتے تو ڈاکٹر ہوتے جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی والدہ کی بیماری کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔

کارڈیالوجی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ جب مجھے یہاں سے دعوت آئی تو میں نے سوچا کہ یہاں جاوں کہ نہیں، پھر میں نے سوچا کہ یہی تو وہ جگہ ہے جہاں صحت کے لیے اپنا پیشن دکھا اور اظہار کر سکتا ہوں، سب آپ کو مسیحا کہتے ہیں اور یہی آپکی مغفرت اور روزگار کا سبب ہے۔

اپنے خطاب میں چیف جسٹس کا یہ بھی کہنا تھا کہ چند روز قبل سپریم کورٹ کے ایک جج کی بیٹی حادثہ کا شکار ہو کر اسپتال رہیں تو بل ایک کروڑ سے زیادہ تھے ،مجھے انتہائی تکلیف ہوئی کہ علاج اس قدر مہنگا ہے ، ہمیں ایسے اسپتال ہرگز نہیں بنانے جہاں لوگوں کا گوشت اتارا جا رہا ہو، ادویات کی قیمتیں مناسب ہوں سرمایہ کمائیں مگر اتنا کہ جس سے کم از کم مناسب پروفٹ ہو ،ڈائلیسس اور ہیپاٹائیٹس کے علاج پر بھی کمیٹی قائم کرنے کا ارادہ ہے

چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے ایگزیکٹو کے کسی بھی امور میں مداخلت کا کوئی شوق نہیں، صرف ایک ہی خواہش ہے کہ صحت اور عوام کے حقوق کے حوالے سے کام کر سکیں، عمر کے اس حصے اور ایسے عہدے پر ہوں کہ جہاں صرف خدمت کا جذبہ ہے، امور صحت میں بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں ، میری اردو بھی اس قدر بہتر نہیں ہے کیونکہ دن بھر فیصلے انگریزی میں لکھنا ہوتے ہیں ، آپ سے اپنے دل سے بات کی ہے۔

اسی دوران ایک صحافی نے سوال پوچھا کہ ایک منتخب وزیر اعظم کو فریادی کہنا کیا درست ہے جس کے جواب میں چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔ ایک اور سوال میں پوچھا گیا کہ چیف جسٹس ایسا لگتا ہے کہ آپ جج نہ ہوتے تو ڈاکٹر ہوتے جس پر انہوں نے جواب دیا کہ میں نے اپنی والدہ کی بیماری کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار یہ بھی کہنا تھا کہ حالات کے آگے نہ کبھی میں بے بس ہوا نہ ہی کبھی رکا ، تعلیم اور صحت دو ایسے پہلو ہیں کہ جو قوموں کی ترقی اور انکے باقی ہونے کا سبب ہے، تعلیم ہمار بنیادی حق تو ہم نے کہا مگر اس پر عمل نہیں ہوا، اگر ہم نے ترقی کرنی ہے تو تعلیم کے نظام کو بہتر کرنا ہو گا، ابھی ہمارا لٹریسی ریٹ کوئی قابل فخر نہیں، ہمیں صرف اچھی تدریس گاہیں ہی نہیں بلکہ ہمیں بہترین استادوں کی بھی ضرورت ہے۔ جسٹس ثاقب نثار کا مزید کہنا تھا کہ تعلیم کے شعبہ میں ڈاکٹرز کو بھی اپنی پریکٹس کے ساتھ ساتھ وقت اور اہمیت دینا ہو گی ، کارڈیالوجسٹ میں جزل اظہر کیانی اور مسعود الحسن صاحب جیسے بہت سے بہترین نام موجود ہیں ، آپ سب بھی اپنے جونیئرز کو بہتر تعلیم دیں، ہم سب ہی کاغذ پر تو بہترین کام کرتے ہیں مگر ہمیں عملی طور پر بھی کام کرنا ہو گا تاکہ فائدہ اٹھا سکیں۔