ملک میں کام کرنے والوں کو عدالت میں گھسیٹنا روایت بن گئی ہے، وزیراعظم

12

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملک میں کام کرنے والوں کو عدالت میں گھسیٹنا روایت بن گئی ہے لیکن جس ملک میں سیاستدان کی عزت نہیں ہوگی وہ ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ 

ڈیرہ غازی خان میں تقریب سے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے صرف وقت ضائع کیا اور کوئی کام نہیں کیا، 15 سال کی خرابیاں 5 سال میں دورنہیں ہوتیں لیکن اگر کسی نے مسائل حل کرنے کی کوشش کی تو وہ نواز شریف ہیں، مسلم لیگ (ن) کو پانچ سالوں میں کام نہیں کرنے دیا گیا، کبھی دھرنے ہوئے کبھی عدالتوں میں گھسیٹا گیا، ملک کے لئے کام کرنے والوں کو عدالت میں گھسیٹنا روایت بن گئی ہے، سیاسی استحکام نہ ہونے تک ملک ترقی نہیں کرتا، جس ملک میں سیاستدان کی عزت نہیں ہوگی وہ ملک ترقی نہیں کرسکتا۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ عدلیہ کی عزت کی ہے، سیاست کے فیصلے پولنگ اسٹیشنوں میں ہوتے ہیں اور ووٹ کرتے ہیں عدالتیں نہیں، اس لئے سیاست کے فیصلے عوام پر چھوڑ دیں کیونکہ عوام کے فیصلے درست ہوتے ہیں، عدالت کے فیصلوں پر اپیل ہوتی ہے، 2008 میں عوام نے فیصلہ کیا اور آصف زرداری نے جو کیا وہ عوام کے سامنے ہے،اسی لیے 2013 میں عوام نے انہیں مسترد کردیا۔ ہم نے کبھی کسی کے بارے میں برے الفاظ استعمال نہیں کئے، گالیاں دینے والے گالیاں دینا جانتے ہیں ان سے خیر کی توقع نہ رکھیں، عوام اس کا جواب پولنگ اسٹیشن پردیں گے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا لوگ کہتے ہیں کہ مجھےچیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے معاملے پرمداخلت نہیں کرنی چاہیے، چیئرمین سینیٹ بیان دیں کہ کسی سینیٹر کو نہیں خریدا، کیا ہمارے سینیٹرز وہ لوگ ہونے چاہیئں جوپیسے دے کر سینیٹ میں آئیں۔ جس ایوان کی بنیاد کرپشن پرہو،کیا وہ ایوان پاکستان کے مفاد کیلیےکام کرسکتا ہے، میں آخری دم تک مداخلت کرتارہوں گا کیونکہ اس برائی کا خاتمہ جہاد سمجھتا ہوں، ہمیں اس برائی کا ووٹ کے ذریعے مقابلہ کرنا ہے، ہم اس دو نمبر سیاست کے خلاف جنگ  کرنا چاہتے ہیں، آج اس برائی کا خاتمہ نہیں کیا تو یہ جڑیں کھوکھلا کردیں گی، ووٹ کی عزت کیلیے مسلم لیگ (ن) کا ساتھ دیں۔