مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی درندگی، 13 نوجوانوں کو شہید کردیا

17

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 13 نوجوانوں کو شہید اور 100 سے زائد کو زخمی کردیا، جب کہ ایک جھڑپ کے دوران 3 بھارتی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ قابض فوج نے ضلع اسلام آباد اور شوپیاں میں آپریشن کے دوران 13 نوجوانوں کو شہید کردیا۔ بھارتی فوج نے آپریشن کے دوران 12 کشمیری نوجوانوں کو شوپیاں جب کہ ایک کو ضلع اسلام آباد کےعلاقے دیالگام میں شہید کیا۔ فائرنگ سے 100 سے زائد افراد زخمی بھی ہوگئے۔ شہید نوجوانوں میں جان محمد لون، زبیر احمد بٹ، رؤف بشیر خندے، یاور ایٹو، ناظم نذیر، عادل ٹھوکر، عبیر شفیع ملا، رئیس ٹھوکر، اشفاق ملک، زبیر تورے اور مشتاق احمد ٹھوکر شامل ہیں۔

ان میں سے متعدد نوجوانوں کو گرفتار کرنے کے بعد جعلی مقابلوں میں ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔ تاہم بھارتی پولیس نے دعویٰ کیا کہ یہ نوجوان بھارتی فوج سے جھڑپ کے دوران مارے گئے اور ان کا تعلق عسکریت پسند تنظیم حزب المجاہدین سے تھا جبکہ شہید نوجوانوں میں اعلیٰ مجاہد کمانڈرز بھی شامل ہیں۔ جنوبی کشمیر کے علاقے کچدورا میں ہونے والی جھڑپ میں 3 بھارتی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی بھی ہوگئے۔ ضلع اسلام آباد میں بھارتی پولیس نے ایک کشمیری نوجوان کو گرفتار بھی کرلیا ہے۔

کشمیری نوجوانوں کے قتل پر حریت قیادت نے دو روزہ ہڑتال کا اعلان کردیا ہے۔ بھارتی مظالم اور بے گناہ نوجوانوں کی شہادت کے خلاف کشمیری عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین نے آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرے لگائے۔ بھارتی پولیس اور فوج نہتے مظاہرین پر ٹوٹ پڑی اور پیلٹ گنز سے فائرنگ کی جس سے 100 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔

زخمیوں میں ایسے نوجوان بھی شامل ہیں جنہیں آنکھوں پر گولیاں لگی ہیں جس کی وجہ سے ان کی بینائی بھی ضائع ہونے کا خطرہ ہے۔ کٹھ پتلی حکومت نے لوگوں کو احتجاج سے روکنے کے لیے اننت ناگ اور شوپیاں میں انٹرنیٹ اور ٹرین سروس معطل کردی۔