لندن نے جرائم میں نیویارک کو پیچھے چھوڑ دیا

25

برطانوی دارالحکومت لندن نے جرائم  کی شرح میں امریکا کے سب سے بڑے شہر نیویارک کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق لندن میں قتل و غارت گری، فائرنگ، چاقو کے حملوں، جنسی درندگی اور دیگر جرائم کی شرح نیویارک سے بڑھ گئی۔ رواں سال کا ماہ فروری لندن کے لیے خونریز ثابت ہوا جہاں کی  سڑکیں ملکی و غیرملکی افراد کے لیے مقتل بن گئیں۔

لندن میں صرف ایک ماہ کے دوران فروری میں 15 افراد کو فائرنگ اور پرتشدد واقعات میں قتل کردیا گیا اور یہ سلسلہ تاحال برقرار ہے، مختلف واقعات میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 22 ہوچکی ہے جب کہ نیویارک میں ماہ فروری کے دوران  پرتشدد واقعات میں 14 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔

پولیس کی جانب سے جاری کردہ اعداد وشمار سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران لندن میں ہونے والے پرتشدد واقعات کی بڑھتی ہوئی شرح نے نیویارک کو جرائم کے مدمقابل پیچھے چھوڑ دیا اور اسکاٹ لینڈ یارڈ کے لیے جرائم کنٹرول کرنا ایک چیلنج بن گیا ہے۔

لندن اور نیویارک کی آبادی قریباً 80 لاکھ ہے، لندن میں پولیس اہلکاروں کی تعداد 32 ہزار جب کہ نیویارک میں پولیس اہلکاروں کی فورس 40 ہزار ہے اور دونوں شہروں کی پولیس کا سالانہ بجٹ 3 ارب پاؤنڈ کے لگ بھگ ہے۔

لندن کے میئر صادق خان کے ترجمان نے جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے باوجود شہر کو اب بھی دنیا کا محفوظ ترین شہر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جرائم کی شرح کم سے کم کرنے اور شہریوں کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کرنے کے لیے سرگرداں ہیں۔